انسانی حقوق کا واویلا اور مظلوم فلسطینی بچے!
اسرائیل۔ فلسطین جنگ کو ایک مہینہ ہو چلا ہے۔ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک ساڑھے نو ہزار شہادتیں ہو چکی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2326 خواتین اور 3760 بچے شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 1000 بچے لاپتہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی طیارے ہسپتالوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ زخمیوں سے بھری ایمبولینسوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ رہائشی علاقوں پر بم پھینک رہے ہیں۔
ہجرت یا نقل مکانی کرنے والوں پر نشانے باندھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے 35 نمائندے اسرائیلی بمباری کی نذر ہو گئے ہیں۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل 36 صحافی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے فلسطین کی بستیاں کھنڈر بن گئی ہیں۔ پچھلے چار ہفتوں سے یہ قیامت جاری ہے لیکن ساری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جو حقوق کے بارے میں نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیمیں موجود ہیں۔ یہ اور اس کے ذیلی ادارے حقوق انسانی کے خلاف ہونے والے واقعات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے علاوہ بیسیوں چھوٹی بڑی تنظیمیں اور ادارے ہیں جو حقوق انسانی کو یقینی بنانے کے لئے متحرک رہتے ہیں۔ دنیا کے کسی کونے میں کسی انسان کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوتی ہے تو یہ تنظیمیں واویلا کرنے لگتی ہیں۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ ان تنظیموں کو جانوروں کے حقوق کی فکر بھی بے چین رکھتی ہے۔
حقوق کے ان علمبرداروں نے جانوروں کو بھی انسانوں کے برابر لا بٹھایا ہے۔ بہت سے ممالک میں جانوروں کے حقوق بھی انسانوں سے کم نہیں ہیں۔ کسی خطہ ارض پر کسی جانور پر کوئی زیادتی ہوتی ہے تو یہ تنظیمیں وہاں جا پہنچتی ہیں۔ چند برس پہلے پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں موجود ہاتھی ”کاون“ نے خوب شہرت حاصل کی تھی۔
کاون ”اسلام آباد کے“ مرغزار ”نامی چڑیا گھر میں قید تھا۔ 2012 میں ساتھی ہتھنی کے مر جانے کے بعد کاون تنہائی کا شکار ہو گیا۔ ناکافی خوراک اور نگرانوں کی سختی کی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگا۔ ڈپریشن میں مبتلا کاون اپنے کمرے کی دیواروں سے سر ٹکراتا رہتا۔ یہ خبر پاکستان سے باہر نکلی تو جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں بے تاب ہو گئیں۔ ساری دنیا میں اس کی رہائی کے لئے آوازیں اٹھنے لگیں۔ معروف امریکی گلوکارہ“ شیر ”نے باقاعدہ مہم چلائی۔
آن۔ لائن پٹیشن سائن کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔“ شیر ”نے اعلان کیا کہ وہ ہاتھی کو کمبوڈیا تک پہنچائے گی۔ اس کے سفر کے اخراجات یعنی چار لاکھ ڈالر خود برداشت کرے گی۔ آخر کار اس ہاتھی کو مکمل پروٹوکول کے ساتھ پاکستان سے نکال کر کمبوڈیا پہنچایا گیا۔ اس ہاتھی کی قسمت فلسطین کے معصوم بچوں سے کہیں بہتر نکلی کہ دنیا کو اس کی تنہائی اور ڈپریشن کا خیال آیا۔ اس کے برعکس فلسطین کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں بچے مر چکے ہیں۔
جو زندہ ہیں ان کے ماں باپ زندہ نہیں ہیں۔ کتے، بلیوں، ہاتھیوں اور دیگر جانوروں کے لئے بے چین ہو جانے والی عالمی تنظیموں کو فلسطینی بچوں کی تنہائی کا خیال نہیں ستاتا۔ انہیں کوئی احساس نہیں ہے کہ ساری زندگی یہ بچے کس تنہائی اور ذہنی اذیت کا عذاب بھگتیں گے۔ سنتے ہیں کہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے ہنگام بھی بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے۔ عالمی تنظیموں کو کوئی فکر نہیں ہے کہ ملبے کا ڈھیر بنے غزہ میں ان بچوں کا کیا مستقبل ہو گا۔ حقوق کا واویلا کرنے والی عالمی تنظیموں کو کسی کونے میں منہ چھپا کر ڈوب مرنا چاہیے۔
