کام نہ کرنے کے بہانے



اکثر ہمارے کچھ بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں ہیں۔ جیسے لوگوں میں شعور بڑھ جائے اور وہ انسانوں کی طرح رہنے لگیں۔ امن و سکون قائم ہو جائے۔ دنیا سے غربت۔ نسلی فسادات۔ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہو جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، عورتوں کے حقوق، باقی سب کے حقوق کو مناسب توجہ ملے۔ پھر بہت سے نسبتا کم بڑے کام بھی ابھی باقی ہیں جن میں ہم اپنا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔ یعنی چھوٹے پیمانے پر خدمت خلق، نئی گھریلو صنعتوں اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی، کسی نئے کاروبار کا اجرا، نئی ایجاد کی خواہش، اگلی کتاب کی تکمیل۔ بڑے بڑے یا نسبتاً کم بڑے کاموں کے لیے کچھ اہم لوازمات درکار ہوتے ہیں جو شاید کبھی موجود ہوں۔ لیکن ابھی بہرحال موجود نہیں ہیں۔ بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کو بڑے بوڑھے اس محاورہ سے سم اپ کرتے تھے کہ نہ کرنے کے سو بہانے مثلاً:

پہلے تعلیم مکمل کرنی ہے
ابھی پیسے نہیں ہیں
کام بہت رسکی ہے
ضروری ریسورسز پورے نہیں
میرے ایسے تعلقات نہیں ہیں
ابھی وقت نہیں مل رہا
ایک دوسرا کام پڑ گیا تھا
بس سستی۔

کل دیکھیں گے
فیملی کو وقت چاہیے۔ بچے چھوٹے ہیں
مجھے اجازت نہیں ملے گی گھر سے
ابھی بہت پلاننگ باقی ہے ہے
ابھی مسائل کچھ اور ہیں
یہ میرے بس کا کام ہے بھی نہیں
ابھی آئیڈیے میں اور بہتری کی ضرورت ہے

یار ایسے بھی ٹھیک ہی چل رہا ہے
میں نے کون سا معرکہ سرانجام دینا ہے
کام کے لیے صحیح بندے نہیں مل رہے
کسی نے مدد کا وعدہ کیا تھا اس کا انتظار ہے
لوگ کیا کہیں گے میں نے یہ کام شروع کر دیا ہے

اب بہت دیر ہو چکی ہے
سب کہتے ہیں بیکار آئیڈیا ہے
شروع تو کیا تھا لیکن پتہ نہیں
میری قابلیت سے آگے کی چیز ہے
میرے دوست نے شروع کیا تھا نہیں چلا
فرصت ہی نہیں ہوتی۔ آرام تک کا وقت نہیں ملتا

کر لیں گے ابھی بہت وقت ہے
آئیڈیا اتنا بھی خاص نہیں
مسئلہ اتنا بڑا نہیں
کسی اور نے شروع کر دیا ہے
یہ ملک اس کام کے لیے صحیح نہیں
بے سود کام ہے کچھ نہیں بدلے گا

سو نہیں ہوئے؟ آف کورس آپ نے دو بار گنے ہیں۔ اسی کو بہانے ڈھونڈنا کہتے ہیں شاید؟ بہانے ڈھونڈنا اصل میں ہمارے دماغ کا ایک خود حفاظتی قدم بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے ناکامی کا خوف یا تنقید سے بچنے کی ترکیب بھی اور ہماری دماغی سستی بھی۔ بیشتر الاوقات ہم اپنے کمفرٹ زون میں ہی ایک پرسکون روزمرہ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔

کمفرٹ زون کا اصل مفہوم تو راحت کدہ بنتا ہے لیکن وہ ایک ادارے کا نام ہے گوگل اس کا ترجمہ ذہنی آسائش کا دائرہ بھی کرتا ہے۔ لیکن مجھے ذہنی آسائش کدہ بہتر لگ رہا ہے۔ اور چونکہ آسائش بھی فارسی کا لفظ ہے تو کدہ کے ساتھ اس کا مرکب جائز ہے۔ یہ ذہنی آسائش کدے ہماری دماغی طبع اور جسمانی رویوں کی ایسی رہائش گاہیں ہوتی ہیں جہاں ہم خود بھی سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس مداخلت سے باز رکھتے ہیں۔ نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہاں کوئی آ نہیں سکتا۔ حالات، واقعات اور لوگ مسلسل کوشش کرتے ہیں کہ اسے تہ و دوبالا کرتے رہیں۔ لیکن ہمارے بہت سے میکنزم ہوتے ہیں جس سے ہم ان حملوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں۔

کمفرٹ زون کا تعلق ہمارے جذباتی سکون یا جسمانی راحت سے ہوتا ہے۔ ہم روز مرہ میں جو بھی زندگی بسر کرتے ہیں اس میں ایک خاص درجہ کا آرام و سکون ہمیں میسر ہوتا ہے۔ بیشتر اوقات ہم بری طرح اس کے عادی ہوتے ہیں خواہ وہ صبح میں ایک کپ چائے کی سادہ سی عادت ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے باہر نکلنا، کسی قسم کی تبدیلی برداشت کرنا ہمیں بہت کھلتا ہے۔ لیکن ہم انسان ہیں پھر بھی ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے اگر کمفرٹ زون کی تبدیلی برداشت کرنا مشکل ہے تو ہم ایڈجسٹ کیوں کر لیتے ہیں۔

