ن لیگ اور ایم کیو ایم کا انتخابی اتحاد: پیپلز پارٹی کے لیے خطرہ؟
قومی انتخابات سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کا اتحاد بننا کوئی نئی اور انوکھی بات ہرگز نہیں ہے۔ اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو منکشف ہو گا کہ سندھ کی سیاسی تاریخ میں اب تک ایک بھی قومی انتخاب ایسا نہیں گزرا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابی اتحاد تشکیل دے کر اسے شکست دینے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابی اتحاد کیوں بنائے جاتے ہیں؟
کیونکہ اس سوال کا جواب تو ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ ہر انتخاب سے قبل سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف انتخابی اتحاد بنایا ہی صرف اس لیے جاتا ہے کہ کسی طرح صوبہ سندھ سے پیپلز پارٹی کی انتخابی سیاست کو کمزور و ناتواں کر کے بے اثر کیا جا سکے۔ مگر جس سوال کا جواب آج تک کوئی بھی شخص جان نہ پایا وہ یہ ہے کہ آخر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اتنے بھانت بھانت کے سیاسی اتحاد بنانے کے باوجود بھی پولنگ والے دن اچانک ایسا کیا سیاسی معجزہ ہوجاتا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر آنے والے انتخاب میں پہلے سے بھی زیادہ سیاسی قوت کے ساتھ مخالفین کو شکست سے دوچار کر دیتی ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال 2018 کے انتخابات کی دی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 2018 کے انتخابات میں صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے دو درجن سے زائد سیاسی اور سندھ قوم پرست جماعتوں پر مشتمل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بنایا گیا تھا۔ مگر جب پولنگ والے دن انتخابی نتائج برآمد ہوئے تو پیپلز پارٹی مخالف یہ وسیع و عریض اتحاد عبرت ناک شکست سے دوچار ہوا، اور یہ نام نہاد انتخابی اتحاد اتنی تعداد میں بھی انتخابی نشستیں جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا کہ جتنی تعداد میں اس اتحاد میں سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔
اب تک بننے والے پیپلز پارٹی مخالف انتخابی اتحاد سے یہ ہی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ سندھ میں انتخابی اتحاد بننے سے پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوتا ہے اور اپنے خلاف تشکیل پانے والے ہر اتحاد کو پیپلز پارٹی دیہی اور شہری سندھ میں اپنے حق میں کمال مہارت سے استعمال کرتی ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوا کہ رواں ہفتے مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے درمیان جو سیاسی و انتخابی اتحاد ہوا ہے۔ اس کا شاید اتنا فائدہ مسلم لیگ نون یا ایم کیو ایم کو نہ ہو کہ جتنا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا۔
ہماری دانست میں مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم پاکستان کے اتحاد سے دونوں جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ بس یہ ہی سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے تعاون سے نون لیگ کو کراچی میں کچھ انتخابی نشستیں حاصل ہوجائیں اور ایم کیو ایم پاکستان کو اس خدمت شعاری کے عوضانہ کے طور پر اگر مسلم لیگ نون کی مستقبل میں وفاقی حکومت بنتی ہے، جس کا کہ انتہائی قوی امکان ہے تو اسے وفاق میں دو، تین اچھی سی وفاقی وزارتیں مل جائیں۔
ویسے بھی انتخابی اتحادوں میں ووٹرز، ووٹ فقط اپنے امیدوار کو ہی دیتے ہیں دوسری اتحادی جماعت کے امیدوار کو صرف سپورٹ دی جاتی ہے۔ چونکہ 2018 کے انتخابات میں کراچی سے ایم کیو ایم کی بہت سی نشستیں زبردستی پاکستان تحریک انصاف کو دلوا دی گئی تھیں۔ لہٰذا، ایم کیو ایم مسلم لیگ نون کے ساتھ اتحاد کر کے اپنی وہ تمام نشستیں دوبارہ سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مانا کہ مسلم لیگ نون کی کراچی میں سیاسی تنظیم مضبوط نہیں ہے مگر نون لیگ کا سندھ میں اتنا ووٹ بنک ضرور موجود ہے، جو اگر ایم کیو ایم پاکستان کو حاصل ہو جائے تو اس کی مدد سے کم ازکم کراچی اور حیدرآباد میں وہ اپنی پرانی سیاسی قوت کے ساتھ ضرور سامنے آ سکتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم سے انتخابی اتحاد کر کے جہاں کراچی میں کچھ انتخابی نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے، وہیں اس اتحاد کی بدولت بلاول بھٹو زرداری کے وزارت عظمیٰ کے خواب بھی بکھیرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کی قیادت کو بخوبی احساس ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پیپلز پارٹی نے اپنے آپ کو کراچی میں بھی سیاسی طور پر کافی مضبوط کیا ہے اور یہ سیاسی مضبوطی آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کراچی سے چند انتخابی نشستیں جیتنے کا بھی باعث بن سکتی ہے۔
یوں مسلم لیگ نون نے ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد کر کے اس امکان کو ختم کرنے کی اپنی سی ایک سیاسی کوشش کی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر دونوں جماعتوں کے اتحاد میں سندھ کی مزید سیاسی اور قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہوجائیں تب بھی مذکورہ اتحاد کراچی کے علاوہ سندھ بھر میں کہیں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو کوئی بہت بڑا سیاسی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سے صرف ایک دہائی پہلے پیپلز پارٹی سندھ میں فقط دیہی علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی لیکن گزشتہ دس سال کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی کو چھوڑ کر سندھ کے تمام شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی اپنی تمام مخالف جماعتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ جس کی کئی بنیادی نوعیت کی وجوہات ہیں جس میں سے سب سے اہم وجہ سندھ کے شہری علاقوں میں اردو بولنے والے بڑے طبقہ کا جوک در جوک پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا ہے۔
اگر حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر اور میرپور خاص کی حالیہ سیاست کا جائزہ لیا جائے تو بجا طور پر کہا سکتا ہے پیپلز پارٹی نے کافی حد تک ایم کیو ایم کو شہری سیاست کے منظر نامہ سے آؤٹ کر دیا ہے، کبھی ان اہم ترین شہری علاقوں میں بلدیاتی چیئر مین اور کونسلرز وغیرہ تو بہت چھوٹی بات ہے ممبر صوبائی اسمبلی تک کی اکثریت بھی ایم کیو ایم کے انتخابی نشان پر باآسانی منتخب ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ دس سالوں سے ہر سطح کے انتخابی معرکوں میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے طرز سیاست کو بری طرح شکست دی ہے۔ جس کی وجہ سے آج ان شہروں سے منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اراکین کی تو بات ہی کیا کرنا بلدیاتی نمائندوں کی بڑی اکثریت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے منتخب ہو کر آئی ہے۔
دیکھنے والی سیاسی آنکھ ہو تو باآسانی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ سندھ کے تمام شہری علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی بھاری ترین مینڈیٹ کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے اور اس میں زیادہ کردار سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی معروف مفاہمتی سیاست کا ہے۔ جنہوں نے شہری سندھ میں ایم کیو ایم کی طرف سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو بروقت محسوس کیا اور شہری علاقوں میں ان تمام افراد سے اپنے سیاسی روابط استوار کیے جو شہری سیاست میں ایم کیو ایم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔
ماضی میں شہری علاقوں میں رہنے والی جو برادریاں ایم کیو ایم کے لیے کام کرنا فخر محسوس کرتی تھیں آج وہ پیپلز پارٹی کی صفوں میں انتہائی اعلیٰ عہدوں پر براجمان نظر آتی ہیں اور رہی سہی کسر متحدہ قومی موومنٹ کی حالیہ سیاسی تقسیم نے پوری کردی ہے۔ ہمارا مقدمہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاست قوت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، یقیناً ضرور کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کے لیے مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے منحنی سے انتخابی اتحاد کے علاوہ کچھ بہت بڑا سوچنا ہو گا۔


