ایک پر اسرار کائنات: نیوٹن بمقابلہ آئن سٹائن
آئزک نیوٹن اور البرٹ آئن سٹائن انسانی تاریخ کے عظیم ترین سائنسدان تصور کیے جاتے ہیں۔
نیوٹن کے قانون ثقل اور حرکت کے قوانین کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے نظام شمسی میں سیاروں کی سورج کے گرد گردش کی وضاحت انتہائی کامیابی سے کی۔ سب سے ڈرامائی لمحہ تو وہ تھا جب نیوٹن کے قوت ثقل کے قانون کی بنیاد پر، یورینس کے مدار میں کچھ بے قاعدگی کو سمجھنے کی کوشش میں یورینس سے آگے ایک سیارے کے وجود کی ریاضیاتی طور پر پیشین گوئی کی گئی۔ 1846 میں پیشین گوئی کے مطابق سیارہ نیپچون دریافت ہوا۔
انیسویں صدی کے اختتام پر یہ تصور محال تھا کہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ قوانین عام زندگی سے لے کر نظام فلکی میں ہونے والی حرکات کی انتہائی کامیابی کے ساتھ توجیہ پیش کر سکتے تھے۔
لیکن پھر ایک انقلاب برپا ہوا۔ آئن سٹائن کے خصوصی اور پھر عمومی نظریہ اضافیت نے زمان و مکاں کے بارے میں ہمارے ان تصورات کو یک دم تبدیل کر دیا جن کی بنیاد نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین تھے۔
وہ کون سے مشاہدات اور تجربات تھے جنہوں نے آئن سٹائن کی حیران کن تھیوری کو صحیح ثابت کیا؟ یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
نیوٹن کے زمانے سے ایک دیرینہ مسئلہ سورج کے گرد سیارہ عطارد کی حرکت سے وابستہ تھا۔ نیوٹن کے قوت ثقل کے قانون اور حرکت کے قوانین کی پیشین گوئی کے مطابق عطارد سورج کے گرد ایک دائرے میں نہیں بلکہ ایک بیضوی مدار میں حرکت کرتا ہے۔ ایک بیضوی مدار کے دو مراکز ہوتے ہیں اور سورج اس مدار کے ایک مرکز پر واقع ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر کوئی دوسرا سیارہ موجود نہ ہو تو بیضوی مدار بذات خود گردش نہیں کرے گا۔
تاہم، یہ دیکھا گیا کہ عطارد کا پیری ہیلین (مدار میں وہ نقطہ جس پر عطارد سورج کے قریب ترین ہوتا ہے ) ایک نقطے پر قائم نہیں، بلکہ خود سورج کے گرد گردش کرتا ہے۔ اس طرح، پورا بیضوی مدار سورج کے گرد گھومتا ہے۔ جیسا کہ زمین سے دیکھا گیا ہے، عطارد کے مدار کی پیشرفت 5600 سیکنڈ آرک فی صدی کے برابر ہے (ایک سیکنڈ آرک، 1 / 3600 ڈگری کے برابر ہوتا ہے ) ۔ یہ ایک چھوٹی، لیکن قابل پیمائش حرکت ہے۔
عطارد کے مدار کی اس حرکت کی وضاحت کرنے کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ دوسرے سیاروں جیسے زہرہ اور زمین کی حرکت کے اثرات کو بھی شامل کیا جائے۔ ان اور دیگر سیاروں کی کشش ثقل اس راستے پر اثر انداز ہو سکتی ہے جس پر سیارہ عطارد حرکت کرتا ہے۔ ریاضیاتی مسئلہ جس میں یہ اضافی عوامل شامل ہیں اس مسئلے کو کافی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ تاہم، اسے حل کیا جا سکتا ہے اور یہ پایا گیا کہ نیوٹن کے قوانین پیری ہیلین کی اس پیشرفت کے زیادہ تر حصے کی توجیح دے سکتے ہیں۔ نئے نتائج کے مطابق عطارد کے مدار کی پیشرفت 5557 سیکنڈ آرک فی صدی ہونی چاہیے۔ لیکن اب بھی 5600۔ 5557 = 43 سیکنڈ آرک فی صدی کا انتہائی معمولی فرق باقی تھا جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں تھی۔
