دھوپ عارض دوست اور سائے گیسوئے یار سے متصل حیات


زندگی کے مدوجزر سے گزرتے ہوئے، کبھی عسرت کی آماجگاہ کو، زیست یک رنگ محسوس ہو تو سرور بارہ بنکوی صاحب کے قلم کی روشنائی سے آشنائی کرواتا یہ شعر، اکثر، ذہن کے کسی نہاں خانے میں گونجا۔ ”غم روز و شب کی امین ہے یہ حیات پھر بھی حسین ہے / کہیں دھوپ عارض دوست کی کہیں سائے گیسوئے یار کے۔“ لطیف نکتہ پایا کہ وقت، مٹھی سے سرکتی ریت کی طرح بیت جاتا ہے۔ لمحے مقید کہاں ہوتے ہیں! پھر یاسیت سے کیسا میلان!

ایام کا بدلاؤ تو قانون فطرت ٹھہرا۔ بسا اوقات، گردش مدام سے دل گھبرا بھی جایا کرتا ہے۔ پس، اضطراری کیفیت میں شاعر کی زندگی پہ رشک آتا ہے کہ سخن ور کو چلچلاتی دھوپ میں، بعین آرزو، گیسوؤں کے سائے میں پناہ ملی۔ ولولے سے عبارت عمر کی جماعت کی خرخشوں کی فصل میں باغ و بہار تک رسائی کی موہوم امید موقوف ہوتی جا رہی ہے۔ ملک عزیز کے سیاسی و معاشرتی منظر نامے پہ ایام کے پھرنے کی بازگشت ہے۔ تصویروں کی ساخت کا تعین عکس بندی پہ مامور، ہدایت کار نہیں، وہ مورخ کرے گا، جس کے بارے میں، کہا جاتا ہے کہ یہ فصیل کے پار ہی کیوں پیدا ہوتا ہے۔

طفلان سیاست، مگر ان دنوں میں سورج کی شعاعوں کے ساتھ سفر کا اعادہ کر رہے ہیں۔ تجرید کے ایام کے گزر کے بعد ، تجدید وفا کا منظر، نوجوان کو عجب کشمکش میں مبتلا کر رہا ہے کہ وہ میدان سیاست سے کنارہ کشی کر رہا ہے یا مطلوبہ زیرک کے بغیر مخالف پہ محض پھبتیاں کس رہا ہے۔ اس کیفیت میں زندگی سے بے زاری کا عنصر محسوس ہوتا ہے۔

نوحہ خوانی کی بزم سے پرے، زندگی قناعت کے ان گنت مواقع دہلیز پہ، دست التجا کی طرح، سجا کر در کی زینت کو آرائش گاہ جمال بنا دیا کرتی ہے۔ زندگی اپنے آپ میں ایک نعمت ہے کہ عالم کے متفرق رنگوں سے آشنائی، بچپن کی معصومیت، شباب کا وصال، پیری کا نکھار، چڑھتی اور ڈھلتی عمروں کے سفر کی لذت، شب کی سیاہی میں رخ سحر کی لگن، سانس کی روانی ہی سے متصل ہے۔ مگر جہان حیرت کے باب میں کتنے ہی دلفریب ہاتھ مشاطگی کا فریضہ، انجام کے زینے پر قرینے سے چڑھاتے اور کتنے ہی جاں فزا مناظر دل کو لبھاتے ہیں کہ انسان فرط جذبات میں تغیر کو بھول جائے۔

خرابات میں کتنی ہی شیفتہ آنکھیں، متاع فرحت بننے کی آرزو لئے، کشت ویراں کو آب زر سے سینچنے کے لئے، انتظار کی طویل قطار میں بیٹھیں، اشک کے چشمے سے دل کی زمین سیراب کیے، بصیرت کی رائیگانی کا تہمت لئے رخصت ہو گئیں۔ مگر نالہ و شیون کی شناور نہ بنیں۔ بلکہ زیست کا ہر لمحہ اس آن میں صرف کیا ”بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے / فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم۔“

