مسلمان مادھو اور گھیسو


منشی پریم چند اچھے خاصے مسلمان صفت انسان تھے۔ انہوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں انسان دوستی اور غربت کو کمال مہارت سے پیش کیا ہے۔ ان کا شہرہ آفاق افسانہ ”کفن“ اردو ادب کے بیشتر قارئین نے پڑھ رکھا ہے۔ افسانہ کفن ایک باپ بیٹے کی کہانی ہے جو غربت زدہ بے حس معاشرے کے عکاس ہیں۔ بیٹے کی بیوی بچہ جنتے ہوئے مر جاتی ہے۔ اور یہ باپ بیٹے اس کے کفن و انتیاساتی کے لیے شہر کے رئیس سے مدد مانگنے جاتے ہیں اور جو امداد ملتی ہے اسے کفن و انتیاساتی پر لگانے کے بجائے اس سے عیاشی کرتے ہیں۔

اس افسانے نے کئی نسلوں کو متاثر کیا اور جو بھی افسانہ پڑھتا وہ ان دونوں کرداروں پر لعنت بھیجتا۔ مگر حیرت اس امر پر ہے کہ یہ سب تو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اور آج کل بھی زور و شور سے ہو رہا ہے۔ لیکن ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ جو ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہمارے معاشرے میں لاکھوں کی تعداد میں مادھو اور گھیسو موجود ہیں۔ فلسطین کی بڑھیا مر گئی ہے اور یہاں کے مادھو اور گھیسووں کو ایک موقع ہاتھ آ گیا ہے، ہر گلی، بازار، مسجد اور میلے میں یہ گھیسو اور مادھو چادر پھیلائے اور چارپائی رکھے یا ہاتھ میں ایک ٹوکری اٹھائے فلسطینیوں کے کفن دفن کے لیے چندہ مانگتے نظر آئیں گے۔

مادھو اور گھیسو اتنے ایڈوانس نہیں تھے۔ لیکن یہ جدید مادھو اور گھیسو کافی ایڈوانس ہو گئے ہیں۔ آج کل انہوں نے فلسطین کی بدھیا کی لاش کی سہ زاویہ تصاویر بنا کر ان کے ہزار دو ہزار روپے میں پینا فلیکس بنا کر ہمدردیاں حاصل کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اور پاکستان کے وہ مسلمان جو دفتروں میں رشوت لیتے ہیں، دکانوں میں ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں، وہ ڈاکٹر جو کلینکوں میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ جو بجلی کی چوری کرتے ہیں۔ جو بہنوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔ وہ ان کو دھڑا دھڑ چندے دیتے ہیں کہ یہ ان کا چندہ فلسطین کے مظلوم لوگوں تک پہنچا دیں گے۔ اس کام میں دائیں بازو بائیں بازو اور جن کے بازو نہیں ہیں سب شریک ہیں۔

شہر کے سارے بے روزگار اور سوشل ایکٹویسٹ فلسطینیوں کے غم میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ یقیناً پاکستان بھر سے اربوں روپے جمع ہوئے ہوں گے اور ہو رہے ہیں۔ لیکن حکومت نام کی کوئی شے اس ملک میں نہیں ہے۔ جو یہ پوچھے کہ کس کی اجازت سے یہ کام ہو رہا ہے اور اس چندے کا حساب کتاب کیا ہو گا۔ اس کو فلسطینیوں تک پہنچائیں گے کیسے۔ یہ جو لوگ گلی محلوں اور بازاروں اور دفتروں میں چندہ مانگ رہے ہیں۔ ان کے پاس ایسا کون سا طریقہ کار ہے جس کے تحت یہ لوگ امداد یا پیسے فلسطینیوں تک پہنچائیں گے۔ کیا حکومت یہ بتا سکتی ہے کہ اس سلسلے میں بنکنگ چینل سے کتنے پیسے بھیجے گئے ہیں۔ سٹیٹ بنک ایک منٹ میں بتا دے گی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر سے کسی بھی بنکنگ چینل سے غزہ پیسے نہیں بھجوائے جا سکتے۔ تو پھر رہ جاتا ہے کہ پیسوں کی جگہ خوراک۔ دوائیوں اور دیگر امدادی سامان کے ذریعہ مدد کی جائے۔ تو ایسا بھی عملاً ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اسرائیل اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ اور جن اداروں کو مشروط اجازت مل رہی ہے وہ ایسے کسی سے سامان اور خوراک کی چیزیں نہیں لے سکتے۔ ان کے اپنے پروٹوکول ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے یہ سب مادھو اور گھیسو والا چکر ہے۔ یہ چکر صرف فلسطین کے مسئلہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک سافٹ کاروبار بن چکا ہے۔ جس میں جدید دور میں بہت سی نئی اختراعات ہوئی ہیں۔

اب مادھو اور گھیسو خود کو رجسٹرڈ کرلیتے ہیں۔ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز بناتے ہیں، یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس مقصد کے حصول کے لیے اب کرائے پر بھی لوگ پکڑ لیتے ہیں۔ جو یہ کام اپنا کمیشن لے کر زیادہ پروفیشنل طریقے سے کرتے ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ سارے لوگ خوشحال ہیں، کسی نے پلازے بنا لیے ہیں۔ کسی نے بیرون ملک جائیداد بنا لی ہے، کسی کے تو رشتہ دار بھی ارب پتی ہو گئے ہیں۔ ایک گلوکار چندے کے پیسے جوئے میں بھی ہار گیا تھا، ایک صاحب نے تو اس سے سٹاک ایکسچینج میں شیئر خریدے تھے اور سارے پیسے ڈبو دیے تھے۔

کچھ مذہبی اور لسانی جماعتوں کے ارکان کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی روزگار ہی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں مادھو اور گھیسووں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس اس مسئلہ کو حل کرنے یا ریگولیٹ کرنے کا کوئی منصوبہ یا قانون نہیں ہے۔ اس عمل نے پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے۔ انہی چندوں سے ہمارے ہاں شدت پسند بنے۔ اور اب بھی بن رہے ہیں۔ ہر مسجد اور معروف مقام پر لوگ ایسے لوگوں کے لیے چندہ کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے پاکستان کو شدت پسندی کا شکار کیا اور ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں خراب کیا۔

اسی چندے نے ہمیں ایف ای ٹی ایف کے نرغے میں رکھا۔ مگر اس ملک میں اس کی آج بھی کھلی اجازت ہے۔ جس کے جی میں آتا ہے ایک سووزوکی پر لاؤڈ سپیکر لگا کر اپنی دکان لگا لیتا ہے۔ مگر مجال ہے قانون نافذ کرنے والے ان کو کچھ بھی کہیں۔ اس ملک سے افغان مہاجرین کا انخلاء اس لیے بھی ضروری ہے کہ نظام کو خراب کرنے میں ان کا بھی کلیدی کردار ہے۔ وہاں امریکی مفادی جہاد کے لیے یہاں چندوں کا آغاز ہوا۔ اور اب بھی یہ کاروبار ان کی توسط اور ہماری مدد سے جاری و ساری ہے۔

یہ چندے بڑے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ اب چھوٹے چھوٹے دیہات میں بھی ہونے لگے ہیں۔ ہر مسجد کے صحن میں اور گیٹ پر یہ بہروپیے اور ٹھگ غریب لوگوں کو ٹھگنے کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور ان غریب دیہاتیوں کے مذہبی جذبات کو کیش کرتے ہیں۔ یہ کام افغان روس جنگ کے بعد یہاں شروع ہوا اور اس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ یہ اب ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ کسی کا کیا مشہور قول تھا کہ جب بھی کہیں جنگ ہوتی ہے یا حملہ ہوتا ہے تو امریکی بیڑا اور پاکستانی چندے کا بکس حرکت میں آ جاتے ہیں۔

ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے مملکت کی سرحدوں، لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرے اور اس مقصد کے لیے قوانین بنائے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرے۔ اب چونکہ دنیا بدل رہی ہے۔ پرانے تقاضوں کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی عوام تک پہنچ رہی ہے۔ اس لیے سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے بھی عام ہو رہے ہیں۔ ان کا سد باب وقت پر نہ کیا جائے تو یہ معاشرتی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کو ٹھگنا ایک معمول بن چکا ہے۔

اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ دوسروں کی لاشوں پر ڈرامے بنا کر ہم اپنے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کو جن کی فی کس آمدنی اس وقت دنیا میں سب سے کم ہے اور زندگی گزارنے کے وسائل انہیں دستیاب ہی نہیں ہیں۔ جو خود محتاج ہیں۔ صدقہ خیرات دینا ایک بہت ہی مستحسن عمل ہے۔ یہ جس معاشرہ میں زیادہ ہو گا اس معاشرے میں انسانوں کی زندگی با سہولت ہوگی۔ لیکن جب اس نیک عمل کو لوٹنے کا ذریعہ بنایا جائے تو انسان، انسانیت کی سطح سے بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں ان سیاسی۔ مذہبی اور سماجی مادھووں اور گھیسوووں کو روکنا ہو گا۔ ورنہ ہمارے معاشرے کی لاش پڑے پڑے سڑتی رہے گی اور اس کے تعفن سے ہم سانس نہیں لے سکیں گے۔ یہ مادھو اور گھیسو چندوں سے خریدی شراب پی کر بد مست رہیں گے۔

Facebook Comments HS