کشتی، پہلوانی اور لٹھ بازی
ہر سال دیسی مہینے اساڑھ 25، 26 اور 27 تاریخ کو بابا جی کا سالانہ عرس ہوا کرتا۔ اس میں پنجاب بھر سے تھیٹر، چڑیا گھر، عجائب گھر، سینما، مداری، شعبدہ باز، جادوگر اور دیگر فنکار آتے اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اپنے لیے روزی روٹی اور حاضرین کے لیے تفریح طبع کا سامان مہیا کرتے اُن دنوں عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی اور استاد گامن کے تھیٹر خصوصی شہرت رکھتے تھے۔ ان تھیٹر کے سامنے پلے بیک میوزک اونچے اونچے لکڑی کے تختوں کے اوپر ہیجڑے رقص کرتے یہیں پر ہی شائقین کے لیے ایک طرف ٹکٹیں فروخت ہو رہی ہوتیں۔
لوگ پانچ پانچ روپے میں ٹکٹ حاصل کر کے گیٹ سے تھیٹر کے اندر داخل ہوتے اور بلا جھجک جہاں جگہ ملتی وہیں زمین پر بیٹھ جاتے۔ اس زمانے میں ابھی لوگوں کی مختلف کلاسوں میں تقسیم نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے تھیٹر میں کسی بھی فرد کو پاک سر زمین پر بیٹھ کر تھیٹر سے لطف اندوز ہونے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جن لوگوں کے پاس ٹکٹ خریدنے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہ ہوتی۔ وہ تھیٹر کی باہر سے ہی مفتو مفتی سن گن لے لیا کرتے۔
کیوں کہ یہ تھیٹر اوپن ایر ہوا کرتے تھے۔ یہاں پر پیش کیے گئے پروگراموں کی آواز بآسانی باہر سنائی دیتی تھی۔ اس لیے تھیٹر سے باہر رہ جانے والے لوگ اسی پر اکتفا کرلیتے۔ آدھی رات تک کام ایسے ہی چلتا رہتا۔ اس کے بعد تھیٹر کے اردگرد لگائے گئے تنبو اٹھا دیے جاتے اور باہر رہ جانے والے لوگوں کو بھی تھیٹر سے محظوظ ہونے کے لیے دعوت عام دے دی جاتی۔ عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی اور استاد گامن کی شخصیت اس قدر جاندار تھی کہ یہ لوگ یہاں پر موجود ہزاروں کی تعداد میں ناظرین و سامعین کو سٹیج پر پیش کی جانے والی عشق و محبت کی لوک داستانوں کے سحر میں کچھ اس طرح جکڑ لیتے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا۔
کسی بھی قسم کی دھکم پیل شور و غوغا اور لڑائی جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لوگوں کو اس وقت ہوش آتا جب صبح کی اذان سے تھوڑا پہلے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا جاتا۔ عرس میں رنگا رنگ مٹھائیوں کی بیسیوں دکانیں ہوتیں۔ دور دراز سے آنے والے زائرین کے کھانے کے لیے عارضی طور پر ہوٹل قائم کیے جاتے۔ عورتوں کے بناؤ سنگھار کے سستے ساز و سامان کی فروخت کے لیے چھوٹی چھوٹی منیاری کی دکانیں لگائی جاتیں۔ اُن دنوں نیل پالش اور لپ اسٹک کے درجنوں شیڈ ابھی معرض وجود میں نہیں آئے تھے۔
اس کے باوجود منیاری کی ان دکانوں پر کنگھی، سوئیاں، کلپ، سرخی، پاؤڈر، چوڑیاں، کانوں کی بندے، پازیب ٹکے، انگوٹھیاں اور دوسری بہت سی ایسی ہی چیزیں ان کی توجہ کا مرکز بنتیں۔ ایک پیسے سے خریدی جانے والی لالی کی ایک ٹکیہ سے نہ صرف وہ لپ اسٹک کا کام لیتیں۔ بلکہ ان کو گالوں پر مل کر غازے کی ضرورت بھی پوری کر لیتیں اور بوقت ضرورت باقی ماندہ ٹکیہ کو پانی میں گھول کر اپنے بچے کو روشنائی بھی مہیا کر دیا کرتیں۔
عرس کے موقع پر کشتی، کبڈی، نیزہ بازی، گھڑسواری، کتوں کی دوڑ، کتوں کی لڑائی اور بیلوں کی دوڑ کے مقابلوں کا خصوصی اہتمام بھی کیا جاتا۔ جگہ جگہ مداری، شعبدہ باز، بازی گر اور مجمع لگانے والے لوگوں کو تفریح طبع کا سامان مہیا کر رہے ہوتے۔ عجائب گھروں کے سامنے ناقابل یقین باتوں کے بارے میں اعلانات ہو رہے ہوتے۔ دو دھڑ کا بچہ دیکھو، چھ ٹانگوں والی گائے دیکھو، مچھلی کے دھڑ والی عورت دیکھو، زندہ سانپ کھا جانے والا جنگلی دیکھو، گھوڑے کے سر والی بھینس دیکھو، ان اعلانات میں اس قدر تجسس ہوتا کہ زائرین کی اکثریت اس طرف کھینچی چلی جاتی۔
