چک پیراں کا جسا: کتاب پر تبصرہ


کچھ کہانیاں آپ سے چمٹ جاتی ہیں۔ جیسے بھوت پریت، آسیب چمٹ جاتے ہیں۔ چھوڑتی ہیں نہیں آپ کو جب تک کہ اپنے آپ کو پورا نہ پڑھوا لیں۔ اثرات بعد میں بھی نہیں جاتے۔ ویسے میرا ماننا ہے کہ کہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ کہانی، ایک سے دوسرے واقعہ کی طرف سفر کا نام ہے اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سو کہانی بھی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ہاں! کہانی کہنے /لکھنے والا تھک کے کسی موڑ پہ کہانی چھوڑ دیتا ہے اور یوں بظاہر تکمیل ہوجاتی ہے۔ ”چک پیراں کا جسا“ ایسی ہی ایک کہانی ہے جس کا آسیب 2012 ء سے مجھ پہ طاری ہے۔

یادش بخیر! میں ڈسٹرکٹ پبلک لائبریری ملتان کا ایک زمانے میں ممبر تھا (شاید اب بھی ہوں ) وہاں سے ایک وقت میں دو کتابیں ایشو ہوا کرتی تھیں۔ ایک روز یونہی الماریاں دیکھتے ہوئے ”چک پیراں کا جسا“ سامنے آ گئی۔ بلونت سنگھ سے تب تک تعارف نہ ہوا تھا۔ مجھے ناول کا عنوان ذرا مختلف سا لگا۔ کتاب گھر لے آیا۔ شروع کی تو چمٹ گئی۔ یہ سن دو ہزار بارہ کا نومبر تھا، تب خبریں کے رنگین صفحہ میں اس پر ریویو بھی۔ لکھا تھا۔ بس پھر بلونت سنگھ سے یاری ہو گئی۔ اردو میں انہوں نے جو جو کچھ لکھا ہے کم از کم وہ سارا پڑھ چھوڑا۔ ”جگا“ بھی ان کا شاہ کار افسانہ ہے لیکن مجھے کالی تیتری زیادہ پسند ہے۔ یہ ریتلے پنجاب کی ایک رات میں ڈاکے کی واردات کا احوال ہے اور کیا کمال قلم بند کیا گیا ہے۔

خیر! ہم ”چک پیراں کا جسا“ کی بات کر رہے تھے۔ چار چھے سال گزر گئے تو ایک بار پھر اسے پڑھنے کی ہُڑک ہوئی۔ لائبریری سے ڈھونڈا، نہ ملا۔ کتابوں کی دکانوں سے پتہ کیا، وہاں سے بھی دستیاب نہ ہوا تو ایک روز فیس بک پر پوسٹ کی کہ اگر کسی کے پاس ہو تو میں خریدنا چاہتا ہوں۔ کسی کے پاس دستیاب نہ ہوا تو ہمارے شہر کے نام ور اداکار رضوان شہزاد نے مجھے محمد حامد سراج صاحب (مرحوم) کے کتب خانے کا لنک بھیجا کہ ان سے یقیناً کچھ سراغ مل جائے گا۔ رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ناول ان دنوں نایاب ہے۔ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، انہوں نے بک کارنر جہلم کو ”چک پیراں کا جسا“ چھاپنے پر مائل کیا۔ یوں ہم نے دوسری خواندگی اس ناول کی تب کی جب بک کارنر نے اسے بہ اہتمام شائع کیا۔ اس پہلے ایڈیشن میں کچھ پروف کی غلطیاں تھیں، ان کی نشاندہی کر کے محترم گگن شاہد کو ناول بھجوایا۔ دوسرے ایڈیشن میں یہ غلطیاں یقیناً دور ہو چکی ہوں گی۔