اس اختلاف کو سمجھنے اور واضح کرنے کی بہت کوشش کی گئی۔ مثال کے طور پر، یہ فرض کیا گیا تھا کہ زہرہ اور سورج کے درمیان دھول کی کافی مقدار موجود ہے جو نیوٹن کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے اس فرق کی وضاحت کرسکے گی۔ تاہم، کوئی دھول نہیں ملی۔
یہ صورت حال تھی جب 1915 میں آئن اسٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت پیش کیا۔
آئن سٹائن کے مطابق زمان و مکاں سورج کے پڑوس میں خمیدہ ہیں۔ یہ خمیدگی عطارد کے پیری ہیلین کے سورج کے گرد مزید آگے بڑھنے میں معاون ہے۔ جب آئن سٹائن نے اپنے نظریہ کا استعمال کرتے ہوئے اس پیش رفت کا حساب لگایا، تو انہوں نے ٹھیک 43 سیکنڈز آرک فی صدی حاصل کیا۔ یہ آئن سٹائن کے نظریہ کی حمایت میں شاندار ثبوت تھا۔ اس انتہائی چھوٹے انحراف، جو صدیوں سے ناقابل وضاحت تھا، کی وضاحت زمان و مکان کی خمیدگی کے نئے تصورات کے ذریعے کی جا سکتی تھی۔
یہ آئن سٹائن کی زندگی کا بہت جذباتی لمحہ تھا۔ آئن سٹائن کی خوبصورت سوانح عمری ”Subtle is the Lord۔“ ، میں ابراہم پیس لکھتے ہیں،
”میرے خیال میں یہ دریافت آئن سٹائن کی سائنسی زندگی، بلکہ شاید ساری زندگی، کا سب سے بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ انہوں نے قدرت کے اسرار تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ انہیں اپنی تھیوری کی صداقت کا یقین ہو گیا۔ اس دریافت نے ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کر دی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی پیشن گوئی ان فلکیاتی مشاہدات سے متفق ہیں جن کی وضاحت کسی اور طرح ممکن نہیں ہو سکی تھی، اس نے ان کے دل کے تاروں کو ہلا دیا۔“
یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی بڑی کامیابی تھی اور اس کامیابی نے اس نظریے کی قبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن وہ لمحہ جب آئن سٹائن اور نیوٹن کے قوانین ایک دوسرے کے مقابلے میں براہ راست صف آرا تھے، 1919 میں آیا۔
نیوٹن کے مطابق روشنی بہت چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان ذرات کا وزن بھی ہوتا ہے۔ نیوٹن نے اپنا نظریہ کشش ثقل پیش کرتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ایک محدود رفتار سے حرکت کرنے والا کوئی بھی مادی ذرہ کسی بڑے شے کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک کشش محسوس کرے گا۔ لیکن اس کشش کی قوت کا انحصار ذرہ کی کمیت سے وابستہ نہیں۔ اس طرح، اگر روشنی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے، تو وہ بھی بھاری اجسام، جیسے سورج اور ستاروں، کی طرف جھکے گی اور سیدھے راستے سے انحراف کرے گی۔
نیوٹن نے خود تو اس انحراف کا حساب نہیں لگایا لیکن 1804 میں، ایک جرمن ماہر فلکیات، جوہان سولڈنر نے روشنی کے بارے میں نیوٹن کے نظریات کی بنیاد پر پیشن گوئی کی کہ دور پار سے آنے والے ستارے کی روشنی سورج کے مضافات میں کشش ثقل کی بدولت ایک قوس کی طرح جھک جائے گی اور اس جھکاؤ کا زاویہ 0.87 آرک سیکنڈ ہو گا۔
تقریباً سو سال بعد ، 1911 میں آئن سٹائن نے اس مسئلے کو خصوصی نظریہ اضافیت کی روشنی میں حل کیا اور حساب لگایا کہ سورج کے نزدیک روشنی کا جھکاؤ 0.87 آرک سیکنڈ ہو گا۔ یہ وہی زاویہ ہے جس کی پیشن گوئی نیوٹن کی تھیوری کے مطابق کی گئی تھی لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔ نیوٹن نے تصور کیا تھا کہ روشنی مادی ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جن کا وزن ہوتا ہے، جبکہ آئن سٹائن کے مطابق روشنی کی کرن کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