حالات کا نوحہ کیے بغیر، امروزہ کے رواج کے بت کو پاش پاش کرتے، صنم تراشتے انبوہ سے جدا، زمانی عہد سے آزاد، چند انسان، وجود کی ماہیت تک پہنچنے کی سعی کرتے ہیں۔ چند برس کی عذلت نشینی اختیار کرتے ہوئے، بعض تو رنگ و بو کے عالم میں انبساط کے اسباب تیاگ کر کے کوہ پیمائی کی مشق کرتے ہوئے، لق و دق دشت میں حجرہ ٹانکتے، نروان کی دہلیز تک جا پہنچنے کا دعوی کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی پیشانی، معاشرے کی جانب سے، ثبت کیے گئے کلک سے، ان کے ہم عصروں کو نامانوس سی معلوم ہونے لگتی۔

وقت کے حاکم کی رعونت کا شکار ہو کر دربدر ہوئے، دار و دسن کی آغوش میں پلے ہوئے، یہ ضمیر کے قیدی، آئندہ نسل کے نصاب میں یوں باب رقم کرتے ہیں گویا ذکاوت کا عمدہ نمونہ بننے کے لیے انہیں تقدیر کے لوح پہ مقدر کے سکندر ہونے کی عبارت درج کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہو۔ احمد فراز نے برسوں قبل، انسان کی عمدہ صورت گروں کے لیے لکھا تھا ”آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر/ کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں۔“

صدیاں بیت گئی ہیں، زہر کے پیالے کو جام شیریں کی طرح نوش کرنے والا سقراط، آج بھی زندگی کی راہ کی سمت کے متعین کرنے میں اصول منضبط کیے ہوئے ہے۔ ایک جانب، رعونت کے چوبی پتلوں کے نشان مفقود ہو چکے۔ دوسری جانب، تاریخ، جولاں گاہ میں اول صف میں درجہ پانے والوں کا، خواہ ان کا تعلق کسی بھی میدان سے ہو، سنہری حروف میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مذہب کے میدان میں انبیا اس کی واضح مثال ہیں۔ ہر رسول کو نامساعد حالات کا سامنا رہا، مگر وہ مقصد کی تکمیل میں استقامت کے بلند قامت مینار ثابت ہوئے۔

قدیم اور جدید سیاسی جدوجہد کی تاریخ کے کتب خانے، ایسے راہنماؤں کی سوانح حیات پہ مشتمل ہیں جن کی زندگی جہد سے عبارت ہے۔ اس ضمن میں نیلسن منڈیلا کی خود نوشت، عمومی طور پہ، پیش کی جاتی ہے۔ تھامس جیفرسن کی تجاویز آج بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ ابراہم لنکن کے خط کا متن آج بھی مستعمل ہے۔ برصغیر کے کئی سیاستدان اور صحافت کے پلیٹ فارم سے سامراجی قوتوں کو للکارنے والے، زندان کی صعوبتوں کو، پیشانی کا جھومر بنانے والے، آج بھی مستند حوالہ تاریخ ہیں۔ صعوبتوں کی نوعیت کا اندازہ کیجیے کہ مولانا آزاد کو اہلیہ کی دائمی مفارقت کا داغ، قفس میں جھیلنا پڑا۔ سیاست کی حرکیات سے شغف رکھنے والوں کے لئے جہد کے میناروں کی کتب، انتہائی اہمیت کی حامل ہیں بلکہ انہی کی تجزیے میں حال کے مظاہر کو پرکھ کر، حکمت عملی کے نکات ترتب پاتے ہیں۔

آج زنداں کے خوف سے مقصد کو دھوکہ دے کر راتب کے طلبگار، تشہیر پا رہے ہیں۔ چشم زدن میں، ایک دہائی سے بنے رشتے کی ڈور کاٹ کر نئے بندھن میں بندھ کر وقت کی آغوش میں بیٹھ کر راگ درباری کے سر سے لطف پا رہے ہیں۔ قواعد و ضوابط کی پامالی جاری ہے۔ آئیے، ابتلا کے اس دور میں کاوش پیہم کے شیدائیوں کے نقوش پا میں امکاں کی کھوج کریں۔

Facebook Comments HS