عمران خان کی سیاسی تنہائی: نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن

چند روز قبل مولانا فضل الرحمن سے پی ٹی آئی کے وفد نے ملاقات کی جس میں اسد قیصر ’علی محمد خان‘ بیرسٹر سیف اور جنید اکبر شامل تھے۔ اس ملاقات پر سب کو حیرانی ہوئی کہ آخر یہ آگ اور پانی کا ملاپ کیسے ہو گیا؟ ملاقات تعزیت کے عنوان کے تحت ہوئی۔ شدید سیاسی مخالفین کے بھی سماجی تعلقات بہت اچھے ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور مشکل میں ایک دوسرے کے کام بھی آتے ہیں۔ قومی سیاست میں جتنی شدت بھی رہی، سیاسی شخصیات اور کارکنوں کے درمیان سماجی تعلق کبھی کمزور نہیں ہوا۔
ماضی میں سیاسی اختلاف کے باعث مخالفین کو ایذائیں اور سزائیں دینے کا سلسلہ بھی ہمارے سماجی ڈھانچے کو زک نہ پہنچا سکا اور معاشرتی سطح پر ربط، ضبط اور لحاظ و مروت ہمیشہ برقرار رہی۔ پی ٹی آئی کے ظہور کے بعد اوپر سے نیچے تک سیاسی تعلقات ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ صورت حال اس قدر بگڑ گئی کہ خاندان کے کم عمر نوجوان بھی اپنے بزرگوں کے منہ کو آنے لگے۔ اس صورت حال نے ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیا۔ اس پس منظر میں پی ٹی آئی کے وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کو حیران کن ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
پی ٹی آئی کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ تو حیران کن ہے ہی، ایک حیرت اس کے علاوہ بھی ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے موقع پر عمران خان کے لیے آئین شکنی کے مرتکب ہونے والے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور علی محمد خان کا شمار ان کے پسندیدہ لوگوں میں نہیں تھا۔ شاید ابتلا کے ان دنوں میں عمران خان نے اپنی رائے پر نظر ثانی کی ہے جوان کے عمومی رویے میں تبدیلی کی غماز ہے۔ عمران خان کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ضرورت کے وقت وہ اپنی رائے میں سو فیصد تبدیلی کو بھی عار نہیں سمجھتے۔
اسی طرز عمل کے باعث ان کے بارے میں ”یو ٹرن“ کی اصطلاح وجود میں آئی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ملحوظ رہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ وہ اس روایت کا مظاہرہ کرنے سے ہمیشہ انکاری رہے۔ عمران خان حزب اختلاف میں تھے تو انھوں نے پارلیمان کا مسلسل بائیکاٹ کیا اور حکومت کی طرف سے رابطوں کا کبھی مثبت جواب نہ دیا۔ حکومت میں آئے تو انھوں نے حزب اختلاف کو دیوار سے لگا یا اور پارلیمان کے اندر بھی رسمی سلام دعا سے بچنے کے لیے مضحکہ خیز طریقے اختیار کیے۔
یوں وہ تنہا ہوتے چلے گئے۔ اب ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس سوال پر غور کیا جائے کہ عمران خان نے اپنی افتاد طبع کے برعکس مخالف سیاسی قوتوں سے رابطوں کا آغاز کیا ہے تو اس کے مقصد کیا ہے؟ اس سوال کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے، کہ عمران خان اس وقت اپنے سیاسی اور غیر سیاسی رویوں کے باعث جن مشکلات کا شکار ہیں، ان میں کمی واقع ہو اور وہ ایک بار پھر سیاسی میدان عمل میں لوٹ سکیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آتے یا قانونی معاملات میں کوئی سہولت نہیں ملتی تو کم از کم سیاسی مخالفت میں ہی کسی قدر کمی واقع ہو جائے۔
یہی راستہ ہے جس پر چلنے کے بعد عمران خان اپنے ماضی کے غلط طرز عمل کی گرفت سے نکل کر اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کے قابل ہو سکیں گے۔ بعض تجربہ کار سیاسی قائدین کی رائے اب بھی یہ ہے کہ عمران خان کو کچھ عرصہ مزید سیاسی آزمائش کا سامنا کرنا چاہیے، تاکہ وہ ”ہم چو ما دیگرے نیست“ کی کیفیت سے نکل کر سیاسی طور طریقے اپنا سکیں۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی پی ٹی آئی کے رابطے کے جواب میں ایک تجربہ کار، بزرگ اور زیرک سیاستدان کی حیثیت سے خوش دلی سے پی ٹی آئی کے وفد کی میزبانی کی جس پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ مولانا کے رویے کا ذکر اس اعتبار سے ناگزیر ہے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں آ جانے والی شدت پسندی اور بد اخلاقی کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ اس سے یہ سیکھنے کا موقع بھی ملے گا کہ اختلاف کے باوجود سماجی تعلقات برقرار رکھنا کیوں ضروری ہیں۔
اس ملاقات پر ایک طرف یہ تنقید کی گئی، کہ مولانا کے رویے ثابت ہو گیا کہ اصل میں یہ سب اندر سے ایک ہیں، یہ تنقید سیاسی عدم بلوغت کی غماز ہے۔ اس ملاقات کا ہر سطح پر خیر مقدم ہونا چاہیے تھا کہ یہ وطن عزیز میں سیاسی درجہ حرارت کو معمول پر لانے اور سازگار فضا پیدا کرنے کی بنیاد بن سکے گی جو سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
سیاستدانوں کو ، سیاسی عمل اور سیاسی فضا مصالحت پر مجبور کرتی ہے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جب یقین ہو گیا کہ اقتدار کی کشمکش میں شریک تیسری غیر سیاسی قوت اہل سیاست کے لیے اقتدار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر کے جمہوری عمل کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔ تووہ ”میثاق جمہوریت“ تک پہنچے جو جمہوری عمل کے تسلسل کی بنیاد بن گیا۔ عمران خان اقتدار میں اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہ تھے ’مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کے ان کے بیانات ریکارڈ پر ہیں۔
اقتدار کے خاتمے کے بعد متعدد مواقع آئے مگر مقبولیت کے گھوڑے پر سوار وہ مذاکرات کے لئے تیار نہ ہوئے۔ 9 مئی سے قبل تک کھیل ان کے ہاتھ میں تھا۔ حالات معمول پر لانے کے لئے غیر جانبدار حلقے تمام فریقوں کو قابل قبول انتخابات کی تاریخ دینے کے لیے تیار تھے۔ پی ڈی ایم حکومت بھی اس کے لئے آمادہ تھی مگر عمران خان نے معمولی لچک بھی نہ دکھائی۔ وہ سپریم کورٹ سے الیکشن کی تاریخ چاہتے تھے۔ حالات کے تناظر میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کی تاریخ کا معاملہ سیاستدانوں پر چھوڑ دیا تو بھی عمران خان اپنی شرائط پر اڑے رہے۔
الیکشن کی تاریخ پر پی ڈی ایم حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان 27 اپریل 2023 کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔ مذاکرات میں حکومت کی طرف سے اسحاق ڈار ’اعظم نذیر تارڑ‘ خواجہ سعد رفیق ’یوسف رضا گیلانی‘ سیدہ کشور زہرا اور سید نوید قمر شامل تھے۔ تحریک انصاف کے وفد میں شاہ محمود قریشی ’فواد چودھری اور سینیٹر سید علی ظفر شامل تھے۔ مذاکرات کے تین دور ہوئے مگر چیئرمین پی ٹی آئی نے شرط عائد کر دی کہ جب تک 14 مئی کو تمام اسمبلیاں تحلیل نہیں کر دی جاتیں‘ بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ بہترین موقع تھا ’اگر سیاسی بصیرت اور لچک کا مظاہرہ کیا جاتا تو بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ شاید ایسے ہی مواقع کے لئے کہا گیا ہے کہ لمحوں نے خطا کی تھی‘ صدیوں نے سزا پائی۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد 9 مئی کے ناخوشگوار واقعات پیش آ گئے، تب بھی عمران خان اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھنا چاہتے تھے مگر کھیل پلٹ گیا۔ پھر 28 مئی کو اپنے طور پر شاہ محمود قریشی ’پرویز خٹک‘ اسد قیصر ’حلیم عادل شیخ‘ عون عباس بپی ’مراد سعید اور حماد اظہر پر مشتمل سات رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن اس کے ساتھ کسی نے مذاکرات کرنا گوارا نہ کیا اور پی ٹی آئی‘ یہ کہتی دکھائی دی کہ ہم تو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں مگر کوئی بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو چیئرمین پی ٹی آئی آج جس مقام پر کھڑے ہیں اس کے ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ اب آگے ان کے لیے دو راستے ہیں ’ایک یہ کہ وہ حالات کے رحم و کرم پر رہ کر تاریخ کا حصہ بن جائیں۔ دوسرا راستہ یہ کہ مذاکرات میں تحریک انصاف پہل کرے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف کا میڈیا سیل ابھی بھی پرانی ڈگر پر چل رہا ہے ایک طرف ملاقات کی خبر چلتے ہی مبارک سلامت کا ایک سونامی برپا کر دیا گیا کہ مولانا نئے سیاسی اتحاد پر راضی ہو گئے۔
خان صاحب نے جیل میں بیٹھ کر ایسا ٹرمپ کارڈ، کھیلا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا قلعہ لرزہ براندام ہو گیا۔ جب یہ پتہ چلا کہ کسی اتحاد یا تحریک کی بات نہیں ہوئی، تو پینترا بدل کریہ راگ الاپا گیا کہ مولانا پی ٹی آئی کو ٹریپ کرنا چاہتے تھے، خان صاحب نے ان کی پیشکش مسترد کر کے ایسا ماسٹر سٹروک کھیلا کہ اسٹیبلشمنٹ اور مولانا کی سازش ناکام ہو گئی۔ اب پی ٹی آئی کا شکوہ ہے کہ تصویریں اور ویڈیو جاری کر کے مولانا نے زیادتی کی۔