تاہم جب آئن سٹائن نے عمومی نظریہ اضافیت سے وابستہ زمان و مکاں کی خمیدگی (curvature) کے اثرات کو شامل کیا تو روشنی کے جھکاؤ کی قدر دگنی ہو کر 1.83 آرک سیکنڈ ہو گئی۔ یہ نتیجہ 18 نومبر 1916 میں شائع ہوا۔
اس طرح، نیوٹن اور آئن سٹائن کی پیشین گوئیاں ایک دوسرے سے متصادم تھیں، نیوٹن کے مطابق سورج کے نزدیک روشنی کا جھکاؤ 0.87 آرک سیکنڈ ہو گا جبکہ آئن سٹائن کے مطابق یہ جھکاؤ 1.83 آرک سیکنڈ ہو گا۔
جلد ہی یہ جاننے کے لیے ا یک تجرباتی سرگرمی شروع ہوئی کہ ان دونوں عظیم سائنسدانوں میں کون درست ہے۔
ایک ستارے سے سیدھی جاتی روشنی کی کرن کا سورج کی طرف جھکنا آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کا پہلا امتحان بن گیا۔
سورج کی چمک کی وجہ سے دور دراز ستارے سے آنے والی روشنی کی کرن کا سورج کی طرف سے جھکاؤ دیکھنا عام طور پر ناممکن ہے۔ لیکن سورج گرہن کے دوران چاند سورج کے سامنے ہوتا ہے، اور سورج کی روشنی سامنے نہیں ہوتی۔ اس وقت روشنی کا جھکاؤ دیکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر سورج گرہن مکمل ہو جائے تو کنارے سے آنے والی روشنی، روشنی کے موڑنے والے زاویے کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ یہ ایک مشکل پیمائش تھی۔
پہلی جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد ، ایک برطانوی ماہر فلکیات آرتھر ایڈنگٹن نے 29 مئی 1919 کو سورج گرہن کو دیکھنے اور سورج کی کشش ثقل کی وجہ سے دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے جھکاؤ کی پیمائش کرنے کے لیے افریقہ کے قریب پرنسپے نامی جزیرے پر ایک مہم کا اہتمام کیا۔
جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو یہ آئن سٹائن کی پیشن گوئی کے مطابق اور نیوٹن کی تھیوری کے برعکس تھے۔
آئن سٹائن کے زمان و مکاں کے بارے میں عجیب و غریب نظریات نے نیوٹن کے دو سو سال پرانے کشش ثقل کے قانون کو غلط ثابت کر دیا تھا۔ یہ سائنسی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ تھا۔
آئن سٹائن راتوں رات ایک بین الاقوامی طور پر مشہور شخصیت بن چکے تھے۔
آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کی کئی اور پیشن گوئیاں ہیں جو ناقابل یقین محسوس ہوتی ہیں۔ یہاں میں ان میں سے ایک کا تذکرہ کروں گا۔
آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کی ایک بڑی پیشین گوئی یہ تھی کہ جب کائنات میں ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جن میں زمان و مکاں کی نوعیت یک دم تبدیل ہوتی ہے، تو زمان و مکاں میں ایسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں بلیک ہولز اور نیوٹران ستاروں جیسے وزنی اجسام کے باہمی تصادم اور سپرنووا (supernova) پیدا کرنے والے بڑے پیمانے پر پھٹنے والے ستارے شامل ہیں۔
بلیک ہول، نیوٹران ستارہ، اور سپر نووا جیسے اجسام فلکی کے بارے میں تفصیل میں اپنے اگلے آرٹیکل میں پیش کروں گا۔
