اقبال پر لکھی گئی ایک کتاب کا تعارف


ان دنوں مجھے اقبال سے عشق ہو رہا ہے۔ اقبال مجھے سمجھ آنے لگا ہے۔ مجھے اقبال کو پڑھنے میں مزہ آ رہا ہے۔ تصور اقبال کو سمجھنے کی حسرت بڑھ رہی ہے اور دل اقبال سے متعلق ہر کتاب کو پڑھنے کے لئے بے تاب ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ جو بھی ہو، اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کسی بھی عظیم شخصیت سے متعلق آپ کی معلومات جتنی زیادہ ہوں گی اور آپ کا مطالعہ جتنا بڑھتا جائے گا اور جتنا آپ اسے سمجھیں گے، اتنا ہی ان سے عقیدت پیدا ہوگی اور بڑھے گی۔ میں آج کل اقبال کی شخصیت پر ایک کتاب پڑھ رہا ہوں۔ جو میرے عشق اقبال میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ یہ ڈاکٹر ایوب صابر کی کتاب ہے۔ جس میں انھوں نے اقبال کی شخصیت پر اعتراضات کے مدلل جواب دیے ہیں۔

یہ اعتراضات اقبال کی فکر سے ہٹ کر ان کی ذات اور شخصیت پر ہوئے ہیں۔ معترضین نے اعتراض کرنے میں کیسا رویہ اختیار کیا ہے، کتاب پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ ان میں اکثر نے تعصب کا شکار ہو کر اعتراض کیا ہے۔ عموماً یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اقبال کی ذات اور ان کی فکر میں زمین و آسمان کا فرق ہے، یعنی ان کا قول ایک ہے اور فعل اس سے بالکل مخالف۔ یہ اعتراض کس حد تک بجا ہے، وہ بھی واضح کیا گیا ہے، اس کا بھی جواب دیا ہے۔

کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے اور کچھ باتوں کو تسلیم بھی کیا ہے کہ بے شک اقبال بھی انسان تھے کوئی فرشتہ تو نہیں تھے۔ غرض ڈاکٹر صاحب نے ہر لحاظ ایک معتدل رویہ اختیار کیا ہے۔ نہ اقبال کی عقیدت میں آنکھوں پر پٹی باندھی ہے کہ ہر چیز سے انکار کر لے اور نہ تعصب کا شکار ہو کر اقبال کو نشانہ بنایا ہے۔ اقبال کے محبین کے لئے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔ ضرور پڑھیں، کیونکہ آج کل اقبال پر تنقید کرنا ایک فیشن بن گیا ہے اور ہر ایرا غیرا اٹھ کر کبھی اقبال کی فکر تو کبھی ان کی شخصیت کو بے جا تنقید نشانہ بناتا ہے۔ ایسے لوگوں سے امان پانے کے لئے یہ کتاب پڑھنا نہایت ضروری ہے، کہیں ایسا نہ ہو آپ بھی بلاوجہ اقبال سے متنفر اور بیزار ہوجائیں۔

جب میری اردو ادب سے شناسائی ہوئی، غالباً ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تھا، اور اقبال کو پڑھنا شروع کیا، تو اقبال کا کوئی بھی شعر، کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، پڑھ کر گزر جاتا تھا۔ خیر، اقبال کا نام تو پہلے بھی سنا تھا، جب ہم بچے تھے، ان کی نظم ”بچے کی دعا“ ہر صبح اسمبلی میں بہ یک آواز پڑھتے تھے، لیکن ان کے نام کے ساتھ ایک عقیدت وابستہ تھی، لیکن جب ان کی باقی شاعری سے واسطہ پڑا تو وہ عقیدت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔

اقبال سے متعلق ہر چیز مجھ پر ایک بوجھ سا بن گئی۔ دوسرے شعراء کے برعکس میں اقبال اور غالب جیسے لوگوں سے سخت نالاں تھا، وجہ یہ تھی کہ میں انھیں سمجھ نہیں سکتا تھا۔ حال یہ تھا کہ نہ تو ان کی عجیب و غریب تراکیب سمجھ آتی تھیں اور نہ ان اشعار میں مجھے کوئی وزن معلوم ہوتا تھا۔ ان کے شعر پڑھتے ہوئے جتنی بھی کوشش کرتا لیکن کبھی بھی مجھے ان کے شعروں میں وزن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ آخر ان لوگوں نے کس بحر میں یہ شعر کہا ہے۔ سچ پوچھیں تو نہ ان دنوں مجھے علم العروض کا کچھ پتا تھا، کہ یہ شعر کون سی بحر میں ہے، اور نہ اب ہے، بس کسی شعر میں روانی اور نغمگی ہو تو مجھے پسند آتا ہے، روانی تو خیر ہر شعر میں ہوتی ہے لیکن کچھ شعر لاجواب ہوتے ہیں، پڑھتے ہوئے کوشش کے بغیر بھی ان میں ترنم در آتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور اردو ادب سے رشتہ قائم ہوا اور گہرے سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ گو کہ فی الحال میرا مطالعہ اس سطح کا نہیں ہے جس طرح ہونا چاہیے لیکن رفتہ رفتہ الحمد للہ کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوں۔ اب جب میں اقبال کو پڑھتا ہوں تو ان کو پڑھنے میں اب مزہ آتا ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے تخیل کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اقبال ان لوگوں میں سے ہیں، جن کی بات اتنی آسانی سے سمجھ نہیں آتی، اس پر غور کرنا پڑتی ہے اور سوچنا پڑتا ہے۔ اگر اقبال کو پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو یہ اچنبھے کی بات نہیں۔ ان پر تنقیدی مضامین پڑھیں اور ان کی فن اور فکر پر لکھی کتابیں پڑھیں۔ اس سے اقبال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Facebook Comments HS