شہنشاہ نواز اور شہزادہ عمران
پاکستان ایک ایسی عمارت ہے جس کے باہر ایک بورڈ لگا رہتا ہے کہ یہ عمارت ابھی زیر تعمیر ہے۔ 75 سال سے جاری یہ تعمیراتی شاہکار متعدد پراجیکٹس اور پراجیکٹ مینیجرز دیکھ چکا ہے۔ آخری پراجیکٹ شہزادہ عمران تھا جو بری طرح پٹ گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح ناکام ہوا؟
ٹھیکیدار جب بھی کسی پر کام شروع کرتا ہے تو وہ اپنی انجینئیرنگ اور ڈیزائن کی شرائط بارے مطلوبہ سلیکٹڈ کو ابتدا میں ہی آگاہ کر دیتا ہے۔ گڑ بڑ وہاں سے شروع ہوتی ہے جب شہزادہ سلیم اپنے آپ کو انجینئیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
محبوب اور حبیب کے درمیان یہیں سے نفاق پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں سلطنت عمرانیہ کا چراغ گل ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح کی ایک اور داستان شہنشاہ نواز اور مشرف کی بھی بتائی جاتی ہے۔
راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ موٹر ویز تعمیر ہو رہی تھیں۔ جی ڈی پی اپنی اڑان بھر رہی تھی۔ یکایک ہوا میں معلق سپہ سالار نے فضائی کمیونیکیشن استعمال کر کے گراؤنڈ پر موجود تخت لاہور کی سلطنت کو منٹوں میں پلٹ ڈالا تھا۔
ایک اور بادشاہ وقت نے درباریوں سے خطاب کے دوران اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا طبل بجا دیا تھا۔ پھر اس کے بعد جو کچھ سائیں کے ساتھ ہوا وہ کچھ ڈھکی چھپی بات نہیں۔
اگلے برس 2024 میں انتخابات ہونے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جلسے جلوس کی بہار ہوگی۔ نعرے لگیں گے۔ ترانے گونجیں گے۔ پرچم لہرائیں گے اور پھر ایک سہانی صبح عوام قطار در قطار لگ کر اپنی سیاسی جماعت کی انتخابی نشان پر ٹھپا لگا کر اپنے جمہوری حق کا استعمال کریں گے اور اپنے مستقبل کے لیڈر کو چنیں گے۔
ایسا صرف وہ سمجھتے ہیں اس لئے انہیں سمجھنے دیں۔ شام کو ریڈیو اور ٹی پر غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا اعلان شروع ہو جائے گا۔ اور پھر نتیجہ نکلے گا کوئی ہنسے گا کوئی روئے گا۔
اصل حتمی اور مکمل سرکاری نتائج کا اعلان 21 اکتوبر 2023 کو ہو چکا تھا۔ ملک میں چونکہ گنے چنے ہی سیاسی مزدور میسر ہیں اس لئے اس بار عمارت کی تعمیر کے لئے ٹھیکیدار نے شہنشاہ نواز کی کمپنی کو ایک چانس اور دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہنشاہ نواز کو ماضی میں دیے گئے ٹھیکوں سے ایک بات تو ثابت شدہ ہے کہ وہ نہ صرف کام پائیدار کرتا ہے بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی پیمنٹ بھی باقاعدگی سے ادا کرتا ہے۔ شہزادہ عمران اصل میں یہاں مار کھا گیا تھا۔ اسی وجہ سے بیچوں بیچ اس کا کانٹریکٹ منسوخ کرنا پڑ گیا۔
اس دوران پراجیکٹ کی پرانی والی باجوہ کنسٹرکشن بند ہو گئی اور ماضی میں ٹھیکوں میں کی گئی گھپلے بازیاں اب پکڑی گئیں۔ سنا ہے کہ نیا مینیجر بہت کڑک بندہ اور اصول پرست ہے ساتھ میں وہ عمارت کی خستہ حالی کو لے کر بہت سنجیدہ ہے اس لئے ہم جیسے کالم نگار ”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“ اونچی آواز میں ورد کی طرح پڑھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نواز کنسٹرکشن جس کا وسیع تعمیراتی تجربہ ہے اسے بھی سنا ہے مکمل چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ نئے والے صاحب بڑے ڈاہڈے ہیں اس لئے ہوشیار باش۔
اب ماضی کے جیسے دوبارہ نئے محلات کی تعمیر نہ ہو پائے گی۔ اب تو صرف پچھتر سال قبل شروع کیے گئے جناح صاحب والے پاکستان کی عمارت کو تعمیر کرنا ہے
ادھر انارکلی کی طرح دیوار میں چنوایا ہوا شہزادہ عمران کسی فیض کے آسرے پہ 9 مئی والا بھنڈ نہ کرتا اور آج کل اس کا نئے مینجر منیر سے آمنا سامنا ہوجاتا تو سامنے سے کچھ یوں کہا جاتا کہ
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا


