جہالت اور جنات کا چولی دامن کا ساتھ


ہمارے گاؤں میں لوگوں کی زندگی بہت سادہ اور سست رو تھی۔ پنجابی فلموں میں دکھائے جانے والے روایتی اور ظالم جاگیر دار کا کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگوں کی اپنی ذاتی تھوڑی تھوڑی زمینیں تھیں۔ سارا خاندان زمینوں پر مل جل کر کام کرتا اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتا۔ دیوان صاحب کی ہمسائیگی کی وجہ سے یہاں بھی نت نئی کہانیاں گردش کیا کرتی تھیں۔ موگے کے قریب ایک بہت بڑا کالا ناگ رہا کرتا تھا۔

رات کو پانی لگانے والے دیہاتیوں کو وہ اکثر دکھائی دیتا لیکن اس نے کبھی کسی کو نقصان پہنچانے، خوف زدہ کرنے یا ڈنک مارنے کی کوشش نہیں کی تھی اور دیہاتی بھی اس سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اس کی زیارت کو کار ثواب خیال کیا کرتے تھے۔ آدھی رات کے بعد اس کے رہائشی علاقے سے اللہ ہو اللہ ہو کی صدائیں گونجا کرتی تھیں۔ ایک دن کبیرا اپنی زمینوں سے گھر واپس آ رہا تھا کہ اس نے اپنے سامنے ایک چٹے سفید بھیڑ کے بچے کو اٹکھیلیاں کرتے ہوئے دیکھا۔

اس نے اسے گھر لانے کے خیال سے اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسے محسوس ہوا کہ لیلے کا وزن بڑھتا جا رہا ہے۔ جب اس کا بوجھ نا قابل برداشت حد تک بڑھ گیا تو اس نے لیلے پر نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر خوف زدہ رہ گیا کہ اس کا سر آسمان تک جا پہنچا تھا اور ٹانگیں پیچھے زمین پر تا حد نگاہ پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے ڈر کے مارے اسے زمین پر دے مارا۔ اب وہی معصوم صورت لیلا وہاں کھڑا منمنا رہا تھا۔

کبیرے نے سوچا کہ شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس نے لیلے کو اٹھا کر دوبارہ کندھے پر رکھ لیا اور تھوڑی دیر کے بعد حسب سابق وہی عمل دوہرایا گیا۔ اس کے بعد کبیرہ وہاں سے خوف زدہ ہو کر ایسا بھاگا کہ گھر آ کر ہی دم لیا اور کئی دنوں تک اسے تیز بخار چڑھتا رہا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کبیرے کو ملنے والا بھیڑ کا بچہ دراصل وہی شیش ناگ تھا۔ جو سو سال سے زائد عمر ہونے کے بناء پر اپنی شکل تبدیل کرنے پر قادر تھا۔

دیہاتی اس سے خوف زدہ ہوئے بغیر سارا سارا دن اس کی تلاش میں رہتے۔ وہاں سے گزرنے والے ہر اجنبی پر انہیں شیش ناگ کا گمان ہوتا۔ بھوت پریت، جنات اور چڑیلیں بھی عام لوگوں کی طرح یہاں کے باشندے تھے۔ رات کو قبرستان کے قریب سے گزرنے والوں کی اس مخلوق سے اکثر و بیشتر ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ ان سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر سب کے علم میں تھیں۔

رات کو آپ کہیں جا رہے ہوں اور پیچھے سے کوئی نسوانی آواز میں دریافت کرے کہ کہاں جا رہے ہو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے جواب نہیں دینا اور دوسری بات یہ ہے کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ اگر آپ نے انجانے میں ہی یہ حرکت کر دی تو پھر سمجھو کہ چڑیل کے جال میں پھنس گئے۔ اس لیے جتنی جلدی ہو سکے تیز تیز چلتے ہوئے اس چڑیل کی پہنچ سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔ ٹارچ ایسے شر شرار کے لیے سب سے بڑا خود حفاظتی ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔ جس کے پاس ٹارچ ہوتی ایسی چیزوں کو اس کے قریب بھی پھٹکنے کی جرات نہ ہوتی۔ جن کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا وہ اپنی دھوتی اتار کر الف ننگے ہو کر بھوت پریت کو دکھا کران سے چھٹکارا حاصل کر لیتے۔

