کالی بلی (طنزومزاح)
اسی زمانے میں ایک رسالہ ”خامہ خرابیاں“ کے نام سے شائع ہوتا تھا جس کے مدیر جناب خامہ خراب تھے۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی بیشتر تحریریں ان کے اپنے رشحات قلم کا نتیجہ ہوتی تھیں۔ ان کے ہاں تخلیقی وفور حد درجہ تھا، چناں چہ کبھی کبھی تو ایک مہینے میں دو شمارے بھی منظر عام پر آتے تھے۔ جناب خامہ خراب کا ذوق تخلیق کسی ایک صنف کا پابند نہ تھا۔ ان کا اشہب قلم ہر میدان میں رواں رہتا تھا۔ ایک زمانے میں انہوں نے افسانے بھی تحریر کیے۔
ان کا ایک افسانہ ”کالی بلی“ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین کا معروف زمانہ افسانہ ”زرد کتا“ اسی افسانے کا چربہ ہے۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ حد یہ ہے کہ افسانے کے ناقدین بھی اس بات سے بے خبر ہیں۔ ذیل میں جناب خامہ خراب کا مذکورہ افسانہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اہل نظر اس بات کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ۔ صاف ادھر سے نظر آتا ہے، ادھر کا پہلو! (ورخ)
________
اس صبح بھی برتن سے دودھ غائب تھا۔ اور وہ ظلم کی صبح تھی کہ جو ظاہر تھا، پوشیدہ ہو گیا اور جو پوشیدہ تھا، ظاہر ہو گیا۔ تو وہ ایسی ہی صبح تھی کہ برتن سے دودھ غائب ہو گیا اور میرا ایک گم شدہ قلم ظاہر ہو گیا۔ میں یہ حکایت اسی قلم سے تحریر کرتا ہوں کہ قلم ہی سے آدمی کا سربلند ہوتا ہے اور قلم ہی سے آدمی کا سر قلم ہوتا ہے۔
میں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اس وقت آم کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے اور اپنی بھینسوں کو جگالی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ فرمایا ”یہ بھینسیں نہیں، جن زادیاں ہیں، پرستان سے شیخ سعدی کی“ گلستان، بوستان ”پڑھنے آئی ہیں اور یہ جگالی نہیں کر رہیں، آموختہ دھرا رہی ہیں۔“
میں نے یہ بات سنی تو وجد میں سر ہلانے لگا۔ کافی دیر کے بعد جب وجد میں ذرا کمی آئی تو میں نے عرض کیا ”آج تیسری صبح ہے اور برتن سے دودھ غائب ہے۔ یا شیخ! یہ کیا ماجرا ہے؟“
آپ نے یہ سن کر تبسم کیا اور زبان سے صرف ایک محاورہ ارشاد فرمایا ”گربہ کشتن، روز اول“
میں عرض پرداز ہوا ”یا شیخ، گربہ کیا ہے؟“
فرمایا ”بلی“
میں نے پوچھا ”بھیگی بلی کیا ہے؟“
فرمایا ”بلی جو باراں دیدہ ہو۔“
عرض کیا ”اسے سکھانے کا کیا طریقہ ہے؟“
فرمایا ”دم نچوڑ دی جائے۔“
استفسار کیا ”دم نچوڑنے سے کیا ہو گا؟“
فرمایا ”چوہے اشنان کریں گے۔“
میں نے کہا ”یا شیخ، تفسیر کی جائے۔“
آپ نے جواب میں ایک حکایت بیان فرمائی جسے من و عن نقل کرتا ہوں :
”ایک آدمی کی جورو اپنی سیاہ رنگ کی بلی سے عاجز آ گئی کہ دودھ زیادہ پیتی تھی اور چوہے کم پکڑتی تھی۔ اس نے شوہر کو حکم دیا کہ بلی کو ٹھکانے لگائے۔ حکم بیگم، مرگ مفاجات! شوہر نے بلی کو ایک تھیلے میں بند کیا اور پانچ کوس دور صحرا میں چھوڑ دیا۔ جب واپس آیا تو بلی اس سے پہلے گھر میں موجود تھی۔ اگلے روز دس کوس دور چھوڑ کر واپس آیا تو بلی اس سے پہلے گھر پہنچ چکی تھی۔ تیسرے روز وہ پھر گھر سے نکلا۔ منزلیں مارتا ہوا ایک جنگل میں پہنچا اور بلی کو وہاں آزاد کر دیا۔ واپسی کا قصد کیا تو نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا۔ وہاں سے اس نے موبائل پر جورو کو فون کیا اور دریافت کیا“ کیا بلی گھر پہنچ گئی؟ ”
جوروبولی ”اسے گھر لوٹے تو ایک پہر ہو گیا۔ آپ ابھی تک نہیں پہنچے۔ کہاں رہ گئے؟“
شوہر نے کہا ”نیک بخت! میں راستہ بھول گیا ہوں۔ اب تم بلی کو بھیجو کہ آ کر مجھے گھر لے جائے۔“
یہ حکایت بیان فرمانے کے بعد شیخ نے ایک سرد آہ کھینچی اور آزردہ ہو کر کہا:
”بدقسمت ہے کہ وہ قوم جس کے مرد راستہ بھول جائیں اور حیوان راہ نما بن جائیں۔“
عین اسی وقت ایک شخص لحن میں یہ شعر پڑھتا ہوا وہاں سے گزرا:
؎ حضرت ابوہریرہ سے بلی نہ چھٹ سکی
خواجہ حسن نظامی سے دلی نہ چھٹ سکی
آپ نے اسے پکار کر کہا: ”اے فلانے یہ شعر دوبارہ پڑھ“
اس نے شعر دوبارہ پڑھا۔ پھر آپ پر مراقبے کا عالم طاری ہو گیا اور جب آپ نے سر اٹھایا تو ایک بلی آپ کے دامن سے برآمد ہوئی اور مثل انسانوں کے کلام کرنے لگی۔ میں نے پوچھا:
”یا شیخ! یہ کیا معاملہ ہے؟“
فرمایا: ”یہ میر تقی میر کی بلی ہے، موہنی اس کا نام ہے اور دلی جانے کی آرزو مند ہے۔“
میں نے استفسار کیا ”اسے کلام پر قدرت کیسے حاصل ہوئی۔“
فرمایا ”خدائے سخن کی بلی ہے، کسی عجمی کی نہیں۔“
میں نے پوچھا ”کیا ہر بلی کلام کر سکتی ہے؟“
فرمایا ”دنیا میں صرف دو بلیاں کلام کرتی ہیں۔ ایک یہ جو میرے دامن سے نکلی ہے اور ایک وہ جو کسی کی گود میں بیٹھی تھی۔“
یہ کہہ کر شیخ ’بلی کی چال‘ چلتے ہوئے آم کے درخت پر چڑھ گئے۔ جب وہ درخت کی سب سے بلند شاخ پر شجر نشین ہو گئے تو میں نے زمین سے صدا بلند کی:
یا شیخ! ”یہ چال آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟“
فرمایا ”اہل حسن سے کہ جب وہ پیش قدمی کرتے ہیں۔“
استفسار کیا ”اہل حسن کب پیش قدمی کرتے ہیں؟“
فرمایا ”جب انہیں نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔“
عرض کیا ”نذرانۂ دل؟“
فرمایا ”نہیں، درہم و دینار!“
یہ سن کر میں نے اپنا گریبان چاک کیا اور سگ دنیا کی طرح اپنی دکان کی طرف بھاگا۔ میں نے اپنی ہی دکان سے ایک دینار میں دس ماشے جلاب خریدا اور رات کو دودھ میں ملا دیا۔ اگلی صبح آنکھ کھلی تو دودھ ندارد۔ مگر جب پانچویں رات کے بعد صبح طلوع ہوئی تو دیکھا کہ برتن میں دودھ موجود تھا لیکن اس روز میرا قلم غائب ہو گیا۔


