آخری معرکہ حق و باطل (آرما گیڈن)


کائنات کے ظہور سے ہی نیکی و بدی کی جنگ جاری ہے۔ اور تا قیامت جاری و ساری رہے گی۔ لیکن آخری معرکہ خیر و شر دنیا کی بساط لپیٹنے سے قبل ظہور پذیر ہو گا جس پر تمام ادیان کا اتفاق ہے۔ ایسی جنگ جس میں شر اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ ایک طرف اور دوسری طرف خیر و برکت والی قوت ہو گی۔ ایسا تصادم جس میں شر مغلوب ہو کر دفن ہو جائے گا۔ یہ آخری معرکہ خیر و شر کیا ہے؟ یہ ایک ایسا معرکہ ہے جو حساب و کتاب والے دن یعنی روز محشر سے قبل برپا ہو گا۔ ایک ایسا انہونا و تباہی مچا دینے والا معرکہ جس سے نہ صرف کائنات بلکہ انسانوں کی نسل کے مفقود ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا۔ اس معرکہ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مسیحوں کی الہامی کتاب بائبل کی 16 : 16 وحی میں اس عظیم معرکہ کو آرماء گیڈن جسے بعض اوقات ہارما گیڈن کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، کا ذکر ملتا ہے۔ جس کے تحت کئی جنگیں ہوں گیں یا ایک عظیم جنگ خیر و شر کے درمیان ہو گی۔ مسیحیوں کے نزدیک یہ معرکہ دنیا کے خاتمے سے قبل ظہور پذیر ہو گا۔ آرماءگیڈن کے لفظ کو کئی طریقوں سے لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ایک اور لفظ میگیڈو کا قدیم بائبل میں 12 بار تذکرہ ملتا ہے۔

اسی کے ساتھ بائبل میں دس بار قدیمی شہر میگیڈو کا ذکر بھی ہے۔ مسیحوں کی تشریح کے مطابق اس کا مطلب ”شہر سے قریب تر میدان“ لیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے وہ ہر شے پر قادر ہے اور بہتر جانتا ہے کہ یہ معرکہ خیر و شر کب برپا ہو گا۔ ہر دانشور اپنے طور بائبل کی تشریح میں اس بات پر قائل ہے کہ یہ ایک میدان ہے یا کسی پہاڑ کے نزدیک کا میدان۔ ان لوگوں کے نزدیک یہ اسی وادی کا حصہ ہے جہاں میگیڈو کی آخری جنگ لڑی گئی تھی اور دوبارہ اسی جگہ معرکہ حق و باطل برپا ہو گا۔

عبرانی زبان کے بموجب یہ لفظ ”ہرمیگیڈو“ ہے جس کا مطلب پہاڑ پر جمع ہونے والا لشکر۔ یا کورمہ گیڈن جس کا مطلب مخالفین کی عسکری قوت کی بربادی یا پھر ہر میگیڈو کا ایک اور مطلب بھی لیا جاتا ہے۔ جس کی تشریح ”ہر میگیڈو کا پہاڑ“ کی گئی ہے۔ اسی طرح یہودی مذہب کے ماننے والوں کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک ایسا معرکہ برپا ہو گا جس میں دنیا کے سارے بادشاہ یعنی شر والے اکٹھے ہو کر خیر کی قوتوں کا مقابلہ کرنے کی جسارت کریں گے۔ شر والوں کا خیر والوں سے ٹکراؤ ہو گا اور فتح حق کی ہو گی۔

آرماءگیڈن عبرانی لفظ ہے جس کا یونانی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، لفظ آرماء کا مطلب پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ ہے۔ اور بقیہ لفظ کا مطلب لوگوں کے ہجوم والی یا اکٹھا ہونے والی جگہ ہے۔ اس لفظ کو دنیا کے ختم ہونے کے استعارہ کے طور بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہودی مذہب کے ماننے والوں کے نزدیک وادی جبریل یا مرج ابن عامر جو کہ وادی میگیڈو بھی کہلاتی ہے جس کی سر زمین نہایت زرخیز اور جو موجودہ اسرائیل کے شمالی اضلاع میں واقع ہے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں آخری معرکہ خیر و شر برپا ہو گا۔

دین اسلام بھی آرماءگیڈن یعنی آخری معرکہ حق و باطل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث کے مطابق الملہمت الکبری یعنی ایک عظیم جنگ کا تذکرہ ملتا ہے۔ جس کے تحت دجال کی آمد سے قبل یہ معرکہ برپا ہو گا۔ الملہمت الکبری کے معنی ایک عظیم جنگ کے ہیں۔ یہ جنگ تمام ادعیان کے نزدیک خوفناک اور قتل و غارت سے بھرپور ہو گی۔ اس جنگ میں مسیحی اور مسلمان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مشترکہ دشمن سے لڑیں گے اور فتح یاب ہوں گے لیکن پھر دونوں مذاہب کے لوگ اس فتح کو اپنی اپنی کامیابی گردانتے ہوئے آپس میں دست و گریبان ہوں گے۔

مسلمانوں کے نزدیک اس کے بعد دجال کا ظہور ہو گا۔ پھر اس کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کرہ ارض پر تشریف فرما ہوں گے اور وہ دجال کے شر سے نہ صرف تمام مخلوق کو نجات دلائیں گے بلکہ اس کو نیست و نابود کر دیں گے۔ اس کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام دین اسلام کی پیروی کریں گے۔ مسیحیوں کی اکثریت کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام کا آخرت میں ظہور پذیر ہونا اور خیر کی قوت کا شر کی قوتوں پر غالب آنے ہر اتفاق ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اسی دوران امام مہدی کا ظہور بھی ہو گا۔ اور آخر کار حق باطل پر غالب آ جائے گا۔ امام مہدی کی وفات کے بعد جوج ماجوج کی آمد ہوگی۔ جنہیں اللہ تعالٰی نیست و نا بود کر دے گا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا دورانیہ چالیس سال کا ہو گا اور پھر وہ دائی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس جہان فانی سے رخصت ہو جائیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہ معرکہ حق و باطل کب برپا ہو گا۔ اس معرکہ بارے قطعی طور کوئی نہیں جانتا صرف کار خانہ قدرت کا مالک اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے۔

لیکن اب آثار بتا رہے ہیں کہ شر کی قوتوں نے اس خطے میں قدم جمانے شروع کر دیے ہیں اور خیر کی قوتوں کو مغلوب کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کب اس خیر و شرک کی جنگ کا پانسا پلٹتا ہے اور خیر کی قوتوں کا متحد ہونا جو ازل سے لکھا ہے اور ان کے متحد ہونے کے بعد وہ انہیں کس طرح نیست و نابود کرتے ہیں۔ بس وقت کا انتظار رہے۔ وقت کسی ایک کا نہیں رہتا۔ آج شر کی قوتیں حاوی ہیں تو کل خیر کی قوتوں کا دن ہو گا۔ یہ وہ دن ہو گا جب خیر و برکت والی قوت غالب ہوگی اور کائنات میں خیر کا دوبارہ بول بالا ہو گا پھر مالک کائنات کرہ ارض کی بساط لپیٹ دے گا۔ وہ قادر مطلق و خالق کائنات ہے اور اس کی تدبیر سب پر غالب ہے۔ یہ ہی فرمان ربی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔ آمین


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments