غزہ، افغان مہاجرین، اور فیمنزم


سیلاب زدگان خواتین کو سینیٹری پیڈز عطیہ کرنے پر حقوق نسواں میں کام کرنے والی رضاکاروں کو مغربی جاسوس، سازشی، اور بے شرم کہنے والے اب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں پیڈز کیوں نہیں بھیج رہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جو نیلے پیلے بالوں والی ہزاروں لڑکیاں اسرائیل کے خلاف مہم جوئی میں شریک ہیں یہ وہی فیمنسٹ ہیں، جن کی سوچ اور نظریات کو سال بھر مشرق اور مغرب کے مذہب پسند اور قدامت پرست تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اکثریت میں احتجاج میں شریک وہی بالخصوص یہودی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ہیں جو مذہب کے نظریے سے بیزار ہیں، مذہب اور قوم سے بڑھ کر انسانیت کو تقویت دیتے ہیں۔

جہاں تک بات پاکستان کی ہے تو اگر پاکستان کے لوگ غزہ کی براہ راست کیا دوسرے طریقوں سے مدد نہیں کر سکتے تو یقین رکھیں پاکستان کی فیمنسٹ عورتیں بھی غزہ میں ماہواری کے پیڈز نہیں بھجوا سکتی۔ اگر پاکستان سے امدادی جہاز روانہ کیے گئے تو پاکستانی عورتوں سے نفرت کرنے والوں کو بتاتی چلوں سب سے پہلے پاکستانی کی فیمنسٹیں خواتین اور بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھیں گی۔ بہت سی پاکستانی فیمنسٹ نے اپنے تئیں بین الاقوامی مسلمان تنظیموں سے رابطے بھی کیے ہیں جو وہاں امدادی سامان بھیج سکیں۔

ہر بات پر عورت مارچ یا پاکستانی فیمنسٹ تحریک پر انگلی اٹھانے والے دن میں ایک آدھ بار ان کے سماجی روابط کے ذرائع ابلاغ کو دیکھ لیا کریں اور یہ کوئی دوڑ نہیں ہے، لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں، ہزاروں مقبوض اور مہبوس انسان بے دردی سے قابضوں کے ہاتھوں جان گنوا چکے ہیں اور کچھ لوگوں کو ابھی بھی اپنے ملک کی عورتوں کے نظریات سے مسئلہ لاحق ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اور آپ براہ راست کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مغرب کے اجارہ داروں کی اصلیت جاننے کی بجائے اپنوں پر نشانے داغیں۔

سینٹری پیڈز کو لے کر پاکستان کی عورتوں کو شرم دلانے اور تمسخر اڑانے والے کس دیدہ دلیری سے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جیسے جنگ کا ہونا عورت مارچ کی سازش ہو۔

صرف یہی نہیں، اپنی بچیوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ”غیرت مند“ صیہونی بھی غزہ کے بچوں کے لئے مغموم ہیں۔ ظلم بس ظلم ہوتا ہے، اس کا تاثیر اور شدت کا تعلق خطے، تاریخ، یا نظریات سے نہیں، ظلم سہنے والے انسانوں کے درد سے ہوتا ہے۔ اپنے اطراف ظلم و ستم کے پہاڑ سر کرنے والوں کے پاس بھی اخلاقی مچلکے دکھائی دیتے ہیں۔ افغانوں کو دربدر کرنے پر خوشی کا اظہار بھی بہت سوں کو مکمل طور پر صیہونی بناتا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد پاسپورٹ یا شہریت رکھنے والے پاکستانیوں پر فخر کرنے والے پاکستان میں پیدا ہونے والے افغان بچوں کو جلا وطن کرنے پر بھی جشن منا رہے ہیں۔

اگر مغرب کے پاکستانی جنہوں نے کبھی پاکستان میں قدم تک نہ رکھا ہو پاکستانی ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں پیدا ہو کر، اس ملک کی تکالیف اور آفتیں، سیلاب، زلزلہ، دہشت گردی، بھوک پیاس سہنے والے افغان بچے بھی پاکستانی ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ کرکٹ میچ میں پاکستان کی بجائے افغانستان کا جھنڈا لہرانے کا جواز آپ کو انسانیت کے درجے سے گرا سکتا ہے تو آپ بھی بہت حد تک صیہونی ذہنیت والے ہوئے۔

یہ بات سچ ہے کہ غزہ کے مظلوموں کو پاکستان کا یو این میں بیان یا ہمدردی کے نہ نظر آنے والے پیغامات نہیں، دفاع کرنے والی افواج چاہئیں۔ وہ ایک ہی سوال کرتے ہیں جس کو ہماری قومی سلامتی پالیسی پورا نہیں کر سکتی۔ ان کو پاکستان سے بس یہ چاہیے۔

یہ بات بھی سچ ہے کہ انسانیت کوئی بہت بڑا اخلاقی معیار نہیں ہے، مظلوموں پر ظلم کرنے والے جانور نہیں، مکمل انسان ہوتے ہیں، انسانیت کے بہت سے پہلوؤں میں سے ایک پہلو سفاکیت اور شدت پسندی ہے۔ یہ ظلم انسان ہی انسان کے خلاف، مسلمان ہی مسلمان کے خلاف کرتے آئے ہیں۔ ہم مذہب ہونا اور درد محسوس کرنا بھی کسی کو کوئی مقام نہیں دیتا۔ فضیلت کی بات تو یہ ہے کہ آپ کا ہم مذہب نظریہ کوئی سفاکیت کرے اور لاکھوں لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوں جیسے آج مغرب کے ہزاروں ”لبرل“ اور ”ملحد“ مسلمان بچوں، عورتوں، اور مردوں کے لئے کھڑے ہیں۔ آپ غزہ نہیں جا سکتے، گلی محلے کے افغانوں کے لئے لڑ لیں، کوئی احتجاج کر لیں، کسی تشدد سہتی عورت کو تحفظ فراہم کر دیں، کسی کو کھانا، کسی کو دوا لا کر دے دیں، بہن اور بیٹی کی زمین اس کے نام کر دیں۔ شہر کی صفائی کے لئے سب سے پہلے گھر کا صاف ہونا ضروری ہوتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments