بوسنیا کی چشم دید کہانی-51
26 اپریل کی شام کو ہم سٹولک واپس پہنچے۔ 30 اپریل سے میری آخری ماہانہ رخصت کا آغاز ہو رہا تھا۔ اس دوران چھ سالانہ چھٹیاں بھی جمع ہو چکی تھیں جن کو ساتھ ملانے سے بارہ دن کی چھٹیاں بن گئیں۔ اس چھٹی کے دوران مسافر کی منزل یورپ کے وہ دو شہر تھے جن میں رواں زندگی کی ہلچل زندہ دلوں کو دور دور تک محسوس ہوتی رہتی ہے یہ دو شہر پیرس اور لندن ہیں۔
میں نے اپنے اس سفر کا آغاز 30 اپریل ٍ 1997 ء کی سہ پہر کو سٹولک سے سپلٹ روانہ ہو کر کیا۔ سپلٹ تک مجھے چھوڑنے کے لیے اقبال کو آنا تھا۔ اس سمت جانے والی ہر گاڑی میں زونووی اور ولاڈی سلاؤ، مکارسکا نامی قصبے میں ”زغرابانکا“ بینک تک آنے کے لیے، جگہ حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ امیدوار ہوتے تھے۔ بہت سے دوسرے مانیٹر بھی اگرچہ اس بینک کے کھاتہ دار تھے لیکن بینک سے ایسا عہد وفا کسی اور نے کم ہی استوار رکھا ہوا تھا۔ سیکا، ایڈی گرین اور اقبال کو یہ یقین تھا کہ ان دونوں کا ذریعہ آمدن تنخواہ تک محدود نہیں ہے۔ اکثر رات کے پچھلے پہر تک ان کا سرکاری گاڑی کے ساتھ اسٹیشن سے غائب رہنا اس شبہے کو تقویت بھی دیتا تھا، لیکن اس شبہے کی تصدیق میں کوئی ثبوت کبھی نہ مل سکا۔
مکارسکا تک ذونووی اور ولاڈی سلاؤ بھی ہمارے ہم سفر تھے۔ اس کے بعد سپلٹ تک کوئی ایک گھنٹے کا سفر تھا۔ ہم سات بجے شام سپلٹ پہنچے۔ زغرب جانے والی ریل گاڑی کی روانگی میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے۔ اقبال کو واپس بھی جانا تھا۔ واپسی کی مسافت تین گھنٹوں کی تھی۔ ذونووی اور ولاڈی سلاؤ کو بھی مکارسکا سے ساتھ لینا تھا۔ اس نے ادھر مجھے سپلٹ پہنچایا، ادھر تکلف برطرف واپس چلا گیا۔
اڈریاٹک کے ساحل پر واقع اس شہر کی بندرگاہ، ریلوے اسٹیشن اور بس سٹینڈ ایک دوسرے کے بالکل قریب واقع ہیں۔ ان تینوں مقامات پر مسافروں کی آمد و رفت کا سلسلہ چو نکہ ہر وقت جاری رہتا ہے، لہٰذا یہاں ایک میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ ساحل سے ذرا ہٹ کے ایک قطار میں پھیلے ہوئے کیفے باروں میں خوب چہل پہل ہوتی ہے۔ میں چار ماہ قبل اس ساحل پر تقریباً اسی وقت، پاکستان جانے کے لیے پہنچا تھا۔ آج یہاں پہنچ کر مجھے فلپ بے حد یاد آیا جو سپلٹ کے ہر سفر کے دوران رضا کار ڈرائیور کے طور پر ہمیشہ ہمارے ہمراہ ہوتا تھا۔
جنوری میں اختتام مشن پر فرانس روانگی کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہ ہوا تھا۔ میں نے وقت گزارنے کے لیے اسی کیفے بار کا انتخاب کیا جس میں ہم نے آخری مرتبہ اکٹھے کافی پی تھی۔ ساحل پر رونق کا وہی عالم تھا لیکن میرے لیے آج کی شام درد کی شام تھی۔ کوشش کے باوجود میں پہلے کی طرح اس منظر میں اس طرح گم نہ ہو سکا کہ نہ اپنی خبر رہے اور نہ زمانے کی۔
سپلٹ سے زغرب کے لیے ریل گاڑی وقت مقررہ پر رات 9 بجے روانہ ہوئی۔ گاڑی میں مسافروں کی تعداد برائے نام تھی۔ میں چار مسافروں کے کمپارٹمنٹ پر اکیلا قابض تھا۔ ادھر گارڈ ٹکٹ چیک کرنے کے بعد آگے بڑھا ادھر میں نے دروازہ بڑھا کر پردے کھینچ لیے اور ایسا گھوڑے بیچ کر سویا کہ صبح زغرب کے نواح میں آنکھ کھلی۔ اسٹیشن سے ائرپورٹ تک پہنچنے میں حسب معمول پون گھنٹہ لگا۔ میں کوئی ساڑھے سات بجے وہاں پہنچا تو لاؤنج میں واقع اکثر دفاتر ابھی بند تھے۔ بین الاقوامی آمد والے لاؤنج سے باہر کونے میں واقع کیفے بار کے کاؤنٹر پر وہ خاتون آج بھی موجود تھی جسے دیکھ کر فراؔز کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
اس ”زمانے“ میں راقم الحروف ہمیشہ پیش پیش ہوتا تھا۔
زغرب سے پیرس کے لیے کروایشیا ائر لائن کی پرواز نو بجے روانہ ہوئی۔ دو گھنٹے بعد مسافر چارلس ڈیگال ائرپورٹ کی عمارت کی بھول بھلیوں میں سے نکلنے کا راستہ پانے کی تگ و دو میں لگا ہوا تھا۔ ایک لمبی مسافت کے بعد آخر یہ مرحلہ طے ہو گیا۔ خارجہ دروازے کے پہلو ہی میں معلومات عامہ کا کاؤنٹر تھا۔ وہاں پہنچ کر ہمیشہ کی طرح سستی رہائش کے لیے راہنمائی چاہی۔ جواب میں Three Duk Hostel کا ایک تشہیری پمفلٹ تھما دیا گیا۔
ساتھ ہی شہر کے نقشے پر اس کے محل وقوع کی نشان دہی بھی کر دی گئی۔ سہ بطخی ہاسٹل کا کرایہ 97 فرانک یومیہ تھا۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے پہلے ائرپورٹ سے اوپرا تک بذریعہ بس جانا تھا۔ اس کے بعد زیر زمین میٹرو کے ذریعے ایفل ٹاور کے اسٹیشن سے دو اسٹیشن بعد فلیکسی فیوری کے اسٹیشن پر اترنا تھا۔ میں اسٹیشن سے باہر آیا تو سہ بطخی ہاسٹل کی چوبارہ نما عمارت میرے بالکل سامنے تھی۔ اس کے صحن کا گیٹ کھلا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی شروع ہونے والی گزر گاہ میں ایک پرانی سی گاڑی کھڑی تھی اور ڈانگری پہنے ایک شخص اس کا بونٹ کھولے اس کے انجن پر جھکا ہوا تھا۔ میں نے یہ منظر دیکھا تو سوچا۔
ع۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔
لگتا ہے کہ میں ہاسٹل کے بجائے ورک شاپ میں آ گیا ہوں۔ میں نے کھنکار کر اس شخص کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پوچھا
کیا یہی سہ بطخی ہاسٹل ہے؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بیرونی گیٹ سے ملحق ایک دوسرے دروازے کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ میں نے جب یہ دروازہ کھولا تو میرے سامنے ”ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں“ والا منظر تھا۔ یہ ایک کیفے بار تھا جس میں پڑے ہوئے اونچے اونچے سٹول بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے۔ کاؤنٹر پر ایک لمبی ناک والی ٹانڈا سی لڑکی موجود تھی جو یہاں پڑے ہوئے پیگ اور گلاس سنبھال رہی تھی۔ وہ اس قدر کم زور تھی کہ لگتا تھا کہ آج ہی بستر علالت کو چھوڑ کر آئی ہے۔ شاید اسی لیے ایسی ”تم“ کی موجودگی میں بھی مے کدے کی ویرانی اور خم و ساغر کی اداسی قائم تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے ہیلو سے میرا استقبال کیا
پھر مجھے جوابی ہیلو کے تکلف کا موقع دیے بغیر بولی
ہاسٹل دن 12 تا شام 5 بجے بند ہوتا ہے۔ آپ کو یہاں ٹھہرنا ہے تو بکنگ کروا کے سامان میرے پاس جمع کروا دیں۔ کمرہ آپ کو پانچ بجے کے بعد ہی مل سکے گا۔ ہاں یہ یاد رہے کہ یہ یہاں کا روز کا معمول ہے۔ یہاں مقیم ہوتے ہوئے بھی ان اوقات کے دوران آپ کو ہاسٹل میں داخلے کی اجازت نہ ہو گی۔
اس وقت دن کے تین بج چکے تھے۔ مجھے سخت بھوک بھی لگی ہوئی تھی۔ میں نے چوں چرا کیے بغیر ایک دن کا پیشگی کرایہ ادا کیا اور سامان جمع کروانے کے بعد باہر نکل آیا۔ میں نے نقشے کی مدد سے ایفل ٹاور کی سمت پیدل چلنا شروع کر دیا۔ راستے میں ایک جگہ پنیر برگر اور کوک لی پھر سڑک کنارے فٹ پاتھ سے ذرا ہٹ کر ایک بنچ پر بیٹھ کر ظہرانہ شروع کیا۔ برگر کا آخری لقمہ کوک کے گھونٹ کے ساتھ ابھی حلق سے نیچے اترا ہی تھا کہ میں نے سگریٹ سلگا لیا۔
اس دوران ایک نوجوان بھی اسی بنچ پر آ کر بیٹھ گیا۔ ہمارا یوکرینین ساتھی ذونووی فرانسیسیوں کے سامنے اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ پیرس جیسا مہذب شہر پورے یورپ میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا مگر افسوس کہ مجھے ابھی تک اس کی زیارت نصیب نہیں ہوئی تھی کہ میں اپنی شخصیت پر روسیوں کے مرتب کردہ منفی اثرات کی اصلاح کر سکتا۔ اپنے قریب اس نوجوان کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی مجھے اپنے مہذب پن کی فکر لاحق ہوئی۔ میں نے چہرے پر شعوری مسکراہٹ سجا کر اسے ”بوژوں“ کہا۔
کیا آپ انگریزی جانتے ہیں۔ اس نے انگریزی میں پوچھا
اسے میری بدقسمتی سمجھیے کہ میری فرانسیسی بوژوں سے شروع ہو کر ”مرسی بکوہ“ پر ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے جواب دیا۔
کوئی بات نہیں مجھے اتنی انگریزی آتی ہے کہ ہم آپس میں بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔ میں پچھلے دو گھنٹوں سے اس بنچ پر بیٹھا ہوں اور یہاں ایک شخص سے نوکری کے حصول کے لیے ملنے آیا ہوں۔ وہ اپنے فلیٹ پر موجود نہیں ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سال سے بے روزگار ہوں۔ اس نے بتایا۔
اسے جن پریشان کن حالات کا سامنا تھا میں نے ان پر اس سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہا اور پھر بولا
معافی چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنا تعارف تو کرایا ہی نہیں
میرا نام وحید ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں نے اپنا مختصر تعارف کرا دیا۔
مجھے آپ کے ملک کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہیں ہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ کالج میں ایک دفعہ دہشت گردی پر بولتے ہوئے میرے پروفیسر نے پاکستان کی مثال دی تھی۔ وہ بولا۔
اس کی یہ بات سنتے ہی میرا سارا مہذب پن ہوا ہو گیا۔ میں نے بمشکل غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا
مجھے حیرت ہے کہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے پروفیسر کو اپنے ہمسائے میں آئرلینڈ کی مثال تو یاد نہ آئی اور اسے دور کی کوڑی تلاش کرنا پڑی۔
مائیکل سے میری بات کا کوئی جواب نہ بن پایا۔ وہ مطلوبہ شخص کو ایک بار پھر چیک کرنے کا بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ کر چل دیا۔ میں بھی آہستہ آہستہ پیدل چلتا ہوا Invalides تک آ گیا۔ پھر اس کے سامنے سڑک پر دونوں اطراف پھیلے ہوئے چمن زاروں سے گزرتا ہوا دریائے سین کے کنارے پہنچ گیا۔ میں شام ڈھلنے تک دریائے سین کے کنارے چہل قدمی کرتا رہا پھر اسی راستے سے پیدل سہ بطخی ہاسٹل لوٹ آیا۔


