وکالت، وکیل اور کمرہ عدالت کا تقدس

سر جھکائے دیوار کے ساتھ نا امیدی کا استعارہ بنے ؛بلاوے کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ناظر عدالت کے آدمی نے بلند آواز میں میرا نام پکارا۔ دل دھڑک کر سکڑ سا گیا۔ کمرہ عدالت میں جج صاحب مرکزی کرسی پر ٹھاٹھ سے تشریف فرما تھے۔ جج صاحب کا رعب اور دبدبہ دیکھنے لائق تھا۔ میں شرماتے، لجاتے، کپکپاتے ملزم کی حیثیت سے پیش ہوا۔ جج صاحب نے پوچھا۔ آپ کا نام کیا ہے۔ آپ کے وکیل کدھر ہیں۔ آپ کب سے اس کیس میں مطلوب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کہا : وکیل صاحب ہائی کورٹ میں مصروف ہیں۔ آپ کیس انتظار میں رکھ لیں۔ میں وکیل کے ہمراہ پیش ہو جاؤں گا۔ جج صاحب نے کہا۔ ٹھیک ہے، بارہ بجے آجائیں۔ میں جلدی سے کمرہ عدالت سے باہر نکل آیا۔ کورٹ میں وقت کو گزارنا گویا سولی پر لٹکنے کے مترادف ہے۔ بارہ بجے وکیل صاحب تشریف لے آئے۔ مجھ سے پوچھا کہ کیا بنا۔ میں نے بتلا دیا کہ آج بحث ہو نی ہے۔ آپ کی موجودگی لازمی ہے۔ ٹھیک بارہ بجے ہم کمرہ عدالت میں جج صاحب کے روبرو پیش ہو گئے۔
جج صاحب نے فریقین کی بحث کو سنا۔ مجھ سے اور میری اہلیہ سے پوچھا کہ آپ دونوں پڑھے لکھے اور برسر روزگار ہیں۔ اب جب کہ آپ دونوں میں کچھ باقی نہ رہا ہے تو کورٹ میں ایک دوسرے کو محض انا کی تسکین کے لیے کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔ ہمارا تو کام ہے یہاں آنا۔ ہمارا تو رزق لگا ہوا ہے۔ ہمیں آنا پڑتا ہے۔ ہم دلائل سنتے ہیں، ثبوت دیکھتے ہیں۔ بحث کرواتے ہیں اور فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک نہ کوئی ملزم ہے اور نہ کوئی مدعی۔
دونوں سائل ہیں۔ جن کے اپنے اپنے معاملات و مفادات ہیں۔ ہمیں انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دینے کا اختیار ہے ؛ جو ہم دیتے ہیں۔ آپ یوں کریں کہ آپس میں معاملات طے کر لیں۔ مجھے تو فیصلہ کرنا ہے۔ میرا فیصلہ کسی ایک کے حق میں ہو گا اور دوسرے کے خلاف۔ جس کے خلاف آئے گا وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا پھر سپریم کورٹ تک جائے گا۔ انسانوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ غلطی کو تسلیم کر کے آگے بڑھ جانے والا بہتر اور اعلیٰ انسان ہوتا ہے۔
یہ میری ذاتی رائے ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ جج صاحب نے پند و نصیحت کا پورا باب بھری عدالت میں اس قدر متاثر کن انداز میں کھولا کہ مجھ سمیت سب پر اصل صورتحال کی حقیقت عیاں ہو گئی۔
بیگم نے کچھ حیل و حجت کا مظاہرہ کیا تاہم انھیں بھی سمجھ آ گئی کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔ اب یہی راستہ ہے۔ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا ۔ قصہ مختصر! ہم دونوں میں ڈیل ہو گئی اور سبھی معاملات طے پا گئے۔ میرے وکیل یعنی چودھری اویس صاحب نے مجھ سے کہا کہ مبارک ہو! اللہ کا آپ پر کرم ہوا۔ آپ اس اذیت سے رہا ہوئے۔ میں حیران ہوا۔ ایک وکیل کے پاس پانچ چھے کیس ہیں۔ اس مد میں وہ مجھ سے مزید معقول فیس لے سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہہ رہا ہے کہ تم ڈیل کر لو اور سب معاملات باہم طے کر لو۔ اب میری ضرورت نہیں رہی۔ جج صاحب درست کہتے ہیں۔ یہ مشورہ بہت اچھا ہے۔ جج صاحب اور وکیل صاحب کے کہنے سے ہماری ڈیل ہو گئی اور سب معاملات بطریق احسن انجام پا گئے۔ اس واقعے کو سال گزر چکا۔
کورٹ کچہری کے چکر کاٹنے کی مشقت ختم ہو چکی۔ اذیت، مصیبت، ملامت کا باب بھی ختم ہوا۔ زندگی رواں دواں محو سفر ہے۔ محض یادوں میں بیتے وقت کی گرد چہرے کو آلودہ کرتی ہے۔ ایک بے نام سی کسک ہے جو کبھی کبھی روح میں اتر آئے تو نیند میں خلل اور دماغ میں خلجان کا سبب بنتی ہے۔ یہ دنیا جان، مال، عزت اور آبرو سمیت ہر چیز کو آزمائش کی کسوٹی سے گزار کر دیکھتی ہے کہ کس میں کتنا دم ہے۔ حالات نے ہمیں بھی اس چکی میں برابر پیسا ہے اور پیس کر سرمہ بنا ڈالا ہے۔
اب ہم کسی کی آنکھ میں نہیں کھٹکتے۔ ایک جج کو ایک باپ، ایک استاد اور ایک دوست کی حیثیت سے کھائی میں گرتے ہوئے ایک نا امید انسان کو بچا لینے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایک وکیل جس کا کام ہی اپنے گاہک کو ہر طرح کا قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ وہ درست راہ دکھا تا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ درست کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی جبر مسلسل ہے۔ یہاں جو آیا ہے ؛اس نے آزمائے جانا ہے۔
زندگی میں اچھے برے ہر طرح کے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ایک انسان اپنے اندر کتنے انسانوں کا اجتماع کیے ہوتے ہے۔ یہ امر حیران کن ہے۔ جج صاحب کے اس مثبت طرز عمل نے ہم دونوں کو ایک نئی زندگی، ایک نیا راستہ اور ایک نیا عزم حیات دیا۔ میرے وکیل نے مجھے سابقہ اہلیہ کے حوالے سے انا کے لیے ہر ممکنہ حربہ اختیار کرنے سے روکا۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے۔ پروفیسر صاحب! ہمارا سابقہ سارا دن چور اچکوں، ملزموں، لٹیروں، بدمعاشوں، زانیوں، ڈاکوؤں اور پیشہ ور مجرموں سے پڑتا ہے۔
ہمیں چہرہ دیکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ کون کہاں تک جائے گا اور کون کس لمحے پتلی گلی بھاگ جائے گا۔ ہمارا کام اپنے کسٹمر کو ڈیل کرنا اور سیٹسفائی کرنا ہے۔ ہم سے جو جس نیت سے آتا ہے ہم اسے ویسے ہی ٹریٹ کرتے ہیں۔ آپ جیسے پڑھے لکھے حالات سے زچ ہو کر اس طرف آ نکلے تو ہمیں ان سے دلی ہمدردی ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ آپ جیسے حالات کے مارے اور سمجھوتے کی آڑ میں رشتوں کو قربان کرنے والے اور جز وقتی جذباتی کیفیت سے مغلوب ہو کر جذباتی فیصلے سے پر بضد متاثرین کو جلد از جلد یہاں سے نکالا جائے۔
اگر آپ کسی سطحی ذہن رکھنے والے نا تجربہ کار اور ناپختہ ذہن کے حامل وکیل کے ہتھے چڑھ گئے تو بدلے کی آگ میں جھلستے انصاف کے منتظرین کی عمر عزیز کا دور زریں، انھیں سڑکوں، دیواروں، پتھاروں اور نوٹس بورڈ پر آویزاں قانونی عبارت کی یاددہانی میں گزر جاتا ہے اور حاصل سوائے پچھتاوے اور رنج کے کچھ نہیں ہوتا۔ کچی عمر میں فلموں میں ایکٹنگ کرتے ہوئے جج صاحبان اور وکلا کو دیکھا تھا۔ گاؤں کے بوڑھوں سے سنا تھا۔ دوستوں سے دوران گفتگو یہ اخذ کیا تھا کہ کورٹ، کچہری میں انسان نہیں ہوتے۔
یہاں پیسہ بنانے والے، زیادتی کرنے والے، نا انصافی کو فروغ دینے والے اور حد درجہ احترام نفسی کی تذلیل کرنے والے کالے کوٹ میں کردار ہوتے ہیں۔ میرا سابقہ جب ان کالے کوٹ والوں سے پڑا تو میرے ذہنی تاثر، میری مشاہداتی توقعات اور میری سطحی واقفیت کے بر عکس مجھ سے معاملہ کیا گیا۔ مذکورہ واقعے کے بعد مجھ پر یہ کھلا کہ ادارے سر تا پا کبھی غلط نہیں ہوتے۔ اداروں میں موجود افراد کی ایک تعداد اپنے اصول پر سمجھوتہ کر سکتی ہے۔
کسی شخص یا کسی ادارے کے بارے میں محض بدگمانی، کم علمی، کج فہمی اور سنی سنائی بات پر رائے قائم کر کے اپنی رائے کی تشہیر کرنا (میرے نزدیک) دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جس رائے کی بنیاد ؛محض مشاہدے پر ہوتی ہے وہ در حقیقت بطلان کی آماجگاہ ہوتی ہے۔ ذاتی تجربے سے گزاری ہوئی روداد ہی زندگی کے اصل رخ کا حقیقی تعارف و منہج ہوتی ہے۔ وکالت، وکیل اور کمرہ عدالت کا تقدس بحال رکھنے والے آج بھی موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اصول پرور اور قانون کے امینوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خدا کرے کہ اس ارض پاک کو انصاف کے عین معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کرنے والے قانون کے راہنما نصیب ہوں ؛ جن کا ایمان پاکستان کی پینل کوڈ پر ہو۔ قانون کی حکمرانی، تحفظ اور عمل داری کے لیے انھیں جان سے گزرنا پڑے تو لمحہ بھر کا توقف ان سے سرزد نہ ہو۔ آمین