ایک طرف اعلان ہو رہا تھا کہ ایک آنے میں مولا کا رنگ دیکھو۔ دیکھنے والا بھی پچھتائے اور نہ دیکھنے والا بھی پچھتائے۔ سیدھے سادھے دیہاتی ایک آنے کا ٹکٹ لے کر اندر پہنچے تو وہاں ایک کالا بھجنگ حبشی الف ننگا ہو کر اپنے صندلی جسم کے ساتھ اپنے اعضائے رئیسہ و خفیفہ کی نمائش کر رہا تھا اور خوب گھوم گھوم کر لوگوں کو اپنا درشن کروا رہا تھا اور لوگ واقعی پچھتا رہے تھے کہ انہوں نے کیا دیکھنے کے لیے ایک آنے کی رقم ضائع کر دی۔ جب وہ یہ شو دیکھ کر باہر نکلتے تو وہاں کھڑے ہوئے لوگ ان سے دریافت کرتے کہ اندر کیا ہے۔ وہ مارے شرمندگی کے انہیں کچھ بتانے کی بجائے کہتے کہ خود اندر جا کر دیکھ لو اور اس طرح یہ ون مین شو بھی چلتا رہتا۔
فنِ پہلوانی اِن دنوں خوب مقبول تھا۔ زیادہ تر نوجوان نسل کے نمائندے شام کو اکھاڑے میں حاضری دیتے۔ کچھ لوگ جسم پر سرسوں کے تیل کی مالش کر کے خوب ڈنٹر پیلتے، بیٹھکیں نکالتے اور خوب ورزش کرتے۔ کچھ لوگ جسم پر مٹی مل کر اکھاڑوں میں کُشتی کیا کرتے۔ اس لیے عرس کے موقع پر کُشتیوں کے مقابلے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا۔ رنگ برنگے لنگوٹ پہنے صحت مند جسموں کے مالک پہلوان ناچتے کودتے اکھاڑے میں اترتے اور حریف کے ساتھ جوڑی کر کے اپنے اپنے داؤ پیچ آزماتے ہوئے کُشتی کا آغاز کر دیتے۔
ہر پہلوان کے حواری اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی اس کے حق میں نعرہ بازی کر کے اس کا حوصلہ بڑھاتے۔ بعض اوقات منصفین کی طرف سے کیے گئے جیت کے اعلان کو ہارنے والے پہلوان کے حواری تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے۔ اس سلسلہ میں کبھی کبھار یہ بحث و تکرار بڑھتے بڑھتے لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی اور لاٹھیاں چل جاتیں۔
دیہاتیوں کے لیے لٹھ بازی بھی ایک کھیل کی حیثیت رکھتی تھی۔ نوجوان لٹھ بازی کے داؤ پیچ بڑی دل چسپی سے سیکھا کرتے اور بعض لوگوں کو تو اس فن میں خصوصی مہارت ہوتی۔ وہ اتنی تیزی کے ساتھ لاٹھی چلاتے کہ تماشائی دنگ رہ جاتے۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ سامنے سے اُن پر لاٹھی کا وار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بیک وقت دو دو تین تین لوگوں کے وار بآسانی روک لیتے۔ لاٹھیاں چلنے کی صورت میں لٹھ بازی کے شوقین منچلے بھی میدان میں اترتے اور اکھاڑے کا میدان لٹھ بازی کے میدان میں تبدیل ہو جاتا۔ پورے میدان میں جگہ جگہ لاٹھیاں چل رہی ہوتیں اور اس بات کا تعین بھی مشکل ہو جاتا کہ کون سا لٹھ باز کس پارٹی کے ساتھ ہے اور تماشائی ان مقابلوں کو بھی اتنی ہی دلچسپی سے دیکھتے۔
جب کافی دیر کے بعد اس میدان کارزار کے سپاہی لڑتے لڑتے تھک جاتے تو اکھاڑے کے منتظمین کی معمولی سے کوشش سے ہی یہ لڑائی رُک جاتی۔ لڑائی کے اختتام پر معمولی زخمی ہونے والے کھلاڑی اپنے سروں سے صافے اتار کر خود ہی اپنے معمولی زخموں کی پٹی کر کے دوبارہ کشتیاں دیکھنے میں منہمک ہو جاتے۔ شدید زخمی کم ہی ہوا کرتے تھے۔ اس طرح کبڈی کے مقابلوں میں بھی خوب رونق ہوتی۔ 27 اساڑھ کی رات کو دربار پر چراغ جلا کر سالانہ عرس کے اختتام کا اعلان کر دیا جاتا۔


