شکریہ اقبال، ہم پنجابی مسلمان تیرے مقروض ہیں


میں پنجابی مسلمان ہوں، زمانہ جاہلیت میں ہندستانی رہا ہوں، الحمد للہ پچھلے 75 سال سے پاکستانی ہوں، اس کے لیے میں حکیم الامت علامہ اقبال کا شکر گزار ہوں، اگرچہ اواخر عمری میں انہوں نے اپنی ہندی جڑوں کی تلاش بطور سپرو برہمن کرلی تھی مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی حالت زار پر راتوں کو اٹھ اٹھ کر شعر لکھتے اور زار و قطار روتے تھے۔

ہم ایسے گمراہ پنجابی مسلمانوں کو انہوں نے ہی سیدھا رستہ دکھایا تھا وگرنہ ہم تو کلمہ پڑھ کر بھی، گگے پیر کا ختم دلواتے تھے، بڑا گوشت نہیں کھاتے تھے اور شادی بیاہ پر ہندوانہ رسمیں ادا کرتے تھے۔

اسی اقبال نے ہمیں بتایا کہ ہم آبا و اجداد کی پہچان اور ان کا دیا ہوا سبق بھول چکے ہیں، ہم گنگا کنارے ہندؤوں کو فتح کرنے کے لیے آیا اپنا جہادی کارواں چھوڑ کر راوی چناب اور جہلم کی عشقیہ داستانوں میں گم ہو چکے ہیں، صد شکر کہ اقبال نے ہمیں وارث شاہ، ہاشم شاہ اور بلھے شاہ جیسے راندہ درگاہ لوگوں سے بچا لیا۔ اقبال نے ہمیں بتایا کہ ہمارے اباؤ اجداد راجہ پورس، دلا بھٹی، رنجیت سنگھ اور احمد خان کھرل نہیں بلکہ محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور احمد شاہ ابدالی تھے۔

ہم اقبال کا یہ احسان کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ اس نے ہمیں ریاست مدینہ کا بھائی چارہ یاد دلاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ اگر کابل کے لوگوں کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو ہمیں کنک کی بجائی، گنے کی پڑائی، کپاس کی چنائی اور اس جیسے غیر ضروری کام چھوڑ کر اسے نکالنے کے لیے چل پڑنا چاہیے، کیونکہ اگر ہمارے افغان بھائی پاؤں کے کانٹے کی وجہ سے چل ہی نہ سکیں گے تو پنجاب میں ہمارے کنک کے بھڑولے، شکر کی ڈرمیاں اور روئی کی گٹھڑیاں پڑی پڑی خراب ہوجائیں گی، سچی بات ہے اقبال بڑا دور اندیش مفکر تھا۔

ذرا سوچیں اگر اقبال ہمیں یہ باتیں نہ بتاتا تو ہم پنجابیوں کے ناعاقبت اندیش حکمران سکندر حیات اور خضر ٹوانہ ہمیں کہاں لے جاتے، اور بٹالے کا فضل حسین زندہ رہتا تو شاید پنجاب کو الگ ملک ہی بنوا دیتا، وہ تو گاندھی اور قائد اعظم جیسے جہاں دیدہ وکیلوں کو بھی غچہ دینے کے موڈ میں تھا، ذرا سوچئے : ہم نے اس پنجاب کا کیا کرنا تھا کہ جس میں چھتیس فی صد ہندو ہمیں سپیکر پر اذان سے محروم رکھتے اور گائے تک ذبح نہ کرنے دیتے، آخر ایمان بھی کوئی چیز ہے، اور تیرہ فی صد سکھوں سے تو بھلا ہوا جان چھوٹ گئی، جہاں چار اینٹیں دیکھتے، گردوارہ بنا لیتے، اور کملے اتنے تھے کہ رنجیت سنگھ سے آگے سیاست اور سپہ گری ختم سمجھتے تھے، وہ تو بھلا ہوا پاکستان بن گیا اور ہم نے بتا دیا کہ سیاست اور سپہ گری کیسے کی جاتی ہے۔

سچ میں ہم پنجابی مسلمان علامہ اقبال کے بہت ہی ممنون ہیں، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ ہمیں یہ نہ بتاتے کہ حضرت غزنوی، غوری اور ابدالی کتنے بڑے مجاہد تھے تو ہم اپنے کم فہم اور کوتاہ اندیش بزرگوں کی طرح یہی سمجھتے رہتے کہ افغانستان کی طرف سے حملہ کرنے والے یہ مجاہد لٹیرے تھے، اس میں ہمارے پرکھوں سے زیادہ قصور وارث شاہ اور بلھے شاہ جیسے گمراھ صوفیوں کا ہے جو لوگوں سے یہ کہتے پھرتے تھے کہ

