ہم شرمندہ ہیں فلسطین


واقعہ یوں ہے کہ کل ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے، ایک سرخی چلی کہ ”اسرائیل نے فلسطین ہر آج شب ڈھائی ہزار راکٹ فائر کیے، جس سے مزید 230 افراد شہید ہوئے“ ۔ دوسری سرخی چلی کہ ”اب تک فلسطین میں شہید ہونے والے افراد کی کل تعداد تیرہ ہزار سے بڑھ چکی ہے“ ۔ اچانک طبعیت میں ایک بھونچال برپا ہوا۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے شہید ہونے والے احباب سے میرا کوئی بہت قریب کا رشتہ ہے۔ اچانک یوں محسوس ہوا جیسے دل کی دھڑکن معمول سے بڑھ رہی ہے۔

طبعیت میں ایک بے چینی برپا ہوئی۔ ایک بے چینی، غصے اور لاچارگی اور بے بسی کی ایک عجیب سے کیفیت طاری ہونے لگی۔ ٹی وی بند کیا، لیپ ٹاپ کھولا اور غزہ اسرائیل جنگ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ پڑھتا کیا ہوں کہ اب تک اسرائیل نے بیس دن میں غزہ پر جتنی بمباری کی ہے وہ امریکہ کی افغانستان میں بیس سال میں کی گئی بمباری سے زیادہ ہے۔ وہ روس کی یوکرین میں کی گئی ڈھائی سال کی بمباری سے زیادہ ہے۔

پڑھتا کیا ہوں کہ اسرائیل کے راکٹ کے ہدف میں غزہ میں سات ماہ کے ننھے منے بچے سے لے کر ستر سالہ بزرگ ضعیف اشخاص سب نشانے پر ہیں۔ پڑھتا کیا ہوں کہ بیس کلو میٹر کی غزہ کی باؤنڈری پر اب تک تیرہ ہزار میزائل اور راکٹ داغے جا چکے ہیں۔ پڑھتا کیا ہوں کہ شہرہ غزہ جو کل تک دنیا کی گنجان ترین آبادی والا شہر تھا اب لاشوں اور ملبے کا کھنڈر بن چکا ہے۔ یہ سب پڑھنے کے بعد روح لرزانے والا نقشہ آنکھوں کا سامنے آتا ہے۔

مرتے بچوں کی چیخیں، عورتوں کی آہ و بکا، خواتین کی دہائیاں مجھے جیسے سنائی دے رہی ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تیرہ ہزار فلسطینی نہیں شہید ہوئے ہوں بلکہ تیرہ ہزار مرتبہ مجھے کسی نے شہید کیا ہے۔ جی میں آتا کہ کسی طرح اس تباہی کو روکنے کا کوئی انتظام کروں اور کسی طرح اپنے ان بھائیوں، بہنوں کے پاس پہنچوں۔ مگر اپنے آپ کو بے حد لاچار پاتا ہوں۔

تھوڑی دیر سر پکڑ کر بیٹھنے کے بعد جب باہر آتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ٹی وی پر اینکر پاکستانی قوم کو خوشخبری سنا رہا ہے کہ ”آسٹریلیا نے افغانستان کو ہرا لیا ہے اور پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات ایک مرتبہ پھر روشن ہو گئے ہیں“ ۔ سوشل میڈیا کھولتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ملک خوشی سے جھوم رہا ہے کہ ابھی ورلڈ کپ سے پاکستان باہر نہیں ہوا۔ کوئی ٹیم آسٹریلیا کا شکریہ ادا کر رہا ہے تو کوئی افغانستان کا مذاق بنا رہا ہے۔

ہر طرف ایک ایسا ماحول ہے کہ جیسے دنیا میں ورلڈ کپ اور کرکٹ کے سواء کچھ چل ہی نہیں رہا۔ سوچتا ہوں کہ کہ کیا فلسطین میں ہوتے ظلم و ستم کی خبر ان لوگوں تک نہیں پہنچی؟ کیا یہ لوگ اسرائیل کی جارحیت سے نا واقف ہیں؟ کیا فلسطین میں شہید ہوتے لوگوں کی صدائیں ان تک نہیں پہنچیں؟ یا کیا یہ اتنے بے حس اور ماؤف ہو گئے ہیں کہ فلسطین پر کرکٹ کو ترجیع دے رہیں؟ ہاں شاید ایسا ہی ہے کہ یہ بے حس لوگوں کو معاشرہ ہے۔ شاید ایسا ہی ہے کہ ہماری ترجیع فلسطین نہیں بلکہ کرکٹ ہے۔

میں نے تو اس بات پر خود کو تسلی دے دی کہ اے عباسی شہریارؔ کچھ نہ بول کہ سننے ولا کوئی نہیں، سمجھنے والا کوئی نہیں۔ مگر پھر ایک فلسطینی بچی کی صدا کان سے ٹکرائی کہ اے پاسبان حرم، خندہ زن کفر ہے، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟ ہم شرمندہ ہیں فلسطین۔ ہم مجبور ہیں فلسطین۔

کسی شاعر کی نظم ذہن میں گونجنے لگی کہ:۔
ہونگے یہ نصابوں میں مضامین، فلسطین
تاریخ ترے خون سے رنگین، فلسطین
پکڑیں گی قیامت کو گریبان ہمارا
لاشوں کی عزادار خواتین، فلسطین
بچوں کی صداؤں سے بھی کانپے نہیں سینے
گم عیش میں امت کے سلاطین، فلسطین
خود طوق میں لپٹے ہیں غلامی کے مسلسل
کر سکتے ہیں بس صبر کی تلقین، فلسطین
دشمن وہ تمہارا ہے ہمارا تو نہیں ہے
جھپٹیں گے کہیں اور یہ شاہین، فلسطین
لفظوں کی حدوں تک ہیں یہاں امن کی باتیں
ٹھوکر پہ ہیں ورنہ یہ قوانین، فلسطین
ہم لوگ تو قابل ہی نہیں آئیں مدد کو
رب تیری حفاظت کرے، آمین، فلسطین

Facebook Comments HS