کل کا واقعہ: پورا گاؤں لٹیروں کا نکلا
میں ڈیرہ اسماعیل خان سے براستہ موٹروے اسلام آباد کے لئے نکلا کیونکہ آج میری فلائیٹ کا دن تھا۔ اس لئے کل وقت پر پہنچنا تھا۔ تاکہ کچھ دوسرے کام نبٹا کر سفر کے لئے تیار ہو جاؤں۔ ایک ہفتے کے لئے گھر گیا تھا۔ واپسی کرنی تھی۔ ڈائیوو بس نے حسب معمول چار ساڑھے چار گھنٹوں کی مسافت کے بعد راولپنڈی پہنچایا۔ چونکہ گزشتہ کئی سالوں سے اسلام آباد کے سینکڑوں چکر لگائے ہیں تو اس راستے سے بہت یادیں جڑی ہیں۔ تلہ گنگ والا راستہ پھر موٹروے۔ راولپنڈی میں کچھ ضروری کام تھے۔ اس لئے بس اڈے پشاور روڈ سے سیدھا پنڈی بازار کے لئے ٹیکسی لی۔ ہاتھ میں آئی فون دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور بار بار میرے حلیے کی طرف دیکھتا۔ بالآخر اس نے پوچھ لیا کیا کام کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ مسافر ہوں امارات جانا ہے کل، وہاں محنت مزدوری کرتا ہوں۔ اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی۔
مجھے پنڈی صدر جانا تھا، ڈرائیور کہیں اور گاڑی موڑ گیا۔ میں نے کہا یہ راستہ تو دوسری طرف جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ شارٹ ہے۔ میں مزید چپ رہا۔ حالات کی جانچ شروع کردی۔ آج کل شہر اقتدار و پنڈی میں کئی ایسے واقعات ہو رہے ہیں، کہ ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ٹیکسی ایک جگہ سڑک کنارے رک گئی۔ میں نے جھٹ سے کہا بھائی صاحب کیا ہوا۔ اس نے کہا میں نے تیل ڈلوانا تھا وہ نہیں ڈالا تیل ختم ہو گیا ہے۔ اس کو دھکا دے کر پمپ تک جو یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے وہاں تک لے جانا ہو گا۔ میں دھکا لگاؤں گا آپ بیٹھے رہیں۔ میں سمجھ گیا کہ جو پیسے جیب میں ہیں پندرہ بیس ہزار اور موبائل ہیں یہ تو گئے۔ اللہ جان کی، ٹکٹ و پاسپورٹ کی خیر کرے۔
مجھے دل میں خیال آیا خود ہی جان چھڑانے کی پہل کرلو، یا سڑک کنارے چیخنا شروع کر دوں یا کہیں کسی گلی میں گھس کر رفو چکر ہو جاؤ۔ کہانی بنائی، میں نے کہا ”استاد یہاں سامنے میری خالہ کا گھر ہے آپ یہ تین سو لیں میں ان سے ملتا ہوں کل ویسے بھی ان سے ملنا ہے تو آج ہی مل لوں۔ “ شکریہ کہہ کر اس کو تین سو پکڑائے گلی میں گھس گیا۔ گلی میں تھوڑا چلنے کے بعد گلی کھیتوں کی طرف ختم ہو رہی تھی۔ گلی کے آخر میں ایک دکان تھی جس پر ایک عورت اور ایک بڑی عمر کے بابا بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے مین سڑک تک جانے کا راستہ پوچھا تو انہوں نے پہلے میرا حلیہ دیکھا پھر بتایا کہ یہ سامنے والے کھیت کراس کر کے اس کے بعد تھوڑی آبادی آئے گی پھر مین سڑک مل جائے گی۔ ساتھ ہی وہاں کھڑا نوجوان جو مجھے ان سے زیادہ حیرت سے گھور رہا تھا۔ اس سے دکاندار بابا نے کہا تاجی مین سڑک تک اس کو میں پہنچاؤ، بابا نے بتایا کہ انہی کھیتوں میں سڑک جتنا بڑا راستہ ہے وہاں پہنچ کر اس کو سو روپے دے دینا۔ اور موٹر سائیکل والے کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری، اب اس کی شکل دیکھ کر مجھے ٹیکسی ڈرائیور یاد آ گیا لیکن ان تینوں کی شکلیں دیکھ کر گھبرا بہت گیا۔ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کھیتوں کے بیچ میں سے چلتے نوجوان تاجی بائک کے شیشے میں بار بار مجھے دیکھتا رہا۔ اب ڈر مزید بڑھ گیا کہ ایک سے جان چھٹی نہیں تھی دوسرے لٹیرے نے آن لیا ہے۔ ایک سائیڈ والی جیب پر میرا ہاتھ لگا تو اس کے شلوار پر پستول تھی۔ ڈر میں مزید اضافہ۔
تو تو گیا حیات!
دل ہی دل میں ملک کے حالات بیروزگاری، چوری چکاری، جگہ جگہ لوٹنا، مرنا۔ یہ سب یاد آتا گیا۔ اتنے میں آبادی آ گئی۔ تو اس نے پوچھا بھائی جانا کہاں ہے۔ میں نے کہا صدر جانا تھا لیکن اب واپس ڈائیوو اڈے پہنچا دو تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ اس نے ڈائیوو اڈے کی طرف جانے کے بجائے الٹے رخ والا موڑ کاٹا تو سمجھ گیا، آج ان لوگوں سے لٹے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اندھیرا تھا، آگے اتفاقاً پولیس کا ناکہ تھا۔ افغان مہاجرین و دوسرے حساب کتاب کو دیکھا جا رہا تھا۔ بندے کے پاس موٹرسائیکل کے کاغذات نہیں تھے۔ تو اس نے کہا ”بھائی تم اتر جاؤ چیک پوسٹ پیدل کراس کرلو میں اندر گلی سے نکل کر آگے آ جاتا ہوں۔ پولیس میرا بائک چھین لے گی میرے پاس کاغذات نہیں۔“ اس جملے کے بعد تو جیسے مجھے نئی زندگی مل گئی۔ میں فوراً اترا چیک پوسٹ پیدل کراس کی۔
چیک پوسٹ کی دوسری طرف بہت سارے بائکیے اور ٹیکسیاں کھڑی تھیں۔ میں نے کہا جب تک وہ آتا ہے میں دوسری بائک یا ٹیکسی میں بیٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ بائکیوں کی بھیڑ میں گیا تو سارے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے شکاری جانوروں کے درمیان کوئی معصوم سا جانور آ جاتا ہے!
حیات تم! بھیڑ میں سے کسی کی آواز سنائی دی۔ ششدر ہی ہو گیا۔ سامنے دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں، سلمان جو میرے ساتھ اڈیالہ جیل میں رہا تھا اس کے ساتھ اچھا وقت گزارہ تھا وہ اشارے کر رہا تھا ادھر آ جا بھائی اس آدھی رات کو کہاں مارا مارا پھر رہا ہے؟ میں نے بھاگ کر گلے لگایا۔ ”او یار! اتنے سالوں بعد تو نے پہچان لیا“ ۔ میں نے اس کو ساری کہانی سنائی۔ تو ہنس کر بولا یار ہم سب اس وقت لوگوں کو لوٹنے نکلتے ہیں۔ تیرے ساتھ تو جیل بتائی ہے اس لئے تو معاف ہے چل بیٹھ تجھے ڈائیوو اڈے پہنچاؤں۔ میں نے کہا نہیں اب کسی اچھے ہوٹل پہنچا دے ڈائیوو اڈے تو ڈر کی وجہ سے جا رہا تھا۔ کل میرا ٹکٹ ہے باہر جانا ہے۔
تب تک وہ دوسرا نان بائکیا بھی پہنچا کہ ہاں بھائی آ جاؤ نکلتے ہیں۔ میں نے سو روپے نکال کر اس کو دیے اور کہا ”نہیں شکریہ میرا بھائی اب مل گیا ہے۔ “ اس نے غصے سے پیسے لیتے ہوئے سلمان کو دیکھا اور کہا کہ میرا اور سلیم استاد (ٹیکسی والے ) کا شکار تھا تو اڑا رہا ہے۔ سلمان نے کہا ”یار یہ میرے ساتھ جیل میں رہا ہے اب تم لوگ میرے یاروں کو لوٹو گے؟ دور دفع ہو جا۔“ اختتام خواب! اس کے بعد میں نیند سے اٹھا۔ لیکن بہت لمبی رات تھی! پنڈی والوں سے معذرت یہ صرف خواب تھا!

