غزہ میں جنگ بندی کی کوشش


شمال میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ جیسے شہری مقامات پر اسرائیلی حملوں نے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا، میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی غزہ پہ رات بھر بمباری میں سینکڑوں شہریوں کی اموات اور شمالی غزہ سے ہزاروں فلسطینی کے انخلاء کے باوجود اب بھی چار لاکھ کے قریب شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکی مقتدرہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان شٹل ڈپلومیسی میں سرگرداں ہیں تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کامل جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے، غزہ کی شہری آبادیوں پر بمباری جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

7 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10,569 فلسطینی شہید اور 70 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے اسی عرصہ میں مرنے والے اسرائیلیوں کی تعداد 1,400 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ حماس کے ذرائع نے رائٹرزکو بتایا کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان امریکی تعاون سے قطر کی ثالثی میں لڑائی میں چند دنوں کے وقفہ کے عوض حماس کی طرف سے پندرہ قیدیوں کی رہائی کی پیشکش پہ بات چیت ہو رہی ہے۔ اے ایف پی نے حماس کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ”تین دن کے انسانی توقف کے بدلے 12 مغویوں کی رہائی کے گرد گھوم رہے ہیں۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن سے بات چیت کے بعد تمام 240 اسیران کو رہائی کے بغیر عارضی جنگ بندی سے انکار کر دیا۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد یہ بھی سامنے آیا کہ حماس کے زیر حراست چار اسیروں کی حوالگی کے لیے بات چیت نتیجہ خیز ہونے جا رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جب یرغمالیوں کی رہائی کی بات آتی ہے تو امریکیوں کی طرف سے“ لڑائی میں حکمت عملی سے توقف ”کی حمایت دوچند ہو جاتی ہے لیکن الجزیرہ نے بتایا کہ نیتن یاہو نے 24 گھنٹے قبل اس لئے یہ کہہ کر تجویز مسترد کر دی کہ جنگ بندی تب ہی ہو گی جب تمام قیدی رہا ہوں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں، اگر صرف چند قیدی رہا ہوئے تو اسرائیل کے اندر سے ان پر دباؤ مزید بڑھا جائے گا لیکن تاحال تمام قیدیوں کی رہائی بارے مذاکرات شروع ہی نہیں ہو سکے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے مصری سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مغویوں کی رہائی کے بدلے اگلے ہفتہ لڑائی میں 24 / 48 سے گھنٹے کا وقفہ یا جنگ کا دائرہ محدود ہونے کی توقع ہے۔ بدھ کو ٹیلی ویژن خطاب میں، حماس کے کمانڈر ابو عبیدہ نے کہا کہ اسیروں کی مکمل رہائی کی ضمانت دینے کا واحد راستہ“ قیدیوں کا مکمل اور دو طرفہ تبادلہ ”ہے، الاقصیٰ ٹیلیویژن پر خطاب میں القسام بریگیڈز کے کمانڈر نے کہا کہ اسرائیل نے مسلم خواتین کے علاوہ بیمار، بوڑھوں اور دیگر شہریوں کو اپنی جیلوں میں قید رکھا ہوا ہے، حماس نے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کو رہا کرے۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو صرف چند قیدیوں کی رہائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، صلح جامع اور ہمہ گیر عمل ہے جس میں سب کو شامل ہونا پڑے گا۔ ادھر اسرائیل میں پہلی بار عوامی حلقے، غزہ میں قید اپنے پیاروں کی رہائی کی خاطر نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا رہے ہیں کہ وہ ایسے معاہدے پر غور کریں، جسے انہوں نے“ سب کے لئے ”کا نام دیا یعنی“ سب کے لیے ”کے فریم ورک میں تمام فلسطینی مسلمان اور یہودیوں قیدیوں کی رہائی کے لیے وسیع پیمانے پر قومی حمایت حاصل کی جائے۔

مذاکرات کی تازہ ترین رپورٹوں کے بعد ، یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم نے کہا کہ وہ ”دونوں جانب قید ہر ایک مغوی کی واپسی“ کا خیرمقدم کریں گے لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ نتین یاہو قیدیوں کی رہائی کو کتنی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ غزہ پر زمینی، سمندری اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، زمینی افواج غزہ شہر میں گھنے والی ہیں اور فضائی حملوں میں 4324 بچوں سمیت 10,569 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

حماس کے خلاف اسرائیل کے زمینی حملہ سے قبل اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کا محاصرہ کر کے جنوبی غزہ سے گنجان آباد علاقوں کو کاٹ دیا، حماس کے مطابق ان کی موثر زمینی مزاحمت نے اسرائیل کے زمینی حملوں کو کند کر دیا، حماس کے جنگجووں نے طویل مزاحمتی جنگ کی خاطر خود کو زیر زمین تعمیر کردہ دفاعی ڈھانچے کے اندر مورچہ زن رکھا ہوا ہے۔ مصر کے سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیل نے وقتاً فوقتاً انسانی بنیادوں پہ جنگ میں توقف کی اپیلوں کو مسترد کرنے کے الرغم روزانہ ایک سو امدادی ٹرکوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ راکٹوں کا تبادلہ جاری رکھنے کے علاوہ شام میں مبینہ طور پر ایران سے منسلک اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ کئی گروہوں نے عراق اور شام میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملوں کیے جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل داغ کر میدان جنگ میں داخل ہونے کی رسم ادا کی ہے۔

پچھتر سال پرانے اسرائیل فلسطین تنازعہ کی بنیاد 1947 میں، اقوام متحدہ کی منظور کردہ 181 قرارداد کے ذریعے رکھی گئی، جسے پارٹیشن پلان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جس میں برطانیہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سکیم کے تحت 14 مئی 1948 کو اسرائیلی ریاست کا قیام یقینی بنایا اور امریکی مقتدرہ نے اسی منصوبہ کو پہلی عرب اسرائیل جنگ کا محرک بن کر اس پراسرار جنگ کو 1949 میں اسرائیل کی فتح تک پہنچا کر نوزائیدہ صیہونی ریاست کو مڈل ایسٹ کی زمینی حقیقت اور علاقائی طاقت کے طور پہ منوا لیا۔

اس جنگ کے نتیجہ میں 750,000 فلسطینی کے بے گھر ہونے کے علاوہ فلسطین 3 حصوں میں منقسم ہو گیا، جس میں اسرائیل، مغربی کنارا (دریائے اردن کا ) اور غزہ کی پٹی شامل تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے اجڑے ہوئے خطہ میں مغربی طاقتوں نے اگلے چند سالوں میں بتدریج کشیدگی بڑھائی، خاص طور پر اسرائیل، مصر، اردن اور شام کے درمیان 1956 کے سوئز بحران اور جزیرہ نما سینائی پر اسرائیلی حملہ کے بعد مصر، اردن اور شام نے اسرائیلی فوجیوں کے مبینہ طور پہ متحرک ہونے کے تراشیدہ خدشہ کے پیش نظر باہمی دفاعی معاہدات پر دستخط کیے تھے۔

جون 1967 میں، مصری صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے بغیر کسی منصوبہ بندی کے اسرائیل سے غیر ضروری طور پہ چھڑی گئی چھ روزہ بے مقصد جنگ نے مصری اور شامی حکومتوں کو مزید کمزور کر دیا، عالمی طاقتوں کی خفیہ اعانت کے باعث اسی جنگ میں اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نما سینائی اور غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ اردن سے مغربی کنارا اور مشرقی یروشلم اور شام سے گولان کی پہاڑیاں چھین کر پورے مڈل ایسٹ پہ بالادستی حاصل کر لی۔

چنانچہ چھ سال بعد 1973 میں، جسے یوم کپور (حزن و ملال) جنگ کہا جاتا ہے، مصر اور شام نے اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ لینے کی خاطر اسرائیل کے ساتھ پھر دو محاذوں پہ جنگ چھیڑی دی، جس میں فریقین کو کوئی فائدہ تو نہیں ہوا تاہم مصری صدر انور السادات نے جنگ کو اس لئے مصر کی فتح قرار دیا کیونکہ اسرائیل نے مصر اور شام کو پہلے سے دیے گئے علاقوں پر مذاکرات کی اجازت دے دی۔ آخر کار، 1979 میں، جنگ بندی اور امن مذاکرات کے ایک سلسلے کے بعد ، مصر اور اسرائیل کے نمائندوں نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر دستخط کیے، جو ایک ایسا امن معاہدہ تھا جس میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی مسل ریاست کا اعزاز حاصل کیا۔

کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے اگرچہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بہتر ہوئے لیکن فلسطینیوں کا حق خود ارادیت اور خود مختاری کا سوال سودا بازیوں کی نذر ہو گیا۔ 1987 میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے لاکھوں فلسطینیوں انتفادہ کے نام سے اسرائیلی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسی انتفادہ کو روکنے کی خاطر 1993 میں اوسلو نے ثالثی کر کے فلسطینیوں کے لیے مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی قائم کر کے الفتح سے اسرائیل تسلیم کرا لیا۔

Facebook Comments HS