مزدور راہنما میاں عبدالقیوم کو کس نے قتل کیا


راقم اور میاں عبدالقیوم (مرحوم) کا ذاتی، نظریاتی اور سیاسی تعلق برس ہا برس پر محیط رہا ہے۔ میاں عبدالقیوم نے ایک پاور لوم ورکر یا مزدور کی حیثیت سے فیصل آباد میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ جلد ہی مالکان کے رویوں سے تنگ آ کر مزدور یونین سازی کی تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ اس وقت جناب اشفاق بٹ فیصل آباد پاور لوم ورکرز کی تحریک کے روح رواں تھے اور ہیں بھی اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے اور صحت والی زندگی دے۔

چنانچہ میاں صاحب نے اشفاق بٹ صاحب کی راہنمائی میں اپنی تحریکی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جناب اشفاق بٹ کو معاشی مجبوریوں کے سبب بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔ میاں عبدالقیوم کا شمار ان معدودے لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جو پیدائشی طور پر قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں چنانچہ میاں صاحب نے جلد ہی اشفاق بٹ صاحب کے خلاء کو پر کر دیا اور تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے کر تحریک کو مزید بلندیوں کی طرف گامزن کیا۔

تحریک کی مقبولیت اور میاں صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی اظہار صرف اسی ایک کامیابی سے واضح ہو جاتا ہے۔ 2001 ء میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں مزدور تحریک (لیبر قومی موومنٹ) کی جانب سے چار یونین کونسل ناظم اور بے شمار کونسلرز کی جیت پاکستان کے مزدور طبقہ و مزدور تحریک کے حوالے سے ایک غیر معمولی واقعہ یا کامیابی تھی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس بعد تحریک پر یہ وقت بھی آیا کہ بوقت ضرورت فیصل آباد پانچ منٹ میں ناصرف مکمل بند بلکہ مطالبات کی منظوری تک مکمل بند۔

ان بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے نتیجہ میں تحریک کا نام ملکی سطح پر ابھر کر سامنے آ گیا۔ سیاست میں تحریک کو دیکھنے کا ہمارا اپنا زاویہ ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر آدمی اور ہر سیاسی گروپ یا پارٹی بھی تحریک کو اسی زاویے سے دیکھے۔ ”اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے، جس نے ڈالی بری نظر ڈالی“ جیسی صورتحال بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کا نام ابھرتے ہی ملک کے جگادری سیاست دانوں سے لے کر مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مالکان نے فیصل آباد میں ڈیرے ڈال کر میاں عبدالقیوم سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اب میاں صاحب کو بڑی بڑی پیش کشوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی دورے بھی کروائے جانے لگے۔ غیر سرکاری تنظیمیں اپنے غیر ملکی آقاؤں کو اس طرح کا تاثر دے رہیں تھیں کہ یہ تحریک انہیں کے ڈالروں کی مرہون منت ہے لہذاء اسے جاری رکھنے کے لیے انہیں مزید رقوم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی رقوم سے میاں صاحب کا دور دور تک واسطہ نہ تھا۔ تحریک کے نام پر کس نے کتنا مال لوٹا اس کا علم یا اندازہ نا تو میاں صاحب کو تھا اور نہ ہی تحریک کے دیگر احباب اس کو بھانپ سکے۔ ایک مقامی تضاد یا فساد کے نتیجہ میں آٹھ یا دس مزدوروں پر قتل کا جھوٹا مقدمہ و گرفتاری ”اونٹ کی کمر پر آخری تنکا“ ثابت ہوئی۔ یار لوگ یہاں بھی باز نہ آئے اور ”لیگل ایڈ“ کے نام پر کروڑوں کی دیہاڑی لگا گئے۔ یہ ایک اور علیحدہ تفصیل ہے کہ بانی تحریک جناب اشفاق بٹ اور میاں قیوم نے مل کر ان بے گناہ مزدوروں کا کیس از سر نو کس طرح لڑ کر انہیں ہائی کورٹ باعزت بری کروایا۔

میاں صاحب کی عروج کی سیاست کا عرصہ 2000 ء سے 2015 ء تک کا ہے۔ اس تمام عرصہ میں دیہاڑی باز غیر سرکاری تنظیموں کی لگاتار غلط کاریوں کا منطقی نتیجہ تحریک کی لیڈرشپ اور کارکنان میں سیاسی دوری اور غلط فہمیوں کی صورت میں برآمد ہوا۔ تحریک دھڑے بندیوں کا شکار ہو کر تقسیم در تقسیم ہو گئی۔ بالکل اسی طرح ہمارا پیارا دوست میاں قیوم بھی سیا سی و سماجی تنہائی کا شکار ہوا۔ انسان پر جب سیاسی اور سماجی تنہائیاں غالب ہو جائیں تو معاشی تنگی بھی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔

میاں صاحب ہائی شوگر و بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہو کر امراض قلب کا شکار ہوئے اور بالآخر جون 2020 ء کو عین جوانی کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ میاں قیوم کے بچھڑ جانے سے پاکستان کی مزدور تحریک اور مزدور طبقہ ایک زبردست بیباک لیڈر اور شعلہ بیاں مقرر سے محروم ہو گیا۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزا ابراہیم مرحوم اور عبدالرحمٰن شہید کے بعد اگر کوئی حقیقی مزدور لیڈر پاکستان نے پیدا کیا ہے تو وہ میاں عبدالقیوم ہی تھا اور ہے۔

آج کی دنیا میں لاگو قوانین کی کچھ اپنی حدود و قیود ہیں۔ ان قوانین کی رو سے اگر کسی کو آلہ قتل سے گواہان کی موجودگی میں قتل کیا جائے تو ہی اسے جرم قتل ٹھہرایا جائے گا اور مقدمہ و سزا وغیرہ۔ ایک دوست اور سیاسی کارکن ہونے کے حوالے سے ہم میاں قیوم کی جواں سال اور قبل از وقت موت کو طبعی موت نہیں مانتے بلکہ اسے مرحلہ وار قتل اور جدید طرز کی آدم خوری گردانتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ بقول فیض احمد فیض

گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں
ہر ایک اپنے مسیحا کے خوں کا رنگ لیے
اور آئے دن مری نظروں کے سامنے ان کے
شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں

Facebook Comments HS