"بر بساط غالب” پر جگنو کی جھلملاہٹ


ہمارا عہد، عہد میر و غالب سے الگ ہے رازؔ
سو اب جگنو کریں گے گفتگو خورشید کے فن پر

لیجیے، ایک جگنو سورج کی آب و تاب پہ روشنی ڈالنے کو حاضر ہے۔ میرے اس جملۂ معترضہ کو ادب سے ہٹ کر کچھ نہ سمجھیے گا۔ یقیناً حالات حاضرہ کا یہی خلاصہ ہے۔ مگر انھیں کے مطابق

رازؔ تم مرزا بھی ہو، سو، تم بھی کر کے دیکھ لو
حضرت غالبؔ کے جیسی پیش دستی ایک دن

تو پھر مجھے کاہے کا ڈر کہ مرزا تو میں بھی ہوں۔ اسی شعر کو پیش منظر بناتا ہوں اور چل پڑتا ہوں۔ جس کتاب کی میں بات کر رہا ہوں، اس میں واقعی سورج جگہ جگہ روشن ہیں اور دیکھنے کی تاب ہو تو ان سے آنکھیں خیرہ ہونے کا مطلب سمجھ میں آ سکتا ہے

آبلوں کی لو سے ہے دشت تمنا کا جمال
گوہر حسرت سے روشن رکھتے ہیں غم خانہ ہم
سناتا رہتا ہوں ظلمت کے قصے مہر و انجم کو
میں اکثر اہرمن سے گفتگو کرتا ہوں یزداں پر
رکھتے ہیں اک سلیقۂ اظہار خاص ہم
بات آزروں کی کرتے ہیں آزر کہے بغیر

”بر بساط غالب“ ان 200 طرحی غزلوں کا مجموعہ ہے جو رفیع الدین رازؔ صاحب نے غالب کی زمینوں میں لکھی ہیں۔ یہ ان کی فنی اور شعری اقلیم کا ایک اونچا منارہ ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ ریاضت اور پختگی کسے کہتے ہیں اور کیسے یہ آج بھی متروک کرنے والی خصوصیات نہیں ہیں۔ اس مجموعے میں شامل اپنے استادانہ کلام میں راز صاحب نے بہت سے روایتی مضامین بھی باندھے ہیں اور خوب باندھے ہیں۔ پرانے استعاروں، تشبیہات اور مضامین کو نئی زندگی دی ہے اور یوں پرانی زمینوں میں بڑے عمدہ مضامین نکالے ہیں

کیسی شبیہ آرزو، کیسا مشاہدہ
ہر منظر شعور و خرد گرد گرد تھا
رو بہ رو نگاہوں کے کیسی بے یقینی ہے
دن میں بھی چراغوں کو میں نہیں بجھا پایا
نکل جاتا ہوں خاموشی سے سوئے دشت تنہائی
میسر ہے مجھے زنداں میں بھی عرصہ رہائی کا
گماں کی تیرگی کو سرسری مت لو کہ یہ افلاک
سدا ظلمت میں دکھلاتا ہے روئے زرنگار اپنا

بات غالب کی ہے، شاید اسی نسبت سے انھوں نے قدما کے دیوان کی طرح غزلوں کی ترتیب قافیے کے آخری حرف کے لحاظ سے حروف تہجی کے مطابق رکھی ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں جو استعارے بہت استعمال ہوئے ہیں ان میں بے چہرہ، آئینہ، صحرا، دشت، بیاباں، درد کی مہک، زخم کی مہک، قامت، عروس زیست، صرصر وغیرہ کے علاوہ ضیا اور قامت سے بنی اضافتیں جیسے ضیائے درد، ضیائے قامت وغیرہ قابل ذکر ہیں اور ان کے فکری افق کا پتہ دیتی ہیں۔ کہیں کہیں بعض مضامین کی تکرار بھی ملتی ہے مگر طویل غزلیں ہوں، وہ بھی طرحی اور پھر دو سو غزلیں اور وہ بھی غالب کی زمینوں میں، تو ایسے کلام کو ہم کیوں نہ اسی کسوٹی پہ پرکھیں جو پرانے دواوین کے لیے ہوتی تھی یا ہوتی ہے جن میں ایک مضمون سو رنگ میں باندھنا محاسن میں شمار ہوتا ہے۔

اسی لیے بڑے بڑے اساتذہ کے دیوان میں آپ کو کئی شعر ایسے ملتے ہیں جو برائے بیت معلوم ہوں، جن میں کوئی عام سی بات نظم کر دی گئی ہو، جو محض مشق سخن کے لیے یا مشاعرے یا طرح کی نیت سے لکھے گئے ہوں اور جن میں ایک سے مضامین ہوں، ایک ہی شاعر کے ہاں بھی اور مختلف شعرا کے ہاں بھی۔ اور اساتذہ ہی کے ضخیم دیوانوں میں ایسے شعر بھی ہوتے ہیں جن کی معنویت وقت کے حساب سے اتنی بدل چکی ہے کہ آج کا قاری اس پہ سوال اٹھانے لگا ہے۔ ایسے میں جب ایک ایسا دیوان سامنے آئے جو پرانی زمینوں میں نیا پن لے آئے، تو اسے پڑھنے اور پرکھنے کے لیے ہمیں پرانے اور نئے، دونوں معیار سامنے رکھنے ہوں گے ورنہ ہم اس کلام سے انصاف نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ میں اس دیوان کے کلام کو بیک وقت اپنی اپنی جگہ روایتی اور جدید پیمانوں پہ تولنا چاہوں گا

ایسی کاوش بے اثر، بے مول تو ٹھہرے گی رازؔ
بازگشت عہد حاضر ہی اگر فن میں نہیں
اک کرن امید کی زنداں میں در آتی ہے روز
کوئی اک دیوار ایسی ہے جو روزن میں نہیں
یہاں زنداں میں در کا اور روزن میں دیوار کا لطف اٹھائیے۔
یہ کیسا خواب ہے، کس قسم کی مسافت ہے
سفر ہے اس پہ کہ جس رہ گزر میں خاک نہیں

ذرا خدا کو باندھنے کے مضمون اور معنوی زاویوں پر غور کیجیے اور یہ شعر دیکھیے، اس پہ داد کیسے نہ دیں

حمد کہتے ہوئے بھی شعر میں ہم
اس کی مرضی سے خدا باندھتے ہیں
سخن شناس اگر ہیں تو مجھ کو پڑھتے ہوئے
خلوص دل سے کبھی رازؔ خوش نوا کہیے

رازؔ صاحب نے غالبؔ کی زمینوں میں دراصل اپنے عہد کو سمویا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آج کا دور قلم بند کیا جائے اور عہد آشوب نہ لکھا جائے سو آپ کو اس میں عہد آشوب بھی ملے گا۔ ان کے کلام میں بندۂ عہد حاضر کی سنگ دلی پر سوال بھی اٹھایا گیا ہے اور قامت کے زعم اور خود پرستی جیسے نرگسی مسائل کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ لوگوں کے دوغلے پن پر انھوں نے کئی مضامین نکالے ہیں۔ رازؔ صاحب کی مضمون نگاری کمال کی ہے، صرف ان طرحی غزلوں ہی میں نہیں بلکہ مجموعی طور پہ ان کے کلام میں یہ خوبی جابجا نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی جگہ انھوں نے غالب کے تتبع میں بڑی مہارت اور کامیابی سے پیچیدگی بھی پیدا کی ہے۔ راؔز صاحب کے ہاں اپنی ذات کے اندر دیکھنے کا عمل بار بار ہوتا ہے۔ وہ روایات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں

ہم کہ جس آداب رفتہ کے ابھی تک ہیں اسیر
بات سچ تھی یا محض وہ دعوی آداب تھا
تمھاری خاکساری کا ہے چرچا ان دنوں ہر سو
سلیقہ آ گیا شاید تمھیں بھی خود نمائی کا
نگاہ شوق کے پرتو سے ہے یہ رنگ جمال
شب سیاہ کے دم سے ہے ضو فشانیٔ شمع

میں نے جب اس مجموعے سے شعروں کا انتخاب کرنا چاہا تو بلامبالغہ مجھے مشکل یوں درپیش آئی کہ اس میں ایسے بہت سے شعر ہیں جنھیں نمونے کے طور پہ پیش کیا جانا چاہیے لیکن ”طویل راہ وفا، مختصر گزارش حال“ کے مصداق ایسا ممکن نہیں تھا، سو چند مثالیں اور دے کر اجازت چاہوں گا۔ اگرچہ یہ بات سننے میں بہت عام سی لگتی ہے مگر سچ ہے کہ اس مجموعۂ کلام میں مشق سخن قابل رشک ہے اور اس کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔ یقیناً اس کے پڑھنے والے کو بحیثیت طالب علم بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے

آگ لو دینے لگی سایۂ غم خوار کے پاس
مہر نادیدہ کوئی ہے در و دیوار کے پاس
میں چل رہا ہوں آسماں سر پر لیے ہوئے
اس رخ سے میرے پاؤں ہیں چرخ کہن کے پاؤں
غالبؔ اور میؔر کو نذرانۂ عقیدت پیش کیے بغیر اس بساط پر کوئی بازی مکمل کیسے ہو سکتی تھی
کھلتا ہے روز ایک نیا باب آگہی
چونکا رہا ہے فکر کو غالبؔ کا فن ہنوز
خوشبو غزل کی دوڑنے لگتی ہے خوں میں رازؔ
دل کھینچتا ہے میرؔ کا طرز سخن ہنوز

Facebook Comments HS