مولانا طارق جمیل کا عاصم جمیل


مولانا طارق جمیل سے متعلق میرے خیالات کسی سے مخفی نہیں ہیں اور کسی بھی شخص سے نظریاتی اختلاف رکھنا میرا انفرادی حق ہے، لیکن اس اختلاف کا قطعاً یہ مقصد نہیں ہے کہ میں ان سے کوئی عداوت، نفرت یا بغض رکھتا ہوں بلکہ اختلاف و تنقید تو زندہ معاشروں کی خوبصورتی ہوا کرتے ہیں۔

مولانا کے فرزند کی دردناک موت ان کے اور ان کی فیملی کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور اس صدمے کی حدت و شدت مولانا اور اس کی فیملی کے علاوہ کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔

اور نا ہی اس صدمے کی تکلیف اور درد کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
جوان موت کو اپنے سامنے دیکھنا، غسل دینا اور اس بات کا کرب
” کہ اب یہ چہرہ دیکھنے کو کبھی نہیں ملے گا“

ایک دکھی اور نڈھال باپ کو چیر کے رکھ دیتا ہے، اس کی میت کو اٹھانا اور لحد میں اتارنے کے بعد مٹی ڈالنے کا عمل کتنا دردناک ہوتا ہے اس کیفیت کو وہی باپ محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنا نوجوان بیٹا کھویا ہو۔ مولانا اور ان کی فیملی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت ملے، ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

یوسف جمیل کے ایک ویڈیو پیغام کے مطابق عاصم بچپن سے ہی ذہنی عارضے میں مبتلا تھا اور زیادہ تر ڈپریشن میں رہتا تھا۔ مسلسل علاج و معالجے کے علاوہ کچھ عرصہ سے اسے الیکٹرک شاک بھی لگائے جا رہے تھے۔ مضمون لکھنے کا مقصد مولانا سے تعزیت کرنا اور دوسرا مقصد ذہنی بیماریوں کے متعلق آگاہی دینا تھا ” کہ ذہنی بیماری سب سے خطرناک ہوتی ہے، جسمانی بیماریوں کا تو مختلف آلات کی مدد سے آسانی سے پتا چلایا جا سکتا ہے لیکن ذہنی عارضے کا سراغ لگانا قدرے مشکل اور انتہائی پیچیدہ عمل ہوتا ہے“ المیہ یہ ہے کہ ہم ایسے معاشروں میں پہلی بات تو ذہنی بیماری کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا جاتا یا اسے ”سوشل ٹیبو“ سمجھا جاتا ہے اور اگر کسی کو ذہنی عارضہ لاحق ہو بھی جائے تو اسے کسی پروفیشنل کے پاس لے جانے کی بجائے کسی جھاڑ پھونک یا تعویذ گنڈا کرنے والے کے پاس لے جایا جاتا ہے جس سے مریض کی ذہنی حالت سنبھلنے کی بجائے زیادہ خراب اور پیچیدہ ہو جاتی ہے اور آخر میں اسے پاگل قرار دے کر ایک طرح سے لاعلاج سمجھتے ہوئے الگ کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں ذہنی بیماریوں سے آگاہی نا ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مریضوں کو بچے پتھر وغیرہ بھی مارنے لگتے ہیں۔ مطلب گھر میں ایسے شخص کو باندھ کر رکھا جاتا ہے جبکہ بازاروں میں یہی شخص بچوں کے لیے تفریح کا سامان بن جاتا ہے۔

ہمارے ارد گرد کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ڈپریشن، اینگزائٹی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں مگر معاشرے اور اپنی شرم کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اور اپنا دکھ کسی کو بھی بتا نہیں پاتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بندہ ایک دن خودکشی کر لیتا ہے۔

” خود کشی کا عمل تو اس کی انتہائی بے بسی کا حتمی نتیجہ ہوتا ہے لیکن کڑوی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو ابدی نیند سلانے سے پہلے نا جانے کتنی بار مر چکا ہوتا ہے“

خدارا ذہنی بیماریوں کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے شخص کے ساتھ اپنائیت سے پیش آئیں جو ذہنی دباؤ یا کسی ذہنی عارضے کا شکار ہو تاکہ وہ بے تکلفی اور اپنائیت میں آپ کے ساتھ اپنا دکھ سانجھا کر سکے۔

یقین مانیں ہمارے قرب و جوار میں ایسے بہت سارے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر روز بروز ختم ہو رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ خود کو ختم کر لیتا ہے۔

ذہنی بیماریوں کا حقیقت میں وجود ہے اور آج کے دور میں ادویات کے علاوہ بھی درجنوں طریقے موجود ہیں جن کی بدولت اس تکلیف کو دھیرے دھیرے کم کیا جا سکتا ہے۔ نفسیات کے ڈاکٹرز اور سائیکوتیھراپیسٹ ادویات اور نفسیاتی سیشن کے ذریعے سے اس کا علاج کرتے ہیں۔

ذہنی بیماریوں کو میڈیکل گراؤنڈ پر ہی جانچا جانا چاہیے باقی جو کچھ بھی ہے مثلاً ذکر اذکار یا روحانی بندوبست وغیرہ یہ سب ایمان و یقین کی حد تک تو آزمائے جانے میں کوئی حرج نہیں مگر ریالٹی کی سطح پر میڈیکل علاج کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔

چونکہ سنجیدہ قسم کے ذہنی بگاڑ یا خلفشار دعا و مناجات یا روحانی بندوبست کو قبول کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں کیونکہ ذہن بیماری کی وجہ سے ایک طرح سے چیزوں کو پراسس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ سمجھ لینا کہ فلاں بندہ تو بہت امیر یا باوسائل ہے اسے بھلا ذہنی عارضہ کیسے لاحق ہو سکتا ہے؟ اس قسم کا تصور یا سوچ بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہے۔ دولت اور کثرت وسائل انسان کے ہر دکھ کا مداوا یا علاج نہیں ہو سکتے، مینٹل ڈس آرڈرز پیچیدہ مسائل ہوتے ہیں اور یہ خلفشار کسی بھی وجہ سے جنم لے سکتے ہیں۔

آخر میں بس اتنی سی گزارش کرنا تھی کہ عاصم جمیل کی موت پر حلال و حرام کی بحث یا اپنے طور پر مختلف طرح کی قیاس آرائیاں کرنے سے مولانا کا دکھ بڑھ تو ضرور سکتا ہے کم نہیں ہو سکتا۔ اس کی بجائے مولانا کا دکھ سانجھا کرنے کی کوئی ترکیب کرنی چاہیے۔ چونکہ حادثہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، نظریاتی اختلافات پھر کبھی سہی اس وقت درد بانٹنے کی ضرورت ہے۔ آخر انہوں نے اپنا جگر گوشہ کھویا ہے۔

سیکولر اور ایک انسان دوست کی حیثیت سے میرا یہ ماننا ہے کہ انسانی رشتوں کی تکریم سب سے اوپر ہے، تمام مذاہب اور نظریاتی اختلافات انسانیت سے بڑھ کے نہیں ہو سکتے۔ چونکہ ہم سب اسی دھرتی ماں کے بچے ہیں، نسل، رنگ، مذہب یا قوم سب حادثاتی چکر ویو ہے ہمارا انتخاب نہیں ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں نا کہ انسانیت سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS