ڈاکٹر ہو کر سگریٹ پیتے ہو؟

ہسپتال میں آج رش معمول سے زیادہ تھا اور اس کے دو کولیگز بھی کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے دو دن کی چھٹی پر تھے، اس لیے ان کے بیڈز کے مریض بھی ان دو دنوں میں اس کی ہی ذمہ داری تھے۔ اپنے حصے کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر اس نے کچھ دیر وارڈ کے گھٹن زدہ ماحول سے باہر ہسپتال کی کینٹین میں تھوڑی دیر سکھ کا سانس لینے کا سوچا، ویسے بھی صبح سے

Read more

جو ہے بس وہی خوبصورت ہے

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وہ لوگ اداس کیوں ہوتے ہیں جو ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اور اس بات کا اندازہ ان کے سوشل میڈیا یا وٹس ایپ وغیرہ پر ایسے پیغامات دیکھنے سے اکثر ہوتا ہے کیونکہ اصل میں بات کرتے ہوئے وہ ایسا کچھ ظاہر نہیں کرتے یا شاید کرتے ہوں لیکن طریقہ ایسا ہو کہ سمجھ نہ آتا ہو۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ جو یہاں

Read more

فائنل ائر کا آغاز اور گائنی وارڈ

”شروع شروع میں ہم آپ کو بہت برے لگیں گے اور پھر وقت کے ساتھ آپ کو ہماری عادت ہو جائے گی!“ یہ ٹھیک آج سے بیالیس دن پہلے کی بات ہے ہم بھاگتے دوڑتے گائنی او پی ڈی پہنچے، دیکھنے میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں کافی ساری فی میل ڈاکٹرز براجمان تھیں اور ہم وہاں اُن مجرموں کی طرح لائن میں کھڑے تھے جنہیں عنقریب سزا سنائی جانی ہو۔ چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے

Read more

ماں باپ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے

دو لوگ، دو مختلف اجناس کے انسان، مختلف رویوں اور سوچوں کے حامل انسان جب رشتہ ازدواج میں باندھ دیے جاتے ہیں تو قدرت ایک مٹھاس اور الگ قسم کے جذبات اس رشتے میں مقید لوگوں کا مقدر بنا دیتی ہے۔ مگر قدرت کے ان تمام احسانات کے باوجود بھی رہتے وہ دو لوگ عام انسان ہی ہیں۔ ان کے جذبات، ان کی عمر کا ڈھلنے کا تسلسل بالکل باقی عام انسانوں کی طرح ہی چل رہا ہوتا ہے۔ لیکن

Read more

تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ ایک شام

میرا تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق کیسا تھا یا شاید کیسا ہے اس کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ایوب میڈیکل کالج میں جمعرات کی ایک شام میرا ایک داڑھی اور پگڑی والے (جنہیں عام زبان میں امیر صاحب کے لقب سے مخاطب کیا جاتا ہے ) بھائی سے آمنا سامنا ہو گیا انہوں نے مخصوص انداز میں مجھے دعوت دی اور پھر سوال کیا کہ ”کیا آپ تبلیغ میں جاتے ہیں یا شب جمعہ کے اجتماع میں شریک ہوئے کبھی؟

“ میں نے بغیر توقف کے کہا ”امیر صاحب عموماً تو بھاگتا ہی رہتا ہوں کبھی کبھار دھر لیا جاؤں تو چلا جاتا ہوں!“

Read more

مرد کو درد نہیں ہوتا

اپنی زندگی میں عورت کے لئے حقوق نسواں اور دیگر اس جیسی بے شمار اصطلاحات دیکھی ہیں مگر مرد کے لئے ایسی اصطلاح میری نظر سے نہیں گزری، یقیناً اردو ادب میں ہوگی لیکن وہ کبھی اتنی عام یا ضروری نہیں سمجھی گئی کہ ہر خاص و عام کی زبان تک پہنچ سکے۔ یا یوں کہہ لیں کہ مرد کی زندگی کو ہمیشہ سے عمومی طور پر حقوق سے زیادہ فرائض یا ذمہ داریوں کے ساتھ ہی جوڑا گیا ہے۔

Read more