اس خود حفاظتی تدبیر کی سہولت گاؤں کے تمام مردوں کو ہمہ وقت مہیا ہوتی۔ رات کو گوشت کے سالن کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد پیاز یا گڑ کھانا لازمی تھا۔ وگرنہ گوشت کی خوشبو پر تو یہ مخلوق فوراً ہی آ حاضر ہوتی۔ سخت دوپہر کو کسی درخت کی چھاؤں میں یا صاف شفاف چٹیل میدان میں رفع حاجت کے لیے نہیں بیٹھنا۔ ایسی زمینیں جہاں کنکر اور روڑ وافر مقدار میں ہوتے۔ جنات کی رہائش گاہیں تصور کی جاتیں۔ گاؤں میں چند ایک گھرانے ایسے بھی موجود تھے جو ان وساوس اور توہمات کے اندیشہ ہائے دور دراز سے آزاد زندگی بسر کرتے تھے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان گھرانوں میں کوئی ایک دو یا زیادہ آدمی تعلیم یافتہ تھے۔ اس زمانے میں پرائمری اور مڈل پاس بھی خاصے تعلیم یافتہ خیال کیے جاتے۔ بلکہ اکثر سکول ٹیچر مڈل پاس ہی ہوا کرتے تھے۔ ان کی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ بھوت پریت ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتے تھے۔ اگر ایسے گھرانوں میں کوئی ایک آدھ فرد کہیں غلطی سے بھی ان کے زیر اثر آ جاتا تو اسے وہ جوتے پڑتے کہ نانی یاد آ جاتی اور اس پر آنے والے جن بھوت بھی توبہ تائب ہو کر گاؤں ہی چھوڑ جایا کرتے۔

ہمارا گھرانا بھی انہیں میں سے ایک تھا۔ میرے والد، چچا اور پھوپھا تینوں کے خاندان ایک ہی گھر میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ ہر خاندان کی ایک ایک کمرے میں رہائش تھی اور ایک بہت بڑا کمرہ مویشیوں کے لیے تھا اور باقی ساری خالی جگہ مشترکہ استعمال میں تھی۔ تینوں ہی انڈیا کے زمانے کے مڈل پاس تھے اور سکول ٹیچر تھے۔ ہمارے اس گھر میں کسی جن بھوت یا ہوائی مخلوق کو داخلے کی اجازت نہ تھی۔ بلکہ اگر گھر سے باہر بھی کبھی کبھار اس غیر مرئی مخلوق سے ملاقات ہو بھی جاتی تو وہ خود ہی کنی کترا کر نکل جایا کرتی تھی۔

ایک رات میرے چچا کھیتوں کو پانی لگانے کے لیے زمینوں پر جا رہے تھے۔ ہماری زمین گاؤں کے بالکل ساتھ ہی تھی۔ پانی گزرنے والا ایک کھالا اسے گاؤں سے علیحدہ کرتا تھا۔ جونہی انہوں نے یہ کھالا عبور کیا تو انہیں شک ہوا کہ سامنے پیلو کے درخت کے نیچے کوئی جاندار موجود ہے۔ چاند کی ملگجی سی روشنی میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی خاتون زمین پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے پاس ہی ایک پانی کا گھڑا اور لوٹا رکھا ہوا ہے۔ اب اگر کوئی اور ہوتا تو خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا۔

لیکن چچا اس دور کے تعلیم یافتہ تھے۔ جب یہ انسانی رویوں پر واقعتاً مثبت اثرات پیدا کرتی تھی۔ انہوں نے بلا توقف بلند آواز سے پوچھا۔ کون ہو؟ جواب میں عجیب و غریب ڈراؤنی سی آوازیں سنائی دیں۔ اچھا تم ایسے نہیں بتاؤ گی میں تمہارے پاس آ رہا ہوں۔ جب وہ اس طرف بڑھے تو جواباً ایک چڑیل اپنے بال بکھرائے عریاں حالت میں اپنے ہاتھوں کو گھماتے ہوئے اور منہ سے خوفناک آوازیں نکالتے ہوئے ان کی طرف دوڑی۔ اب دونوں حریف ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

دونوں میں سے کوئی بھی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے قریب آنے پر چچا نے لاٹھی کو سر سے اوپر اٹھا کر اس پر وار کرنا چاہا تو وہ فوراً ہی زمین پر نیچے گر کر گڑگڑانے لگی کہ خدا کے لیے مجھے معاف کر دو میں تو اپنے پیر کی ہدایت کے مطابق بیٹا حاصل کرنے کے لیے اس وقت یہاں بیٹھی نہا رہی تھی اور میں نے یہ سارا ڈرامہ صرف تمہیں خوفزدہ کرنے کے لیے ہی کیا تھا۔ اب پتہ نہیں چچا نے اس معاملے میں اس کی کوئی مدد کی یا نہیں کی لیکن ان کے بقول دونوں ہی نے اپنی اپنی راہ لی۔

اس قسم کے واقعات اندھیری راتوں میں زمینوں کو پانی دینے والے کسانوں کو اکثر اوقات پیش آیا کرتے تھے۔ لیکن فرق صرف یہی تھا کہ تعلیم یافتہ گھرانوں کے افراد میرے چچا کی طرح خوفزدہ ہوئے بغیر واقعات کی تہ تک پہنچ کر عوام الناس کو حقیقت حال بتاتے ہوئے ان کا خوف دور کرنے کی کوشش کرتے۔ جبکہ توہمات، وسوسہ جات اور اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا لوگوں کی اکثریت ایسے ایسے خوفناک اور مافوق الفطرت واقعات بیان کرتے کہ سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور انہیں دن میں بھی بھوت پریت نظر آنے لگتے۔

Facebook Comments HS