افغان جلیبی: معصوم فریبی
ایک جگہ ایک کالم نظر سے گزرا جہاں یورپ میں مقیم ایک صاحب نے اردو میں لکھا:
اگر کسی ایک ملک کے شہری ہی انتہاپسندی میں ملوث ہوتے ہیں تو حکومت کے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو افغان شہری قانونی طور سے ملک میں آباد ہیں، وہ ایسی گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے؟ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ قصور وار کا سراغ لگا کر اسے اس کے کیے کی سزا دی جائے۔
صاحب تحریر سے محض اتنا پوچھنا ہے کہ یورپ میں بیٹھ کر اتنا کنفیوز کیوں ہیں۔ ہر وہ غیر ملکی شخص جو پاکستان میں غیرقانونی طریقے سے رہ رہا ہو چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ وہ پاکستانی قوانین کے مطابق مجرم ہے اور ڈی پورٹ ہونے کا مستحق۔ پاکستان میں افغانیوں کے علاوہ انڈین، ایرانی اور چینی بھی غیرقانونی طریقے سے موجود ہیں۔ یہ وہ ہیں جو اپنے ملک میں عام طور پر واپس جانا نہیں چاہتے یا مطلوب ہیں۔ چینی لوگ کچھ عرصے بعد فراڈ میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
نائجیرین بھی پاکستان میں غیرقانونی طور پر پائے جاتے ہیں جن کی لگ بھگ 90 فی صد سے زائد تعداد منشیات فراڈ اور دھوکہ دہی میں ملوث پائی جاتی ہے۔ برمی، بنگالیوں اور انڈین کی ایک بڑی تعداد کراچی میں رہ رہی ہے جس میں اکثریت کی حیثیت غیرقانونی ہی ہے۔ ان کی اکثریت بے ضرر ہے لیکن بعض بنگالی (جو بہاری بھی ہوسکتے ہیں) گھروں میں کام کرنے کی آڑ میں یا جسم فروشی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف قازق، ازبک، تاجک اور افغانی حسینائیں بھی لگ بھگ ہر بڑے شہر میں ہیں۔ جن کے جرائم دہشت گردی نہیں۔
بہرحال جب بھی کوئی غیرملکی پاکستان میں کسی جرم میں پکڑا جاتا ہے پہلے جیل کاٹتا ہے اور پھر ڈی پورٹ۔ اس میں قانونی اور غیرقانونی کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی اور نہ پناہ گزین یا مہاجر کے لئے کوئی خصوصی معافی کہ وہ اگر جرم کریں گے تو بھی انہیں ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔ اس تناظر میں یاد رکھا جائے کہ اگر کوئی قانونی کاغذات رکھنے والا افغانی شہری کسی ایسے افغانی شہری کو پناہ دیتا ہے یا یہ جاننے کے باوجود کہ وہ پاکستانی سرزمین پر کن کن جرائم میں ملوث ہے پردہ ڈالتا ہے تو وہ خود بھی دوسروں مجرمان کی اعانت جرم کا مرتکب مانا جائے گا۔
غیرقانونی مقیم کا مسئلہ سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ پاکستان میں کیسے آتے ہیں۔ ایرانی تو سرحد کے راستے ویزا لے کر یا اسمگلروں کے ساتھ پاکستان آتے ہیں اور مقامی آبادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ انڈین برمی اور بنگالی ویزے کے علاوہ انسانی اسمگلروں کے ذریعہ سمندری یا ایرانی راستوں سے پاکستان میں آتے ہیں اور یہاں پہنچ کر اپنے تمام کاغذات جلا دیتے ہیں تاکہ ڈی پورٹ کرنا آسان نہ ہو۔ عمومی طور پر تمام ممالک ماسوائے افغانی پاکستان میں ویزا لے کر آتے ہیں اور اس کی تجدید نہیں کراتے۔
افغانوں کے ساتھ ہمارا مسئلہ دوسرا ہے۔ یہ کبھی کبھار ویزا لے کر آتے ہیں وگرنہ ان کی اکثریت علاج معالجے یا مزدوری کے لئے افغانی شناختی کارڈ دکھا کر اور انٹری کر کے پاکستان میں آتے ہیں اور ساتھ علاج معالجے کے لئے فیملی بھی ہوتی ہے۔ نہ وہ مہاجر ہوتے ہیں اور نہ پناہ گزین یا مصیبت کے مارے۔ قانونی طور پر ان کو جتنے عرصے بعد واپس چلا جانا چاہیے ایسا نہیں ہوتا۔ متعدد انڈین بھی پاکستان میں افغانستان سے ایسے ہی جعلی کاغذات دکھا کر داخل ہوتے ہیں۔
حالیہ سالوں میں برطانیہ اسی مسئلہ کی وجہ سے بریگزٹ ہوا تھا کہ یورپ میں موجود مزدور اور دوسرے کم تنخواہ دار طبقے کے لوگ یورپی کاغذات دکھا کر بغیر ویزا برطانیہ میں آ جاتے تھے اور برطانیہ میں نوکری بزنس اور اسمگلنگ کرتے تھے۔
گلف ممالک کے درمیان بھی ایسا معاہدہ موجود ہے اور اس کے رکن ممالک کے لوگ بغیر ویزا ایک دوسرے کے ممالک میں آ جا سکتے ہیں۔
