پیپلز پارٹی کا واویلا


حالیہ برسوں میں پیپلز پارٹی کے جمہوری قوتوں کے ساتھ رویے کی وجہ حالات کا جبر بھی ہے اور مجبوریوں کا تقاضا بھی۔ ورنہ پیپلز پارٹی خود ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں زخم خوردہ رہی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کی تین حکومتوں کا اختتام غیر جمہوری طریقے سے ہوا اور چوتھی بار اس کی حکومتی مدت تو پوری ہوئی مگر کس طرح یہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ سینیٹ انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے بلوچستان میں مسلم لیگ کی صوبائی حکومت گرانے کے لئے وہی ہتھکنڈے استعمال کیے جس کا وہ دہائیوں سے شکوہ کرتی تھی۔

مقصد صرف یہ تھا سینیٹ میں مسلم لیگ کی اکثریت کو روکا جا سکے۔ یہ مقصد کماحقہ پورا ہونے کے بعد بھی نون لیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی کو پیشکش ہوئی کہ چیئرمین سینیٹ کے لئے وہ رضا ربانی جیسے کسی غیر متنازعہ اور جمہوریت پسند شخص کو نامزد کر دیں۔ لیکن اپنی ہی جماعت کے کسی با وقار شخص کو اس اہم عہدے پر نامزد کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی نے ایک غیر معروف شخص کو ایوان بالا کی سربراہی کے منصب پر لا بٹھایا جو شرمندگی بن کر اس کے اعمال نامے میں موجود رہے گا۔

پھر مرحلہ آیا عام انتخابات کا۔ ان انتخابات سے متعلق تمام جماعتوں کو شکایات تھیں اور اس میں پیپلز پارٹی بھی ایک فریق تھی۔ ایک موقع پر ان جماعتوں میں سے کچھ رد عمل میں اتنی جذباتی ہو گئیں کہ جمہوریت ہی پٹڑی سے اترنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ماننا چاہیے کہ اس موقع پر پیپلز پارٹی نے ہوشمندی کا ثبوت دیا اور حالات کا مقابلہ جمہوری طریقے سے کرنے پر تمام فریقین کو راضی کر لیا کہ ایوان میں بیٹھ کر غیر جمہوری روایات کے خاتمے کی کوشش ہو گی۔

مقابلے کا فارمولا بنا تو طے ہوا اسپیکر شپ پی پی کو ملے گی، وزارت عظمی کا امیدوار نون لیگ سے جبکہ ڈپٹی اسپیکر ایم ایم اے سے ہو گا۔ عین وقت پر مگر پی پی یہ بہانہ بنا کر طے شدہ فارمولے سے مکر گئی کہ شہباز شریف جو نون لیگ کے امیدوار ہیں ماضی میں ہماری قیادت کے متعلق غیر مناسب زبان استعمال کر چکے ہیں لہذا اس کے ارکان انہیں ووٹ نہیں دے سکتے۔ اس مثال سے پی پی قیادت کی اپنے ہی امیدوار کی کامیابی کے لئے سنجیدگی اور نیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ عین وقت پر اگر مینگنیاں نہ ڈالتی تو خورشید شاہ صاحب یقیناً اسپیکر منتخب ہونے میں کامیاب ہو جاتے اور بلا شبہ تحریک انصاف کے اسپیکر کی نسبت ان کی شخصیت اس منصب کے لئے زیادہ موزوں تھی۔ جس طرح چار سال ایوان میں اپوزیشن بے توقیر ہوتی رہی کسی با وقار اسپیکر کے ہوتے شاید اسے اتنی ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی۔

صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی جان بوجھ کر پی پی کی جانب سے ایسا شخص نامزد کیا گیا جس کے متعلق ایک سو دس فیصد گمان تھا اس پر اپوزیشن ہرگز متفق نہیں ہو گی۔ پیپلز پارٹی اگر اپنی قیادت کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کی وجہ سے خود کو سب سے بڑی برائی کہنے والے شخص کو سہولت دے سکتی تھی تو دیگر جماعتوں سے اپنی قیادت کی توہین کرنے والے شخص کی حمایت کی توقع کیسے رکھی جا سکتی تھی۔ پیپلز پارٹی اپوزیشن کا صدارتی امیدوار کامیاب کرانے میں سنجیدہ ہوتی اور اسے اپنے ہی نام پر اصرار ہوتا تو بھی اس کی صفوں میں دیگر بہت سے قابل احترام لوگ موجود تھے۔

