نوحۂ غزہ
غزہ میں انسانیت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، عمارات گر رہی ہیں فضا گردآلود ہے، معصوم بچوں، خواتین اور بزرگ لوگوں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی سرعام پامالی اور عالمی اقدار کی پاتالی ہو رہی ہے۔ اب فرق یہ ہے کہ میڈیا کی وجہ سے سب کچھ عیاں ہو رہا ہے۔ دنیا میں احساس جاگزیں ہو رہا ہے کہ کہ مغرب کا مکروہ چہرہ کھل کر عیاں ہو رہا ہے۔ ان کی گوری رنگت پہ نہ جائیں، اس رنگت کے نیچے انتہائی بھیانک اور سیاہ دل دھڑک رہے ہیں۔
یہ کیسی جنگ ہے جس میں ایک طرف معصوم شہری محض نشانہ بن گئے ہیں اور دوسری جانب اسرائیل کی جدید ترین فوج جس کا سارا سرمایہ، سامان حرب سب امریکی و برطانوی اور یورپی خیر خواہوں کی بدولت ان کو گاجر و مولی کی طرح کاٹ کر بھسم کر رہا ہے۔ غزہ پہلے ایک کھلی زنداں کی مانند تھا اور اب معصومان کا قبرستان بن گیا ہے۔ مگر یاد رکھیئے گا کہ یہ محض آغاز مہم جوئی ہے، پہلا مورچہ غزہ پھر بیروت، دمشق، تہران، دوبئی، مکہ و مدینہ منورہ ان کے اگلے واضح اہداف ہیں۔
آج بھی عرب زادے خواب خرگوش میں مست حال ہیں انہیں معلوم تب ہو گا جب وہ اپنے بچوں کے چیتھڑے اٹھا اٹھا کر دہائیاں دے رہے ہونگے اور تب کوئی بھی ان کی نہیں سنے گا۔ فی الحال اسرائیلی حکومت کی سب سے پہلی کوشش ہے کہ کسی طور وہ 23 لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بیدخل کر کے صحرائے سینائی میں دھکیل دے اگر ایسا ممکن ہوا تو یہ 21 ویں صدی کا سب سے بڑا المیہ ہو گا۔ بہرحال کوئی بھی ایسی کارروائی فلسطینیوں کے جذبۂ حریت کو کچل نہیں سکتی وہ مر جائیں گے مگر شکست کو کھلی آنکھوں سے قبول نہیں کریں گے۔
یہ لعنت کا طوق بن کر اسرائیل کے ماتھے پہ لٹکا رہے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلیوں کی مائیں نوحہ خواں ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی واپسی کے لئے حکومت پہ سخت مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہمارے پیاروں کو واپس لاؤ، اب ظاہر ہے وہ 230 مغوی ہیں وہ اس طرح زور زبردستی تو واپس لائے نہیں جا سکتے اس کے جنگ بندی لازم ہے۔ اس لئے ہمارے خیال میں اس پاگل پن کا خاتمہ غیر متوقع طور پہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل نے جو جنگی کابینہ بنائی ہے وہ بھی اس مسئلے پہ اب تقسیم کا شکار نظر آتی ہے۔
حماس برسوں سے اس کوشش میں تھی کہ ان کے جائز حقوق کی پاسداری کی جائے مگر جابر اسرائیلی حکومت کسی طور کچھ سننے سمجھنے کی روادار نہ تھی پھر 7 اکتوبر ہو گیا اب وقت اس سے زیادہ موزوں نہ تھا کیونکہ اسرائیل کے اندرونی مسائل نے ان کی توجہ بٹا دی تھی کیونکہ انتہاپسند حکومت چاہ رہی تھی کہ وہاں عدالتی اصلاحات کردی جائیں اور یوں حکومت عدلیہ کو کچلنے کا پروگرام بنا چکی تھی مگر حزب اختلاف نے بھرپور مخالفت سے اس کو روک رکھا تھا اور سارا دھیان اپنی اندرونی خلفشار پہ تھا۔
مغربی ممالک میں بھی بہت سے معاشرتی ناہمواریاں ہیں جس وجہ سے وہاں ہے عوام اپنے ٹیکس کا پیسہ غیر ضروری مہم جوئی سے روکنے کے لئے لوگ بآواز بلند کوشش کر رہے تھے کہ یوکرائن کی جنگ رکوائی جائے مگر بیچ میں غزہ آ گیا اور عالم امن کا سارا منظر یکسر ہی تبدیل ہو گیا اب وقت بدل چکا ہے، پرانے جابرانہ طرز حکومت سے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالیوں کی بندش لازم ہے۔ معصوموں کا خون جلد رنگ لانے والا ہے۔


