نواز شریف کی واپسی اور انتخابات
بالآخر میاں نواز شریف ایک اور جلاوطنی ختم کر کے مملکت خداداد پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کی واپسی میں حائل کچھ پیچیدگیوں کا جو خدشہ تھا اور جس کا اظہار سابقہ چیف جسٹس بندیال کے دور میں وہ خود بھی کرتے رہتے تھے وہ ایک کے بعد ایک دور ہوتی چلی گئیں اور اب وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ بھرپور طریقے سے اپنی کمپین چلا سکیں اور اپنی جماعت کی کم ہوئی مقبولیت کو ازسر نو استوار کر سکیں۔ ان کے لئے اس وقت جلسے جلوس ریلیوں وغیرہ کے لئے کوئی قدغن نہیں وہ مینار پاکستان میں بڑا جلسہ کر چکے ہیں جب کہ ان کے سب سے بڑے مخالف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جیل میں بند ہیں اور ان کی جماعت قیادت کے بغیر ہے اور نو مئی کے بعد کوئی جلسہ جلوس کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
پی ٹی آئی کے لیڈروں کا جماعت چھوڑنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ان میں سے کچھ مسلم لیگ نون میں بھی جا رہے ہیں اور زیادہ تر عمران خان کے پرانے ساتھی اور اب ان کے مخالف ہوئے جہانگیر ترین اور علیم خان کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس وقت جس طرح کے معاملات و حالات میاں نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو درپیش ہیں یہ ان کے لئے انتخابات میں جانے کا مناسب موقع بن سکتا ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن بھی جنوری کے اختتام پر الیکشن کروانے پر تیار نظر آ رہا ہے۔
تو کیا مسلمُ لیگ نون الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے تیار ہے اور وہ اس وقت ملک میں الیکشن خاص کر پنجاب میں جیت پائے گی۔ اس وقت تمام تر مسائل کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اپنے ووٹ بنک سے محروم نہیں ہوئی بلکہ کچھ تازہ سروے ہوئے ہیں ان میں پی ٹی آئی کی مقبولیت مزید بڑھ چکی ہے۔ مگر انتخابات میں اس کو الیکٹیبلز امیدواروں کی شدید کمی کا سامنا ہو گا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں امیدواروں کا یا تو بہت پیسے والا ہونا یا پھر بڑے خاندان سے تعلق رکھنے کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔
امیدواروں کو ووٹ مانگنے کے کیے بڑی بڑی گاڑیوں کے جلو میں جانا ہوتا ہے۔ تاکہ آس پاس ان کی دھاک بیٹھ جائے اور لوگ اس کو سپر مین سمجھیں جو الیکشن جیت کر ان کے مسائل حل کروا دے گا۔ مسلم لیگ نون کو اس بات کا فائدہ ہو گا۔ کہ اس کے امیدوار تو دبدبہ کے ساتھ مختلف برادریوں کو اپنی طرف مائل کریں گے مگر تحریک انصاف اس طرح کی کمپین نہیں چلا پائے گی۔ اس کا سارا انحصار نظریاتی ووٹ پر ہو گا۔ مگر کیا ان حلقوں میں جہاں جیت کے لئے ایک ایک لاکھ ووٹ درکار ہوتا وہاں تحریک انصاف جیت کی لائن کو چھو پائے گی۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق کوئی پارٹی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ اس دفعہ نواز شریف صاحب کو دو تہائی والا موقع نہیں ملنا بلکہ ان کو حکومت بنانے کے لئے کئی اتحادیوں کو ساتھ ملانا ہو گا۔ اس طرح کی مخلوط حکومت چلانے کے لئے نواز شریف کی بجائے شہباز شریف بطور وزیراعظم زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں جو سولہ ماہ تک اس طرح کی مخلوط حکومت چلانے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے بعض ذرائع یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف الیکشن کمپین ہی چلانے آئے ہیں بعد میں ان کے کیسز پھر ان کے آڑے آسکتے ہیں اور وزارت عظمی کا ہما شاید پھر ان کے چھوٹے بھائی کے سر پر بیٹھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کو ایک بڑا چیلنج اس وقت درپیش ہو سکتا ہے اگر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھل جاتی ہے اور یہ دونوں الیکشن کے بعد سیاسی اتحاد کر لیتے ہیں۔ اس لئے نواز شریف کو بھی یہی مشورہ دینا مناسب ہو گا کہ وہ پیپلز پارٹی سے اتنے فاصلے پیدا نہ ہونے دیں کہ یہ دوری کل کو ان کی حکومت بننے میں رکاوٹ بن جائے۔ اب ان الیکشن میں جانے کے لئے تحریک انصاف اس مشکل وقت میں کیا منصوبہ بندی کرتی ہے کہ ان کے امیدوار اپنی اپنی انتخابی مہم چلا پائیں ایک خبر کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی زیادہ ٹکٹ وکلا کو دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ان کے امیدواروں کو قانونی رکاوٹوں سے بچایا جا سکے اور وہ اپنے اپنے حلقوں میں موجود رہ پائیں۔
میاں نواز شریف، مریم نواز شریف اور مسلم لیگ نون کافی عرصہ سے اپنے لیے الیکشن میں لیول پلئینگ فیلڈ مانگتے آئے ہیں تو کیا وہ اپنے سیاسی مخالفین کو بھی لیول پلئینگ فیلڈ دینے کی بات کریم گے؟ کیونکہ سیاسی و معاشی استحکام اور ملک کی جمہوری ساکھ کے لئے ضروری ہے کہ تمام جمہوری جماعتوں کو الیکشن لڑنے کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔


