بزدار اور فرح گوگی کو کون پکڑے گا؟
کرپشن ہمارا آج کا مسئلہ نہیں بانی پاکستان نے پہلے دن اس کی نشاندہی کردی مگر نہ وہ اس میں ملوث لوگوں کا کچھ کرسکے نہ آنے والے دنوں میں کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی کی تعریف اور معنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ یہ محض پیسے کا غبن یا غلط طریقے سے حصول سمجھا گیا جبکہ اس سوچ اور نظریے کو بنیاد بنا کر ہر جگہ ہر حیثیت میں کام ہوتے رہے۔
سیاستدانوں سے کرپشن کا لفظ بڑی مہارت کے ساتھ منسلک کیا گیا انہیں یہ نام دینے والوں تک پہنچا جائے تو سبھی اس کھیل کے کھلاڑی نکلیں گے۔
کرپشن کے الزام میں شاید ملازمتوں سے لوگ نہ نکلے ہوں جتنے سیاستدان فارغ ہوئے ہوں۔ یہ کوئی ان کے دفاع کی کوشش نہیں لیکن سماجی اور سیاسی اعتبار سے بنائی گئی فضاء کا تذکرہ ہے جہاں کرپشن کی کہانیاں سنا کر کسی کو مجرم ثابت کیا جاتا اور الزام لگانے والے کو صالح بلکہ صادق اور امین کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔
یہ سب کرتے ہوئے کہیں بڑی بے احتیاطی سے ہم اپنی ساکھ کھوتے چلے گئے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اداروں پر اعتبار بھی کھو بیٹھے۔ اب تو شاید کوئی قسم بھی اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں کہ فلاں فرد یا ادارہ قابل بھروسا ہے۔ یہاں سے اچھے کی امید یا انصاف کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لاٹھی اور بھینس کی مثال بھی اب شاید فضول لگتی ہے۔
آئین اصول نظریہ حق سچ اور نہ جانے ایسے کئی الفاظ اپنے معنی تلاش کر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں جتنے زیادہ کرپشن کرنے کے الزامات لگے بہت کم کو سزا ہوئی زیادہ تر بے گناہ اور سرخرو ہو کر لوٹے۔ اس کا دوسرا مطلب ہم جھوٹے بھی بہت زیادہ ہیں۔ سب سے بڑھ کر جنہیں بہتر یا نسبتاً کم خراب سمجھتے ہیں ان کی برائیوں پر خاموش رہنا بھی وتیرہ بن گیا ہے۔
پچھلے پانچ برسوں نے ملک کے ساتھ ہر شعبے کو بہت سے تجربات دکھائے کئی نئے نعرے دیے جنہیں لفظ بیانیے سے تعبیر کیا۔ سیاست اور ریاست کی لڑائی عوام کو بہت مہنگی پڑی۔ اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں۔ کمزوروں پر طاقت کے استعمال کے لئے اقتدار کا حصول اب لفظوں کا کھیل نہیں رہا اب سب کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
قیدوبند کی صعبتیں پہلے بھی برداشت کرنا پڑتی تھیں اب کچھ ایسا بھی کیا جاتا ہے کہ انہیں نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی انحراف یا اختلاف یا پھر آواز اٹھانے کا سوچ بھی نہ سکے۔
بات کرپشن کے خوبصورت کھیل کی ہے اس کی گونج بہت مگر نتیجہ صفر۔
کبھی آصف زرداری۔ نواز شریف کا نام ہوتا تھا اصولی طور پر عمران خان بھی اسی صف میں ہونا چاہیے اس سے زیادہ بزدار اور ایک ثانوی مگر مرکزی کردار فرح گوگی کا بہت شور ہے۔ مخالفوں نے محافظوں کے ساتھ مل کر سولہ ماہ اقتدار بھی لیا مگر ان دو کرداروں کا کچھ نہ بگڑا۔ یہیں سے شک گزرا کہ یہ کرپٹ بھی ہوں گے اور طاقتوروں کے سہولت کار بھی۔ ورنہ اب تک دھر لیے گئے ہوتے کیونکہ جن کے جرم اتنے بڑے نہیں وہ تو کئی بار کی ضمانتوں کے بعد بھی باہر نہیں آ پا رہے۔ یہ کون سی جگہ پر تھے کہ انہیں پکڑا نہیں جاسکتا
بزدار اور فرح گوگی نے کرپشن کی کہانیوں کی دو نمبری یا پھر طاقتور اداروں کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا۔ کوئی بتائے گا کہ انہیں پکڑنے کون آئے گا؟