دراصل ہم عموماً بڑے آرام کے لیے چھوٹی چھوٹی راحتوں کو قربان کر دیتے ہیں۔ ہمارا دماغ یہ حساب کتاب بہت سرعت و باریک بینی سے لمحوں میں سرانجام دیتا ہے۔ کچھ ایسے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا ہم کہاں کس کس شے کے لیے کن کن سمجھوتوں پر سائن کر جاتے ہیں۔ جی نہیں میں سیورے یا ابراہم اکارڈ کا ذکر نہیں کر رہی۔ نہیں نکاح نامے اور طلاق نامے بھی زیر بحث نہیں ہیں۔ بات صرف یہ ہو رہی ہے کہ کمفرٹ زون سے نکل کر کھانا پکایا جائے یا آج پھر آرڈر کر دیں؟ بجٹ ایڈجسٹ کر لیں گے۔

کوئی بھی بڑا کام کرنے کے لیے۔ نہیں کوئی بھی کام کرنے کے لیے ہمیں کسی حد تک اپنے آرام کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ کہتے ہیں نا کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ عموماً ہمیں اپنے لگے بندھے معمولات میں کوئی ایسی تبدیلی لانی ہی پڑتی ہے جس سے ہماری نئی ضروریات کے لیے جگہ بن سکے۔ میں پودوں کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اپنی ضروریات کی دیکھ بھال کرنے کے لیے یہ کیسے آہستہ روی سے ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے کام کرتے رہتے ہیں۔

پانی کی تلاش میں اپنی جڑیں دور دور تک پھیلا دیتے ہیں۔ روشنی کی خواہش میں سورج کے ساتھ ساتھ چہرہ پھیرتے رہتے ہیں۔ ناتواں بیلیں اپنی بقا کے لیے آس پاس موجود پودوں پر قدم جماتی سر اٹھائے بڑھتی رہتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ فطرت کا ہر عنصر خود کو ایڈجسٹ کر کے اپنی بقا پر قادر ہے۔ جو چیزیں ایک ہی مقام و ماحول میں مقید رہتی ہیں وہ اپنی ضروریات پوری نہ کر پانے پر بقا کی یہ جنگ لڑتے لڑتے ہار بھی جاتی ہیں۔

اور انسان کیا کرتا ہے؟ ویل۔ انسان زیادہ خاص ہے۔ اسے بہت فنکاریاں آتی ہے۔ یعنی ”ایسے بھی ٹھیک ہے۔“ ”سب چل رہا ہے۔“ ”کچھ پانے کے لیے کچھ۔“ وغیرہ۔ پھر انسان اپنی ضروریات محدود کرنا شروع کر دیتا ہے۔ عزت کی دو روٹی اور گھر بسائے رکھنے کے مقدس عقائد کی خاطر۔ سیاسی و فکری ہم آہنگی کی تھیوریوں کے مطابق۔ قومی امن و وقار کے فلسفوں کے زیر اثر۔ اور نہ معلوم کیا کیا۔ ہمارا دماغ ہماری جسمانی اور جذباتی بزدلی کو ہماری خود حفاظتی کی جھوٹی سچی دلیلوں میں ملا کر ہمیں گولی کراتا رہتا ہے۔ جو اب پین کلر یا سکون آور ادویات کے نام سے بھی بکتی ہیں۔ ہم گولیاں کھا کر یقین اور محکم کرتے جاتے ہیں۔ ہم اور مختصر ہوتے جاتے ہیں۔ محدود و محصور، ہم خود پر بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور جو ہے جیسا ہے ٹھیک ہے کے تحت اپنی تمام آزادیاں ایک ایک کر کے فراموش کر دیتے ہیں۔ کیا ہم یہ غلط کرتے ہیں؟

بس یہاں آ کر میں ڈبل مائنڈڈ ہو جاتی ہوں یعنی اگر یہ غلط ہے تو میں کیا سمجھتی ہوں کہ میں سارا دن ہر بات پر ایک معرکہ کھڑا رکھوں؟ اپنے پرسکون آسائش کدے سے باہر آؤں اور ہر شے کو ہر وقت تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہوں؟ پھر میں خود کو سمجھاتی ہوں کہ نہیں نہیں میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔ میں کب کہ رہی ہوں کہ ہر روز گھر کو ری ڈیکوریٹ یا فرنیچر کو ری ارینج کر دیا کرو۔ روٹی ( کی کوالٹی) ، کپڑے ( کے برانڈ) اور مکان (کے حجم ) پر کون روز روز سٹینڈ لیتا ہے؟ (شاید) ایڈجسٹ کر ہی لیتے ہیں لوگ۔ مگر۔ وہ۔ معاشی دہشت گردی، معاشرتی بربریت، سیاسی بدعنوانیوں اور مذہبی جنونیت۔ وغیرہ کے بارے میں ہی کچھ سوچ لیتے ہیں؟

اور یہیں آ کر اوپر دیے گئے بہانوں کی لسٹ کام آنے والی ہے۔ میں نے تو شاید اس میں سے بیشتر استعمال کیے ہوئے ہیں۔ آپ کا کیا سکور ہے؟ اور اگر اور بھی اچھے بہانے ہیں تو ضرور لکھیں۔ کسی بھی بڑے یا نئے کام سے بچنے کے لیے ایک اچھا سا بہانہ تو سب کو چاہیے ہوتا ہے۔ ورنہ جس نے کرنا ہے وہ کہتا ہے۔ کل کرے سو آج۔ آج کرے سو ابھی۔ آپس کی بات ہے یہ محاورہ مجھے بھی کچھ خاص پسند نہیں ہے۔ تو چلیں آئیں ایک اچھا سا بہانہ سلیکٹ کریں اور بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔

Facebook Comments HS