صاف نظر آ رہا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کو کامیاب کرانے کی خاطر پیش کیے گئے نام کے پیچھے گمنامی مجبوریاں تھیں۔ اس کے بعد بھی جب جمہوری و غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کوئی فیصلہ کن مرحلہ آیا پیپلز پارٹی نے تاریخ میں امر ہونے کی بجائے لمحہ موجود سے مسرت کشید کرنے کو ترجیح دی۔ حیرت کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اب نون لیگ سے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگ رہی ہے اور میاں نواز شریف پر نئے لاڈلے کی پھبتیاں کس رہی ہے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ نیب کا ادارہ پچھلے چار سال کس طرح سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالنے میں ملوث رہا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف پر لگنے والے الزام ویسے بھی اتنے ٹھوس نہیں تھے اور سزا تو یکسر اس بنیاد پر تھی ہی جو الزام ان پر لگایا گیا تھا۔

مثال کے طور پر نواز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو لندن فلیٹ خریدنے کے لیے رقم دی۔ مزید یہ کہا گیا کہ مذکورہ فلیٹ 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت ہیں، لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیب کی جانب سے یہ نکتہ ثابت کرنے کے بجائے کہ اس وقت نواز شریف کے بچے ان کے زیر کفالت تھے یا نہیں، محض اس مفروضے کی بنیاد پر مقدمہ کھڑا کیا گیا کہ مذکورہ فلیٹ خریدتے وقت ان کے بچوں کی جو عمر تھی اس عمر میں عموماً بچے اپنے والدین کے زیر کفالت ہوا کرتے ہیں۔

لہذا اس نکتے کو بنیاد بنا کر یہ تصور کیا گیا تھا کہ 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت فلیٹس کی ذمہ داری سے نواز شریف مبرا نہیں ہو سکتے۔ اس مقدمے کے آغاز سے ہر ذی شعور کہہ رہا تھا کہ یہ کیس میرٹ کے بجائے سیاسی مقاصد کی بنیاد پر قائم ہے اور اس وقت ہم نے ان سطور میں جو سوالات اٹھائے تھے نیب کی جانب سے آج تک ان کا جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر یہ واضح ہونے کے بعد بھی کہ لندن میں موجود گمنامی فلیٹس نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہیں، نیب ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس جائیداد سے براہ راست نواز شریف کا تعلق ہے۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے وقت میاں صاحب کے بچے کم عمر تھے، تو بھی محض اس دلیل کو جواز ٹھہرانے کے علاوہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ان کی خریداری کے لیے پیسے میاں صاحب نے ہی غیر قانونی آمدن سے بھیجے تھے۔ جبکہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ بچے اپنے دادا کے زیر کفالت تھے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں اس خریداری کے لیے سرمایہ اپنے دادا سے ملا ہو۔ مریم نواز اور حسین نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں یہ درج ہے کہ انہوں نے عدالت کے روبرو جھوٹے کاغذات جمع کرائے۔

اس الزام میں اگر سچائی ہے تو پھر بھی مذکورہ ٹرسٹ ڈیڈ تو بہن اور بھائی کے درمیان ہے لہذا اس بات کی کوئی وضاحت درج نہیں کہ مریم نواز نے اس عمل سے اپنے والد کو کس طرح تقویت پہنچائی۔ پیپلز پارٹی کے واویلے کے جو بھی مقاصد ہوں اس تاثر کو اب نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ پاکستان میں جب کسی جماعت کو عتاب کا نشانہ بنانا ہو تو اس کے رہنماؤں کے خلاف کیس موثر ہو جاتے ہیں اور جب اس جماعت کو کسی وجہ سے ریلیف دینا مجبوری بن جائے تو صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔

Facebook Comments HS