زمان و مکاں کی ان لہروں کو سمجھنے کے لئے ہم ایک پرسکون جھیل کا تصور کرتے ہیں جن میں چند اجسام تیر رہے ہیں۔ لیکن جب یہ اجسام ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو جھیل میں ایک تلاطم پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جھیل میں پانی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ حرکت کرتی ہیں اور کچھ دیر میں دور تک پھیل جاتی ہیں۔
اسی طرح جب تک فلکی اجسام، مثلاً بلیک ہول یا نیوٹران ستارہ جیسی بہت بڑی چیزیں، بغیر کسی رکاوٹ کے حرکت میں رہتے ہیں، خلا اور وقت کا ڈھانچہ زیادہ تبدیل نہیں ہوتا ہے۔ تاہم کوئی بھی کائناتی واقعہ، جیسے ان اجسام کا ٹکراؤ جس میں زمان و مکاں کے ڈھانچے میں یک دم تبدیلی آتی ہے، زمان و مکاں کی لہریں پیدا کرتا ہے۔ یہ لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔
ذرا تصور کریں، جھیل میں پانی کے اتار چڑھاؤ کی طرح کہیں زمان و مکاں سمٹتے ہیں اور کہیں پھیلتے ہیں۔ یہ لہریں کائنات میں کھربوں کلو میٹر کا فاصلے طے کر رہی ہیں۔
زمان و مکاں کی لہروں کی پیشن گوئی 1916 میں کی گئی تھی۔ ان لہروں کے وجود کا بالواسطہ ثبوت جمع کرنے میں تقریباً ساٹھ سال لگے۔ 1974 میں، جوزف ٹیلر اور رسل ہلس نے تقریباً اکیس ہزار نوری سال کے فاصلے پر ایک نیوٹران ستارے کے گرد پلسر (pulsar) کی حرکت کا مشاہدہ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس قسم کے سسٹم جس میں دو اجسام فلکی شامل ہوں، کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق، ایسے نظام میں زمان و مکاں کے تغیر سے وابستہ مضبوط لہریں پیدا ہونی چاہئیں۔
تاہم، کسی اور لہر کی طرح ان لہروں میں توانائی مخفی ہوتی ہے۔ اس توانائی کا واحد منبع پلسر کی حرکت ہے۔ اس طور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پلسر کو وقت کے ساتھ توانائی سے محروم ہونا چاہیے، جس سے اس کا مدار سکڑ جا نا چاہیے۔ جب نیوٹران ستارے کے گرد پلسر کی حرکت کا بغور جائزہ لیا گیا تو نتائج وہی تھے جن کی پیشن گوئی آئن سٹائن نے کی تھی۔ یہ زمان و مکاں کی لہروں کی بالواسطہ تصدیق تھی۔
ان لہروں کی کے براہ راست مشاہدے میں مزید چالیس سال لگے۔ 2015، میں ایک تاریخی تجربے میں، کئی براعظموں پر پھیلے ہوئے محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمان و مکاں کی لہروں کا براہ راست مشاہدہ کیا گیا۔ یہ لہریں 1.3 بلین نوری سال کے فاصلے پر دو بلیک ہولز کے ٹکرانے سے پیدا ہوئیں۔ زمین پر جو سگنل موصول ہوا وہ اتنا کمزور تھا کہ اس کو دیکھنے کے لئے ایک پروٹون کے سائز سے بھی بہت چھوٹی مقدار جتنی تبدیلی کو ماپنا پڑا۔ ایک بلین نوری سال (جبکہ ایک نوری سال تقریباً 9.6 ٹریلین کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے ) کے فاصلے پر ہونے والے واقعے کا زمین پر براہ راست اثر دیکھنا ذہن کو حیران کر دیتا ہے۔ یہ تجربہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی سائنسی کامیابیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔
کھربوں میل دور کائنات میں ہونے والے واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زمان و مکاں کی لہروں کی واضح پیشن گوئی کرنا اور پھر انتہائی نازک تجربات کے ذریعے ان کا زمین پر مشاہدہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کی معراج ہے۔
یہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ کائنات ایک حیرت کدہ ہے جو ہماری عام سمجھ بوجھ سے کتنی ماورا ہے۔


