سوویت یونین میں اقبال شناسی

علامہ اقبال نے اپنی دانش نورانی کی روشنی میں سوویت یونین کے قیام کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ یہ اشتراکی انقلاب ”لا سلاطیں لا کلیسا لا الٰہ“ کے مراحل سے آگے بڑھتے ہوئے الا اللہ کی منزل پر آ پہنچے گا مگر افسوس صد افسوس کہ روسی اشتراکیت نفی کے مقام سے اثبات کی جانب رواں دواں نہ رہ سکی نتیجہ یہ کہ بالآخر مٹ کر رہ گئی۔ روس کا یہ اشتراکی انقلاب لا کے مقام نفی ہی کو اپنی منزل مقصود قرار دے بیٹھا نتیجہ یہ کہ سٹالن ازم نے اقبال کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کر دکھایا۔ اقبال نے اپنی شعرۂ آفاق تخلیق ’جاوید نامہ‘ میں کیا خوب کہا ہے :
ہم چناں بینی کہ در دور فرنگ
بندگی با خواجگی آمد بجنگ
روس راقلب و جگر گردیدہ خوں
از ضمیر ش حرف لا آمد بروں
آں نظام کہنہ را برہم زدست
تیز نیشے بر رگ عالم زدست
کردہ ام اندر مقاما تش نگہ
لا سلاطیں لا کلیسا لا الہٰ
فکر اودرتند باد لا بماند
مرکب خودرا سوئے الا نراند
در مقام لا نیا ساید حیات
سوے الا می خرامد کائنات
لا و الا سازو برگ امتاں
نفی بے اثبات مرگ امتاں
اس ”نفی ٔبے اثبات“ نے روس میں اشتراکیت کے نظام کو ناکام بنا کر رکھ دیا۔ اب آئیے سوویت دانشوروں کی اقبال شناسی کی جانب۔
سوویت دانشوروں نے اقبالیات کے مطالعے کو ایک نئی پہنائی سے روشناس کرایا ہے۔ مغربی مستشرقین، اقبال کے فکرو فن پر تصوف کے حوالے سے بحث کرتے ہیں تو روسی دانشور سامراج کے حوالے سے۔ دنیائے مغرب کے بیشتر اقبال شناس اقبال کے مخصوص زمان و مکان سے بے نیاز ہو کر مجرد تصورات کی بھول بھلیوں میں گم ہیں تو اقبال کے سوویت شارحین اور نقاد سامراج دشمنی اور انقلاب پسندی کو اقبال کے سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو ’کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔
سوویت مفکروں اور ادبی تنقید نگاروں کا نمایاں ترین کارنامہ یہ ہے کہ وہ اقبال کے فکرو فن کو اقبال کے عہد اور اقبال کے فوری گردوپیش کی ٹھوس حقیقتوں کے سیاق و سباق میں رکھ کر سمجھنے میں کوشاں رہے۔ یوں وہ ایک ایسے مقام نظر کو دریافت کر پائے پیں جہاں سے اقبال کا آفاقی قدو قامت اپنے سارے مقامی رنگوں اور اپنی تمام تر زمانی رعنائیوں سمیت جگمگاتا نظر آتا ہے۔
سوویت یونین میں اقبال شناسی ایک مسلسل اور تدریجی ارتقا کی آئینہ دار ہے۔ تردید و تعصب سے شروع ہونے والا یہ سفر بتدریج اجتہاد اور وسیع النظری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ رفتار ہے اس کی کبھی آہستہ کبھی تیز۔ مگر اس میں سائنسی حقیقت پسندی سے پھوٹنے والی بلا کی استقامت ہے۔ گزشتہ بیس برس کے دوران وقتا فوقتاً جو علمی کاوشیں سامنے آتی رہی ہیں، ان پر ایک نظر ڈالیں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ اول یہ کہہ اقبالیات اور پاکستانیات کے باب میں سوویت ماہرین میں باہمی اختلاف نظر موجود ہے۔ اور دوم یہ کہ علمی تجسس اور تحقیقی لگن کی بدولت سوویت دانشوروں کے تجزیوں اور محاکموں میں مسلسل خوش آئند تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ ان کا انداز نظر جامد نہیں حرکی ہے اور وہ وسعت نظر اور وسعت مطالعہ کے زیر اثر اپنی رائے کو بدلنے پر قادر ہیں۔
مادام پولونسکایا اسلام اور خصوصاً ہندی اسلام کی سنجیدہ اور زیرک سکالر ہیں۔ انھوں نے اقبال کو مسلم نیشنلزم کی آئیڈیالوجی کے عظیم ترین نظریہ ساز اور رہنما کے طور پر سمجھا اور پرکھا ہے۔ اول اول ان کے ہاں مسلم قومیت کے نظریے اور اس کے علم برداروں کے فکری کارناموں کے تجزیے میں تعصب اور تقلید کا رنگ گہرا تھا۔ چنانچہ ہندوستانی ترقی پسندوں۔ ڈاکٹر اشرف، پروفیسر مکرجی اور سجاد ظہیر کی تقلید میں انھوں نے بھی مسلم قومیت کی بجائے مسلم فرقہ واریت کی اصطلاح استعمال کی۔
یوری گانگو فسکی کے ساتھ مل کر پاکستان کے ابتدائی دس سالوں کی تاریخ ’قلم بند کرتے وقت انھوں نے تحریک پاکستان کو رجعت پسندی کا تمغہ دیا، دو قومی نظریے کو برطانوی سامراجیوں کی اختراع قرار دیا اور اقبال کو فرقہ پرستوں اور رجعت پسندوں کا اہم ترین مفکر بتایا مگر جلد ہی ہندوستانی ترقی پسندوں سے مستعار یہ سکہ بند تصورات سائنسی تجزیے اور علمی تحقیق کی بدولت منقلب ہونے لگے۔
صرف دو برس بعد پولو نسکایا نے اپنی مستقل تصنیف ”برصغیر کی عمرانی فکر میں مسلمانوں کے رجحانات“ (مطبوعہ 1963ئ) میں مسلم فرقہ واریت کی بجائے مسلم قومیت کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ: ”اقبال کی عظیم الشان شعری اور فکری روایت کو ابھی تک کسی شارح کا انتظار ہے۔“ اپنی ذہنی نشو و نما کے اس مرحلے پر پولو نسکایا نے اقبال کی شخصیت کو تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ اس کے نزدیک سیاسی اقبال، فلسفی اقبال اور شاعر اقبال کسی ایک شخصیت کے نام نہیں۔ فلسفی اقبال انسان دوست ہے، شاعر اقبال ایک غلام ملک کا مغنی ہے جو آزادی کے آتشیں نغمے تخلیق کر رہا ہے اور سیاسی اقبال رجعت پسندی اور فرقہ پرستی کا شکار ہے۔
چار برس بعد ایم۔ ٹی۔ سٹیپانیاں کی کتاب ”پاکستان: سوشیالوجی اور فلاسفی“ کے تعارف میں پولونسکایا نے مسلم قومیت کی آئیڈیالوجی کا فکر اقبال کی روشنی میں تجزیہ کیا تو انھیں اس کے آئینے میں مسلمانوں کی قومی آزای و خود مختاری کی تمناؤں اور نو آبادیات و سامراجی شکنجوں کو توڑنے کے عزائم کی جھلک نظر آئی۔ مزید چار برس بعد ( 1971 ء میں ) پولونسکایا نے ”مسلم نیشنلزم کی آئیڈیالوجی“ کے عنوان سے ایک جامع اور پر مغز مقالے میں اقبال کے سیاسی مسلک اور مسلم قومیت کے تصور کو اپنے تمام تر جدلیاتی تصادات کے باوجود ایک قطعی، متعین اور موثر سامراج دشمن رجحان کا حامل اور سماجی عدل و مساوات کا داعی ٹھہرایا:
”اقبال کے فلسفیانہ تصورات نے اسے اس نتیجے تک پہنچایا کہ اس کے آزادی و مساوات کے تصورات صرف ایک اسلامک ریاست میں ہی برگ و بار لا سکتے ہیں۔ سو، مسلمانان ہند کے سامنے صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ راستہ قومی حق خود اختیاری کی بنیاد پر پاکستان کے قیام کا راستہ ہے۔ نظریہ پاکستان، مسلم قومیت کے تصور کا منطقی نتیجہ ہے اور اقبال کے نزدیک مسلم قومیت کا تصور ایک واضح اور قطعی استعمار دشمن آئیڈیالوجی ہے جس کے رگ و پے میں سماجی انصاف کے مذہبی تصورات رواں ہیں۔
اپنے تصور، کائنات کے تضادات اور اندرونی کمزوری کے باوجود اقبال اپنے مذہبی، فکری، سیاسی اور فنی عمل کے تمام مرحلوں پر مسلمانان ہند کی امیدوں اور تمناؤں کے ترجمان، ان کے خواب و خیال پر حکمران، ایک پر جوش محب وطن، نو آبادیاتی نظام اور انسان پر انسان کے کسی بھی شکل میں ظلم کے خلاف جہد آزما ایک سر فروش مجاہد اور آزادی و انسانیت کے علمبردار رہے ہیں۔ ”
پولو نسکایا ایک وسیع تر علمی اور تحقیقی کینوس پر اقبال کے فنی و فکری کمالات کے نقوش اجاگر کرتی ہیں، ان کے نزدیک:
”اقبال اسلام کے وہ پہلے ریفارمر ہیں جنھوں نے نہ صرف مسلمانوں کی سامراج دشمن قومی امنگوں کو روحانی پیرایہ اظہار بخشا بلکہ جنھوں نے اسلام کے اندر سماجی ترقی کا ایک ایسا راستہ ڈھونڈا جو مغرب کے سرمایہ دارانہ راستے سے الگ تھلگ اور قطعی مختلف ہے۔ اس کے سماجی نظریات میں عوامی مساوات کے مثالی تصورات کی جھلک موجود ہے اور ایک مذہبی ریفارمر اور مسلمان نظریہ ساز کی حیثیت سے اس کی اولین اہمیت اسی بات میں پوشیدہ ہے۔“
پولونسکایا کی اقبال شناسی کا مرکزی حوالہ اسلام اور پاکستان ہے۔ وہ اقبال کے تصور اسلام اور تصور پاکستان کی ہمدردانہ تفہیم سے اپنے علمی کام کی ابتدا کر کے رفتہ رفتہ پر جوش تحسین کی منزل تک آ پہنچی ہیں۔ مار کسی فلسفے پہ اپنے محکم ایمان اور مار کسی جدلیات سے اپنی اٹل وابستگی کے باوجود وہ تاریخ انسانی میں اسلام کے انقلابی کردار کی معترف بھی ہیں اور اقبال کے تصور اسلام میں انسانیت کے درخشاں مستقبل کی جھلک بھی دیکھ سکی ہیں :
” یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقبال مسلمان معاشرے کو صرف مذہبی معاشرہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے نزدیک اسلام ایک طرز حیات ہے۔ اس طرز حیات کا سرچشمہ ایک ایسا ہمہ گیر فلسفہ حیات ہے جس نے سماج اور قانونی اداروں اور واضح تاریخی اور تہذیبی روایات کو جنم دیا ہے۔ اقبال کے تصور مسلم قومیت کا مذہبی نارواداری اور تنگ نظر فرقہ آرائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم قومیت کے نظریے کا پر جوش رہنما اور ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ اس نے ہمیشہ وطن پر غیر ملکی تسلط کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا راستہ اپنایا ہے۔ اپنے فکرو عمل کے کسی بھی مرحلے پر اقبال نے ہندوؤں کے خلاف برطانوی سامراجیوں سے اتحاد کا تصور تک گوارا نہ کیا۔“
اس تصور اسلام نے اقبال کی شاعری اور فلسفے میں سرمایہ داری اور ملوکیت کے خلاف جد و جہد اور انسان کی مکمل مادی اور روحانی آزادی کے خوابوں کو جو محوری حیثیت بخشی ہے اس کا تجزیہ کرنے کے بعد وہ اقبال کو اپنے عہد کی ترقی پسند ترین شخصیات میں سے ایک ٹھہراتی ہیں۔
پولونسکایا کی عملی لگن اور حقیقت بیں نظر کا فیضان سو ویت یونین کے متعدد ماہرین اقبالیات، ماہرین اسلامیات اور ماہرین علوم شرقیہ کے ہاں جاری ہے۔ عبداللہ غفار رؤف اور نتالیا پریگورینا نے جہاں اقبال کی شاعری اور فلسفے میں انسان دوستی کے رجحانات پر روشنی ڈالی ہے وہاں سٹیپانیاں نے اپنی کتاب ”پاکستان: فلاسفی اور سوشیالوجی“ (مطبوعہ 1967ئ) میں اقبال کے سیاسی مسلک میں نو آبادیت اور سامراجیت کے خلاف شدید بغاوت کے تصورات کی جانب اشارہ کیا ہے۔
سٹیپانیاں نے ”مقدر پرستی کی موت“ کے عنوان سے 1971 ء میں شائع ہونے والے مقالے میں ترک دنیا اور انفعالی تصوف کے مروجہ تصورات پر اقبال کی شدید ترین تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے اقبال کو انسان کی آزادی عزم و عمل کا نقیب اور تخلیق مسلک میں مصروف انسان کو خدا کا ساتھی قرار دینے والا ایک ایسا شاعر اور مفکر ثابت کیا جس نے خیر و شر کے تصورات کو انقلابی معنویت سے لبریز کر دیا ہے۔
نکو لائی آنی کئیف کی کتاب ”محمد اقبال: ممتاز مفکر اور شاعر“ 1959 ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ ان کے نزدیک ”اقبال فلسفیوں کے شاعر اور شاعروں کے فلسفی ہیں“ اور بجا طور پر دانتے، شیکسپیئر، گوئٹے، ٹالسٹائی اور ٹیگور کی صف میں ایک مقام امتیاز کے حامل ہیں۔ نکولائی آنی کئیف اور پولونسکایا میں جن امور کا اتحاد نظر پایا جاتا ہے۔ ان میں اقبال کا تصور اسلام اور فکر اقبال پر مغربی اثرات کی نوعیت نمایاں ترین ہیں۔ آنی کئیف نے اقبال کے فلسفۂ خودی کے موضوع پر داد تحقیق دیتے وقت ”ان ترقی پسندوں اور نام نہاد ترقی پسندوں“ پر کڑی تنقید کی ہے جو ”اقبال کے فکرو فن پر صرف اس بناء پر رجعت پسندی اور قدامت پرستی کا الزام دھرتے ہیں کہ اقبال نے بقول ان کے صرف مسلمانوں کو مخاطب کیا اور اس کے نظریات و استدلال اور مشرق کی بیداری کے تصورات قرآن سے پھوٹے ہیں۔“ افریشیائی ممالک میں قومی آزادی و خود مختاری کی تحریکوں میں مذہب کے عمل دخل پر بحث کے دوران آنی کئیف کہتا ہے :
” ایک اعتبار سے اقبال کے اسلامی آہنگ نے ہندوستان کی زندگی میں ایک عظیم کردار سر انجام دیا ہے۔ اس نے آزادی کی امنگوں کو پروان چڑھایا اور خاص طور پر ہمارے عہد میں تو یہ اسلامی آہنگ ہندی مسلمانوں کی آزادی اور خودمختاری کی جد و جہد کا علم بن کر لہرایا۔“
اقبال پر مغرب کے اثرات کی نشاندہی کرتے وقت نکولائی، آنی کئیف، پولونسکایا کی ہمنوائی میں اقبال کے افکار و تصورات پر نہیں بلکہ اقبال کے فلسفیانہ اسلوب پر جدید سائنس اور فلسفے کی گہری چھاپ دیکھتا ہے۔ اس کے خیال میں اقبال نے اپنے فلسفیانہ تصورات کے اظہار کے لیے مغرب سے صرف جدید سائنسی اور فکری پیرایۂ اظہار اکتساب کیا ہے مگر ان کے تصورات و نظریات مغربی تصورات و نظریات سے مختلف اور بیشتر اوقات متصادم ہیں۔ آنی کئیف کے نزدیک اقبال اور نیٹشے کے انسان کامل کے تصورات میں تطابق کی تلاش بے کار ہے۔ اقبال نے صرف مغرب کی بورژوا تہذیب پر نیٹشے کے حملوں کی تعریف کی ہے۔ ان کے انسان کے کردار اور مقام میں زمین و آسماں کا فرق ہے۔ ”
نکولائی آنی کئیف، اقبال کے فلسفہ خودی کو سامراجی زنجیروں کو توڑنے کی جد و جہد میں مصروف محکوم قوم کی اندرونی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ وہ فلسفۂ خودی اور تسخیر فطرت کے تصورات کو اقبال کے عہد کے مشرق بالخصوص ہندوستان میں جاری عملی سیاسی جدوجہد کی روشنی میں تفسیر کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان تصورات کی ”آتشیں معنویت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ہم اس عہد کے فریب و سراب کے طلسم میں اسیر ہندوستان میں ان لوگوں کے طرز فکرو عمل پر غور کرتے ہیں جو عدم تشدد اور پر امن ذرائع سے فرنگی ملوکیت سے نجات کے پروگرام بنا رہے تھے۔“
آج کے سوویت ادبی نقاد اپنے مخصوص جدلیات زاویۂ نگاہ سے اقبال کے تصور کائنات میں مثالیت پسندی کی جو کمزوری اور نظام فکر میں انقلاب اور ارتقا کا جو تضاد دیکھتے ہیں اسے وہ ایک عظیم شخصیت پر ماحول اور ماضی کے ناگزیر اثرات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بحیثیت فلسفی کے ناگزیر اثرات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بحیثیت فلسفی اقبال کی عظمت کا راز، انسان کے ازلی، ابدی اور آفاقی مسائل کو تجرید اور ماورائیت کی دھند سے نکال کر اپنے گرد و پیش اور اپنے عہد کے ٹھوس حقائق کی روشنی میں سمجھنے اور اپنی ملی نشاة ثانیہ کے تقاضوں کی نسبت سے ان پر غور و فکر کرنے میں مضمر ہے اور بحیثیت شاعر ان کی عظمت کا راز ایک توانا رجائیت کے ساتھ انفعالیت اور بے عملی کی مذمت کرنے اور عدم مساوات اور جبر و استبداد کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں پنہاں ہے۔
٭٭٭