ماضی میں امریکہ نے چند مسلمان ممالک پر ویزے کے لئے مکمل پابندی لگادی تھی۔ کیوں دنیا بھر کے ممالک نے شور نہیں کیا کہ یہ زیادتی ہے۔ چند مسلمان دہشت گرد یا مجرموں کی وجہ سے سارے مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا یا کسی مخصوص ملک کے تمام لوگوں کو شک سے دیکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ لیکن یورپ میں بیٹھ کر یورپی اور امریکی قوانین پر بات کرتے ایسے دانشوروں کو لقوہ مار جاتا ہے سو پاکستان کے معاملات پر ہزار میل دور بیٹھ کر ہر زید و بکر اپنے قلم کو استرے کی طرح استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام غیرملکی جن کے پاس زائد المیعاد ویزے ہیں یا وہ افغان کارڈ دکھا کر وقت مقررہ میں واپس نہیں گئے یا جو سرے سے کوئی بھی کاغذات نہیں رکھتے۔ ان کو ان کے اپنے ملک بھیج دے یا وہ جہاں جانا چاہتے ہیں وہاں کا ویزا لے کر پاکستان چھوڑ جائیں اور اگر پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ مگر ویزا لے کر آئیں۔
اردو سیکھنے کے بعد پاکستان کو علم نہیں کہ بظاہر پشتو فارسی یا اردو بولنے والا شخص ازبک چیچن تاجک ہے افغانی ایرانی ہے یا واقعی پاکستانی۔ کیونکہ پاکستانی کو اپنا وجود ثابت کرنا مشکل نہیں۔
پاکستان ابھی بھی ان لوگوں سے صرف یہی کہہ رہا ہے کہ اپنے ملک واپس جائیں اور پھر ویزا لے کر واپس آئیں۔ ظاہر ہے اس کے ساتھ ان کے فنگر پرنٹس سے لے کر ان کی پاکستان میں موجودگی اور ضامن کا اب ریکارڈ رکھا جائے گا۔
سوال یہ بھی ہے کہ ایک پاکستانی اگر ناروے پہنچ جائے یا امریکہ برطانیہ یا افغانستان۔ کیا وہاں جاکر وہ کوئی بھی کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ اور اگر کاروبار کرتا ہے تو کیا اس کو ٹیکس ادا کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ماضی میں پاکستان اور پاکستانیوں نے افغان بھائیوں کے لئے دل کھلے رکھنے کی غلطی کی تھی تو اب ہم اس غلطی سے توبہ کیوں نہیں کر سکتے۔
اگر کسی یورپی ملک کو طالبان کے ظلم کی وجہ سے اس کی خواتین کی تعلیم یا آزادی پر پابندی سے درد دل یا درد قولنج ہو رہا ہے تو پتہ بتائیں ہم بحری جہاز میں کنٹینرز کے ذریعے پانچ دس ہزار آپ کے ملک میں بھیج دیتے ہیں۔ افغانستان سے متصل ملک صرف پاکستان ہی نہیں ہے۔ ایران، چین، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان بھی ہیں۔ عالمی دنیا شوق سے ان پر دباؤ ڈالے کہ یہ ان لوگوں کو وہاں کھپائیں بھی اور نوکری اور کاروبار کی سہولت بھی دیں۔
مستقبل میں ویزا کی پابندی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کم ہوں نا ہوں ہمیں انگلیوں کے نشانات سے کم از کم یہ تو پتہ چل جائے گا کہ وہ کون تھے اور یہاں ان کی ضمانت کس نے لی تھی۔ ابھی بھی حال یہ ہے کہ افغانی پشاور اسلام آباد اور لاہور میں دھڑلے سے ڈاکے ڈالتے ہیں ان کی بے خوفی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ نہ چہرہ چھپاتے ہیں اور نہ انگلیوں کے نشانات۔ اور ڈاکے کے پانچ دس گھنٹے بعد واپس اپنے ملک میں موجود ہوتے ہیں۔
بہت سارے بزرجمہر یہ کہتے بھی ملتے ہیں کہ پاکستانی قوانین کی رو سے یہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ پاکستانی شہریت کا حق رکھتا ہے۔ اللہ جانے یہ فلسفہ ان کے ذہنوں میں کہاں سے آ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی شق چار کی رو سے یہ بات درست ہے مگر ساتھ لگی پخ چار اے کوئی نہیں پڑھتا۔ جو وضاحت کرتا ہے کہ ایسا بچہ جس کا باپ پاکستانی نہیں اس کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔ سوچئے ایک ہندوستانی جاسوس پاکستان آ کر شادی کرے اور اس کے بچے پیدا ہوں تو ان کی کیا حیثیت ہوگی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی ماں کی غیرملکی شوہر سے شادی کے بعد وہ میکہ میں نہیں رہتی بلکہ سسرال کی طرف جانے کی حقدار ہوجاتی ہے۔ متعدد مسلم، عرب اور یورپی ممالک میں یہی قانون رائج ہے۔ لیکن غیرملکی شوہر سے علیحدگی یا اس کے انتقال کے بعد ایسے بچوں کو قانونی کارروائی کے ماں کی وجہ سے پاکستانی شہریت مل جاتی ہے۔
بہرحال، دنیا بھر کے لوگ جنہیں افغانوں سے انتہائی محبت ہے گزارش ہے کہ للہ ہمیں ہماری خرابیوں کے ساتھ جینے دیں۔
ابھی تو ایک کٹا یہ بھی کھلنا ہے کہ متعدد افغان وزیر اور ان کے اہل خانہ پاکستانی شہریت اور پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں ساتھ کابل میں رہتے، ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں۔ اور ان سے ان دستاویزات کو واپس لینا ایک آگ کا دریا ہے پس تیر کے جانا ہے۔