لائبریری سے میں نے جو کاپی مستعار لے کے پڑھی تھی، وہ پنجاب بک ڈپو نے چھاپی تھی۔ اس پرانے ایڈیشن کی بڑے دنوں سے تلاش تھی۔ ایک دن پرانی کتابوں کے تاجر کی فیس بک پوسٹ دیکھی، برائے فروخت کتابوں میں ”چک پیراں کا جسا“ کا یہ پرانا ایڈیشن بھی شامل تھا۔ فوری منگوا لیا۔ پھر ماسک لگا کر چار روز پیہم اس کی تیسری خواندگی مکمل کی۔ ماسک کی ضرورت اس لئے پڑی کہ پرانی کتاب ہونے کی بنا پر اوراق میں گزرے وقت کی دھول کا بسیرا تھا اور ہم ٹھہرے ڈسٹ الرجی کا شکار۔ کم زور یادداشت کا شکریہ ادا کیا کہ اتنے برسوں بعد سب بھول بھال چکا تھا۔ یونہی لگا پہلی بار پڑھ رہا ہوں۔

ہو سکتا ہے آپ اس ناول کو پڑھیں تو آپ پر یہ اس درجہ طاری نہ ہو جیسا مجھ پہ ہوا۔ کوئی بھی تحریر پڑھتے ہوئے ہمارے اندر کی پسند ناپسند، ناسٹیلجیا، مزاج، جانب داریاں، مخالفتیں سب اثر انداز ہوتی ہیں۔ میں نے جب غور کیا کہ کیوں یہ ناول ہر خواندگی میں میرے حواس کو لپیٹ لیتا ہے۔ مجھے یہ سمجھ آیا کہ اس ناول کا ماحول اور منظر نامہ دراصل میرے بچپن اور لڑکپن کی بصارتوں میں ریکارڈ ہے۔ ”چک پیراں کا جسا“ پنجاب کے اس دور کا ماحول لئے ہوئے ہے جس کو، آخری دَموں پر سہی، میں نے دیکھا ہے۔ سو ایک ناسٹیلجیا ہے جو مجھے لڑکپن میں اور اپنے چک میں لے جاتا ہے۔ اس ناول میں بھوری بھینسیں ہیں، ان کے گرم تازہ دودھ کی دھاریں ہیں۔ مسافروں کے پیچھے دوڑتے گاؤں کے کتے ہیں، اروڑیاں ہیں، دہی بلونے کے لئے گھومتی مدھانیوں کی خوش کن آوازیں ہیں۔ گھوڑیاں، کھیت، یکے، طویلے، رہٹ، کنویں، کھراس چکیاں، میلے ہیں۔ گھی سے تربتر پراٹھے ہیں اور لسی سے بھرے چھَنے ہیں جن کی سطح پر مکھن تیرتا ہے۔ جوان ہیں اور ان کی شہ زوریوں کے قصے۔ شریکے کی سیاست ہے اور رومان کی وارداتیں۔ پرانے داروغہ اور ان کا رعب داب۔ پھر اس سب پر بلونت سنگھ کا سادہ اور رواں اسلوب۔

میرے نزدیک کسی بھی ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کی ریڈ ایبلٹی ہے۔ ہمارے ہاں بڑا ناول نگار اس کو مانا جاتا ہے جو بار بار کہانی کو چھوڑ کر اپنی علمیت جھاڑنے بیٹھ جاتا ہو۔ کئی کئی صفحات پر اپنی دانش وری کے جوہر دکھانے کے چکر میں یہ ’بڑے‘ ناول نگار کہانی گم کر بیٹھتے ہیں۔ بھلے لوگو! بندے نے ناول، کہانی پڑھنے کو خریدا تھا اگر اس نے تاریخ، فلسفہ، سائنس و فلکیات پڑھنا ہوتے تو وہ ان علوم کی کتابیں خریدتا۔ بہرحال! بلونت سنگھ نے کہانی کو کہیں نہیں چھوڑا اور چھوٹی چھوٹی جزئیات کے ساتھ بڑی سادگی سے بیان کیا ہے۔ آپ ناول پڑھتے ہیں اور آپ کا تخیل آپ کو اس کی فلم دکھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جسے زور لگا کے پڑھنا نہیں پڑتا، کہانی خود بخود اپنے آپ کو پڑھواتی ہے۔

 

Facebook Comments HS