یہ جملے لکھ رہی ہوں تو مجھے پاکستان کی حقوق انسانی سے متعلق کچھ معروف تنظیموں کا خیال آ رہا ہے۔ یا وہ گروہ جو وقتاً فوقتاً سول سوسائٹی ”کے نام سے ہمارے سر پر مسلط ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ انہیں موم بتی مافیا بھی کہتے ہیں۔ پاکستان میں کسی عورت یا بچے پر کوئی ظلم، زیادتی ہو جائے۔ کوئی شخص پردے کی حمایت میں کوئی بیان جاری کردے۔ یا کوئی بے چارہ فحاشی، عریانی کے خلاف کوئی بات کہہ دے تو ان کی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔
یہاں تک کہ ان کی آواز کی گونج عالمی اداروں کے کانوں تک جا پہنچتی ہے۔ عالمی تنظیموں کو خطوط ارسال ہوتے ہیں۔ میڈیا پر ایک طوفان اٹھایا جاتا ہے۔ جلوس نکالے جاتے ہیں۔ بیانات داغے جاتے ہیں۔ تب کہیں جا کر ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ فلسطین میں قیامت خیز صورتحال کو ایک ماہ ہو گیا ہے۔ لیکن یہ تنظیمیں گونگی بہری بنی ہوئی ہیں۔ لمبے ہاتھوں اور لمبی زبانوں والے ان کے نمائندے منظر عام سے غائب ہیں۔ کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ کسی ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر ہی کوئی اجلاس کر لیں۔ بے دلی سے ہی سہی، کسی عالمی تنظیم کو کوئی خط لکھ ڈالیں۔ حقوق انسانی کا واویلا کرنے والی پاکستانی تنظیموں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
اب ذرا مسلمان ممالک پر نگاہ ڈالیے ۔ ہم نہایت فخر سے انہیں ”امت مسلمہ“ کا نام دیتے ہیں۔ اس میں ستاون ممالک شامل ہیں۔ اس کی آبادی پونے دو ارب کے قریب ہے۔ کم و بیش تیس دن گزر چکے ہیں، لیکن یہ ستاون ممالک ابھی تک سر جوڑ کر نہیں بیٹھے۔ ایک عرب لیگ ہوا کرتی تھی جو ایک ناکارہ تنظیم بن چکی ہے۔ ایک او۔ آئی۔ سی ہے جسے قائم ہوئے 54 سال ہو چکے ہیں۔ او۔ آئی۔ سی کو بھی راکھ کا ڈھیر ہی سمجھیں۔ اگرچہ اس کا منشور نہایت شاندار ہے۔ اس کے منشور میں لکھا ہے کہ۔ it is the collective voice of Muslim world and works to safeguard and protect the interests of Muslim world in the spirit of promoting international peace and harmony
ترجمہ: یہ (تنظیم) عالم اسلام کی مشترکہ آواز ہے۔ عالمی امن و خیر سگالی کے فروغ کے لئے اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ اس کا فریضہ ہے۔
اپنے منشور کے قطعی برعکس، اس تنظیم نے آج تک کسی مسلمان ملک کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا ہے۔ برسوں سے اسرائیل نے فلسطینیوں کی زندگیاں جہنم بنا رکھی ہیں۔ کیا او۔ آئی۔ سی نے کبھی کوئی توانا آواز اٹھائی؟ کوئی عملی اقدام اٹھایا؟ میں نے گزشتہ کسی کالم میں لکھا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ افسوس کہ سعودی عرب نے بھی اب تک کچھ نہیں کیا۔ اسلامی ممالک بیان بازی ضرور کر رہے ہیں۔
یقیناً اسرائیل کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعائیں بھی کر رہے ہوں گے۔ دراصل امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی درکار ہے۔ اس کے بغیر اس کے پیکر خاکی میں جان نہیں پڑ سکتی۔ عمومی طور پر جنگ کی صورتحال میں ہم اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ امریکہ کے گھر کی باندی ہے۔ اس سے ہم کیا امید لگائیں؟ امریکہ جو انسانی حقوق کا ٹھیکے دار بنا بیٹھا ہے، وہ خود عراق اور افغانستان میں مظالم ڈھاٹا رہا ہے۔ اسرائیل۔ فلسطین جنگ میں بھی امریکہ نے اسرائیل کو غیر مشروط حمایت کا یقین دلا رکھا ہے۔ امریکہ اسرائیل کی مالی اور عسکری امداد کر رہا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور کیا رخ اختیار کرے گی۔ یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک امت مسلمہ پر رحم فرمائے۔ آمین۔


