ڈاکٹر ہو کر سگریٹ پیتے ہو؟
ہسپتال میں آج رش معمول سے زیادہ تھا اور اس کے دو کولیگز بھی کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے دو دن کی چھٹی پر تھے، اس لیے ان کے بیڈز کے مریض بھی ان دو دنوں میں اس کی ہی ذمہ داری تھے۔ اپنے حصے کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر اس نے کچھ دیر وارڈ کے گھٹن زدہ ماحول سے باہر ہسپتال کی کینٹین میں تھوڑی دیر سکھ کا سانس لینے کا سوچا، ویسے بھی صبح سے شام تک مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والوں کی امید باندھنے کی خاطر جبراً مسکراتے ہوئے وہ ذہنی طور پر خاصا تھک چکا تھا۔
کینٹین میں بیرے کو ہر دکھ اور غم دور کر دینے والی کڑک چائے کا آرڈر دیا اور خود پچھلے دروازے کے ساتھ کرسی لگا کر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا، یہ جگہ باقی کرسیوں سے ہٹ کر تھی اور ہوا کا گزر بسر بھی خاصا اچھا ہوتا تھا۔ ادھر چائے پہنچی تو اس نے جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا اور سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر سلگایا (شاید غم اور ذہنی الجھن کچھ زیادہ تھی اور صرف چائے کی بس کی بات نہ تھی۔ ) ابھی دو تین کش اور چائے کے چند گھونٹ ہی حلق سے اترے تھے کہ ساتھ کرسی رکھنے کی آواز سنائی دی، گردن مڑی تو محلے میں رہنے والے شاہ صاحب کا چہرہ دکھائی دیا۔
حیرت اور شاکی نظروں کے تسلسل میں سلام دعا ہوئی، ان سے ہسپتال آنے کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ ”بس میاں سوائے ڈاکٹروں کے اس جگہ خوشی سے کون آتا ہے؟“ دل میں خیال گزرا کہ خوشی سے تو شاید وہ بھی کم و بیش ہی آتے ہیں۔ بہرحال معلوم ہوا کہ ان کی بھانجی کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہے اس وجہ سے ہسپتال میں داخل ہے۔ خبروں کے اس رسمی تبادلے کے بعد کہنے لگے ”میاں عجیب سی بات ہے کہ ڈاکٹر ہو کر سگریٹ پیتے ہو؟“
وہ اس سوال پر ہلکا سا مسکرایا، کہنے لگا کیا شاہ صاحب آپ بھی۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے انسان ہیں آپ، آپ سے تو کچھ بہتر تبصرے کی امید تھی مجھے، یہ جملہ سن سن کر تو کان پک گئے ہیں۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ دل پر پتھر رکھ کر ڈاکٹروں کو انسان کیوں نہیں سمجھ لیتے، چند گھنٹوں کی مسیحائی کافی نہیں کہ انہیں چوبیس گھنٹے ہی اس سولی پر لٹکا کر رکھا جائے؟ اگر کوئی ڈاکٹر آپ کو سگریٹ نوشی سے باز رہنے کا مشورہ دیتا ہے تو آپ اس کے پاس اپنی صحت کے بارے میں فکرمند ہو کر جاتے ہیں تو وہ مشورہ دیتا ہے ناں، یا اپنے تئیں کسی ڈاکٹر نے آج تک بھرے بازار میں کسی کو کان سے پکڑا کر کہا ہو کہ سگریٹ نہ پیو؟
نہیں ناں! تو جب آپ اس کے پاس جاتے ہیں مشورہ لینے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ آپ کو آپ کی صحت کے اعتبار سے ٹھیک مشورہ دے، اس کی اور اس کے بچوں کی حلال روزی جڑی ہوتی ہے اس مشورے کے ساتھ۔ لیکن اس کی ذاتی زندگی پر بھی اس کا ہی حق ہے، پرسنل اور پروفیشنل زندگی کے پہلوؤں کو گڈمڈ نہیں کیا جاسکتا۔ اور رہی بات سگریٹ نوشی کی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی طرح ستر یا اسی سال تک کی لمبی زندگی اس کی ترجیح نہ ہو، وہ اسے کامیابی نہ سمجھتا ہو، کیا خبر کامیابی کا پیمانہ اور زاویہ اس کی نظر میں کچھ اور ہو۔
اس لیے شاہ صاحب آپ ماشاءاللہ پڑھے لکھے ہیں اول تو سوال نہ کریں تو بہت بہتر۔ لیکن اگر کرنا بھی ہے تو موضوع بدل دیجیے، مثلاً آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ”ڈاکٹر صاحب! کون سا برانڈ پسند کرتے ہیں؟“ مہنگائی کے اس دور میں ملکی خزانے میں ڈاکٹروں کی پھنسی ہوئی قلیل تنخواہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ ایک آدھ ڈبی کا تحفہ بھی پیش کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ تحفے کا ذکر سن کر شاہ صاحب تھوڑے غیر آرام دہ ہوئے اور فوراً سے موضوع بدل کر بھانجی کے بخار کا تذکرہ کرنے لگے جو کل سے مسلسل لگنے والے انجیکشن اور ڈرپوں کے باوجود کم نہیں ہو رہا تھا!


