طلبہ ڈانس پارٹی یا کوئی نائٹ کلب


آج کل تعلیمی اداروں سے اکثر و بیشتر ایسے ایسے اسکینڈلز نکل کر سامنے آرہے ہیں جنہیں سن کر ان درسگاہوں کی بے حرمتی کے مرتکب افراد کی ذہنیت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ کچھ دن قبل کراچی کے ایک نجی اسکول کے طلبہ و طالبات کی ڈیفینس فیز فور کے ایک بنگلے میں پارٹی کی بھی وڈیو وائرل ہوئی جسے دیکھ کر چند لمحے تو یہی گمان ہوا کہ یہ اسکول کے بچوں کی پارٹی تو نہیں بلکہ تھائی لینڈ کے کسی نائٹ کلب کی وڈیو معلوم ہو رہی ہے۔

لیکن جب اس میں ہماری پولیس چھاپہ مارتی ہوئی نظر آئی تو نا چاہتے ہوئے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک پوش ایریا کے امیر زادوں کی اولادیں ہی ہیں۔ جب کہ یہ نازیبا یا نیم برہنہ حالت میں بار میں ڈانس کرنے والی طوائفیں نہیں بلکہ اسکول کی بچیاں ہی ہیں جو اپنے ساتھ آئے لڑکوں کے ساتھ نشے کی حالت میں اس قدر غرق تھیں کہ انہیں کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔

شراب و شباب کی یہ محفل رات چار بچے تک جاری تھی کہ پولیس نے چھاپہ مار کر رنگ میں بھنگ ملا دیا۔

اس چھاپے کے بعد گرفتاریاں بھی ہوئی جس پر کراچی کی عدالت نے محض دس دس ہزار کے مچلکوں کے عیوض گرفتار شدہ افراد کی ضمانتیں بھی دے دیں۔ اکثریت کا ان گرفتاریوں کے سلسلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق پارٹی میں موجود مزدور ٹائپ طبقے سے تھا جب کہ ناقابل ذکر حالت میں نظر آنے والے طلبہ و طالبات یا پارٹی منتظمین کے خلاف کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

اس سلسلے میں نگران وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ انہوں نے ہی منع کیا تھا کہ کسی بچے کو گرفتار نہ کیا جائے، یہ ہمارے ہی بچے ہیں اور بچے غلطیاں کرتے ہیں تاہم ان کے والدین کو وارننگ دی جانی چاہیے۔ جب کہ اسکول کے خلاف کارروائی وزیر تعلیم کا کام ہے۔

یقیناً ملک میں امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ قانون ہونے کی سہولت کی بناء پر بڑے باپ کی اولادیں تو اسی رات اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں لیکن کیا قانون کے رکھوالے اصل مجرموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔ کیا اس اسکول کی انتظامیہ سے بھی اس معاملے میں باز پرس کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ کیا کسی تعلیمی ادارے کی انتظامیہ اپنے طلبہ کی اخلاقی تربیت سے اس حد تک غافل تھی یا پھر وہ بھی کسی مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ جن صاحب کے بنگلے میں اس قسم کی پارٹی کا انتظام کیا گیا، جہاں شراب سمیت دیگر نشہ آور اشیاء با آسانی دستیاب ہو گئیں کیا اس کے خلاف بھی کوئی ایکشن لیا گیا؟

یاد رہے اس پارٹی کا انعقاد باقاعدہ ضلعی انتظامیہ کی اجازت سے کیا گیا تھا۔ اس واقعے کی نیوز میڈیا پر بازگشت بھی اسی سبب ممکن ہوئی کہ پولیس کے چھاپے کے وقت بننے والی وڈیوز منظر عام پر آ گئیں۔ بہت سے لوگ تو ان وڈیوز کلپس کے وائرل ہونے پر پولیس کے خلاف ہی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ انہیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اگر یہ وڈیوز وائرل نہیں ہوتیں تو ان بڑے باپ کی اولادوں کے خلاف چھاپہ مارنے والی پولیس کی ٹیم اسی رات معزول بھی ہوجاتی جنہوں نے پارٹی میں منشیات اور فحاشی کے خلاف اطلاع ملنے پر ایکشن لیا تھا۔

حیرت اس امر پر ہے کیا ان بچے بچیوں کے والدین اپنے بچوں کے اس طرح کے مشاغل سے مکمل طور پر ناواقف تھے یا سب کچھ جان بوجھ کر آنکھیں موندے ہوئے تھے۔ چلو نشہ تو سمجھ آتا ہے کہ والدین سے چھپ کر کیا جا رہا ہو گا لیکن جس قسم کے لباس یا حلیے میں وہ بچیاں تھیں تو کیا وہ بھی والدین کو ان کے گھروں سے نکلتے وقت نظر نہیں آ رہا ہو گا یا ان کے نزدیک معاشرتی رہن سہن، اخلاقی تربیت یا مذہبی حدود قیود دقیانوسی چیزیں ہیں۔ خیر امید ہے ہمارے ارباب اختیار قانون کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکول کالجز کے ناسمجھ بچے بچیوں کو منشیات کی لعنت سے مکمل بچایا جائے اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں۔

ویسے اگر یہی وڈیو کسی داڑھی والے کی یا کسی مدرسے کی آجاتی تو ایک مخصوص مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات نے بجائے فرد واحد کو تنقید کا نشانہ بنانے کے، اسلام نبوت اور نہ جانے کس کس چیز پر دل کی بھڑاس نکال دینی تھی لیکن ملک و قوم کے ان معماروں کی بے راہ روی پر نہ جانے ان کا دھیان کیوں غافل ہے۔

Facebook Comments HS