سیاہ رات میں خودکلامی

جنوری کا آفتاب طلوع ہوتا ہے، احساس گزرتا ہے کہ امید کی کرن آنگن میں اتر رہی ہے۔ منڈیر پہ اترتی، سرما کے سورج کی مدھم شعاع، رات کے ٹھنڈے اوس زدہ فرش پہ پڑتی ہے، گداز حرارت کی فرحت میں لطف کا سماں بندھ جاتا ہے۔ زندگی میں سنہرے خواب اور رومانوی آرزوؤں کی مہک زدہ فضا کے چھانے کا احساس ہوتا ہے۔ شب میں نیند کی بانہوں میں تسکین ملتی ہے اور دن کے اجالے میں اسیر خواب،

Read more

استاد منگو اور گورے کا قضیہ

تحریک تنویر (Enlightenment) کی کوکھ سے جنم لینے والے انقلاب نے انسانی زندگی کی صورت بدل دی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک نئی صورت تراشی، نئے اصول منضبط کیے، بوسیدہ مشقیں ترک کیں، فرسودہ روایات کے داغ دار پیرہن اتار کر، اجلی پوشاک اوڑھی گئی۔ روشن خیالی کی تحریک کے اثرات کی فہرست طویل ہے۔ المختصر، سماج اور ریاست کے تعلق کی نوعیت کو، فرد کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ سماج کے مقام کو

Read more

دھوپ عارض دوست اور سائے گیسوئے یار سے متصل حیات

زندگی کے مدوجزر سے گزرتے ہوئے، کبھی عسرت کی آماجگاہ کو، زیست یک رنگ محسوس ہو تو سرور بارہ بنکوی صاحب کے قلم کی روشنائی سے آشنائی کرواتا یہ شعر، اکثر، ذہن کے کسی نہاں خانے میں گونجا۔ ”غم روز و شب کی امین ہے یہ حیات پھر بھی حسین ہے / کہیں دھوپ عارض دوست کی کہیں سائے گیسوئے یار کے۔“ لطیف نکتہ پایا کہ وقت، مٹھی سے سرکتی ریت کی طرح بیت جاتا ہے۔ لمحے مقید کہاں ہوتے

Read more

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

تاریخ کے قرطاس پہ، کئی محاذوں پہ، داستانیں رقم کرتے ہوئے مشاہیر کی مادر علمی، یکم جنوری 1864 کو منصہ شہود پر آئی، جسے گورنمنٹ کالج کے اسم سے نوازا گیا۔ ادارے کے آدرش، قواعد و ضوابط، اور تعلیمی و تنظیمی معاملات، ارتقائی مراحل سے سجل سے گزرتے، مرتب ہوئے۔ ڈیڑھ صدی سے زائد کے دورانیے میں، آزادی اور تقسیم کی لکیروں کے کھینچنے کے اثرات بھی عیاں ہیں۔ ادارے کا بنیادی نصب العین، courage to know عظمت کی بالا

Read more

خاک ہو جائیں بھرے شہر میں عزت والے

چشم تخیل، آلہ انعکاس کے بغیر، خیال کے مسرح پہ وہ نقش بناتی ہے جو طبعی بصارت سے پرے ہو، جہاں بینائی کی رسائی ممکن نہ ہو۔ ایسی ہی تخیلاتی طلسم سے تخلیق کا ظہور ہوتا ہے جسے دیکھ کر ہم ایسے انگشت بہ دنداں ہیں کہ تخلیق کار کی ذہانت کو تحسین کی مالا کیسے پہنائیں؟ خیال کی بنتر سے، قرطاس پہ روشنائی بکھیرتے ہوئے، رجائیت کی ندی میں ڈوبی صدف کی کوکھ سے جوہر کی کشیدکاری سے امید

Read more

عدل کی فضیحت اور زخموں کے کیڑے

ابلاغ کے جدید ذرائع پہ نگاہ دوڑائیں، طبع مغموم ہو جاتی ہے کہ افق پہ چاروں اور یاس کے بادل چھا گئے ہیں۔ اسی دھندلکے میں پژمردہ سانحات، قوم کی اجتماعی محضر میں ایزاد ہو رہے ہیں۔ یہ واقعات اور حادثات، اب اس اقلیم کے امروزہ کا معمول بن گئے ہیں۔ ان پے در پے غمگین حوادث کے وقوع پذیر ہونے سے احساس کی لہر دوڑتی ہے کہ رفتہ رفتہ حساسیت زائل ہوتی جا رہی ہے۔ وطن کی آفرینش سے،

Read more

برا حال ہویا پنجاب دا

آج کبوتر نے میرے شہر سے اڑان بھری اور عزیزی قدیمی کا ایک پتر، میری منڈیر پہ رکھنے کی بجائے، آنگن میں پھینک دیا کہ اس موسم میں خطوط کی ترسیل کا بھی محاسبہ ہونے لگا ہے۔ روایتی کلام کے بعد ، سندیسے میں حکم درج تھا کہ استبداد کو زیب قرطاس کرو۔ سوچ رہا ہوں کہ ساندل بار کی اس مٹی میں ایسا کیا ہے کہ جبر کی رت کے مخالف، گل کی شاخ کی آبیاری کرتی ہے۔ وسطی

Read more