”کھاہدا پیتا لاہے دا تے باقی احمد شاہے دا“
(جو کھا پی سکتے ہو، غنیمت ہے، کھا پی لو، باقی سب کچھ تو احمد شاہ ابدالی کا ہے )
”احمد شاہ از غیب تھیں آن پوسی رب رکھ جنڈیالے نوں جاسیا اوئے“
(احمد شاہ ابدالی غیب سے حملہ آور ہو گا، اے میرے خدا میرے شہر جنڈیالے کو بچا لینا) ۔

ہمارے بزرگ نرے بھولے تھے کہ جو اسلام کے ان عظیم فاتحین کی فوجوں کے خلاف دل میں بغض لیے پھرتے تھے، بندھ پوچھے، بزرگو، بیچارے دین پھیلانے کے لیے فوج لے کر نکلتے تو کیا بھوکے پیٹ لڑتے جاتے؟ بھلا آپ کے گندم سے بھرے بھڑولے، شکر سے اٹی ڈرمیاں اور ڈیرے پہ کھڑے مویشی کس کام آنے تھے؟ وہ قرون اولی کے لوگ اور تھے جو پیٹ پہ پتھر باندھ کر جہاد کیا کرتے تھے۔ مجھے تو ان نام نہاد مؤرخوں پر غصہ آتا ہے جو کہتے ہیں کہ پہاڑوں سے آنے والے مجاہدین خوبصورت عورتیں اٹھا لیتے تھے، اور کچھ گستاخ تو یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ واپسی پر وہ ان عورتوں کو منڈیاں لگا کر فروخت بھی کرتے تھے۔

کوئی بھی دانشمند مسلمان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جہاد کے لیے کتنی مصیبتیں اٹھانا پڑتی ہیں، سالہا سال تک اگر آپ بیوی بچوں کی شکل تک نہ دیکھ سکیں تو آپ ذہنی مریض بن سکتے ہیں، پھر جہاد کیا خاک کرنا ہے، تو اگر مفتوحہ اقوام میں سے حسب ضرورت ایک دو بیویاں یا لونڈیاں لے لیں یا منڈی میں فروخت کر دیں تو کون سی قیامت آ گئی، یہ تو ہو نہ سکا کہ خود ہی جاتے اور ان درویشوں سے کہتے، لیجیے : ”جو دال ساگ ہے، حاضر ہے، مل جل کر کھا لیں گے“ ۔ بھلا بدنی اور مالی ضرورتوں کو پورا کیے بغیر یہ ریشم کی طرح نرم درویش رزم حق و باطل میں فولاد کیسے بن سکتے تھے؟

میں تو بار بار کہتا ہوں عظیم فلسفی اقبال نے پنجابی مسلمانوں کو بچا لیا، اگر اقبال پیدا نہ ہوا ہوتا تو روس کی افغانوں پر چڑھائی کے بعد پنجابی بچے کابل کے کانٹے نکالنے کیسے جا پاتے، اقبال نہ ہوتا تو وہ دشت و صحرا میں اسامہ بن لادن کے ساتھ کس طرح ہمرکاب ہوتے اور بحر ظلمات میں حق اور سچ کے گھوڑے کیسے دوڑا پاتے، شکریہ اقبال، ہم پنجابی مسلمان تیرے مقروض ہیں۔

Facebook Comments HS

طارق گجر

طارق گجر بنیادی طور پر پنجابی شاعر اور افسانہ نگار ہیں، تقسیم پنجاب ان کی تخلیقی شخصیت کا ہمیشہ سے محرک رہا ہے۔ وہ ان پنجابی لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1947 کے بعد پنجابیوں کو درپیش شناختی بحران کے حوالے سے قابل قدر تخلیقی کام کیا ہے۔ اس حوالے سے ان کی شاعری کی کتاب ”رت رلے پانی“ قابل ذکر ہے۔ پچھلے چند سالوں سے انہوں نے پنجاب کی تقسیم کے عینی شاہدین کے انٹرویوز کے ذریعے تقسیم پنجاب کے سلیبسی نقطہ نظر کے متوازی پنجاب کے عوام کا نقطہ نطر سامنے لانے کے سلسلے میں بھی کام کیا ہے۔ طارق گجر جمہوریت، مکالمے، صنفی برابری اور آزادیٔ رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں اور پاکستانی میں بسنے والی اقوام کے درمیان مکالمے کے لیے کوشاں رہتے ہیں

tariq-mahmood-gujjar has 10 posts and counting.See all posts by tariq-mahmood-gujjar