یوٹیوبر اور ہراسانی: متاثرین کیا کریں؟
دنیا اب ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر منتقل ہوتی جا رہی۔ دنیا سے اب پرنٹ میڈیا کا بہت تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ اہل دنیا اب ہر پل نئی خبر دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ اخبار ایک دن پرانی خبر لوگوں تک لاتا ہے لہذا اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ یقینی طور پر یہ تبدیلی پاکستان سمیت دنیا بھر میں کئی افراد کی بے روزگاری کا باعث بن رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ اخبار جب کاتبوں کے ہاتھ سے نکل کر پرنٹنگ مشین اور کمپیوٹر کے پاس گیا تو کئی لوگ بے روزگار ہوئے اور جنہوں نے اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ خود کو بھی تبدیل کیا ان کا روزگار محفوظ رہا۔ دنیا پھر تیزی سے بدل رہی ہے۔ اخبار تو پیچھے رہ ہی گیا ہے لیکن اب الیکٹرانک میڈیا پر بھی زوال آنے ہی والا ہے۔ یہ دور سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے۔ ہر پل نئی خبر اور پل پل کی خبر ہی اب پبلک ڈیمانڈ ہے۔
اس تبدیلی کے پاکستان میں منفی اثرات زیادہ رونما ہو رہے ہیں۔ وہ افراد جو خود کو اپڈیٹ نہیں کر پا رہے ان کے لئے اب اس شعبے میں اپنا روزگار محفوظ رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ہر بات لکھنے اور کہنے کی چھوٹ دے دی ہے۔ یوٹیوبر اور سوشل میڈیا کے نام نہاد جرنلسٹ مائیک اٹھائے کہیں بھی پہنچ کر کسی کی بھی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر کسی کو کچھ بھی لکھ دینے کی کھلی چھوٹ ہے۔ کچھ لوگ جھوٹی شناخت کے ساتھ کسی کے بھی خلاف کوئی بھی پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں کاروباری افراد سوشل میڈیا سے خاصے متاثر رہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر کام کرنے والے یا یوٹیوبر جرنلسٹ نہیں ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب یوٹیوبر اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کو دنیا بھر میں جرنلسٹ کا درجہ مل رہا ہے اور پاکستان میں بھی ملنا چاہیے لیکن اخباروں اور چینلوں کی طرح ان پر بھی نظر رکھنا حکومت کا فرض ہے۔ صحافت کرنے والے افراد کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ آزادی رائے کا حق سب کو ملنا چاہیے لیکن اس آزادی کی آڑ میں کسی کی ذاتی زندگی میں دخل دینا، کسی کو بلیک میل کرنا، کسی پر کیچڑ اچھالنا، کسی کی کردار کشی کرنا ناقابل معافی جرم تصور کیا جانا چاہیے اور ایسا کرنے والوں کو سزا بھی ملنی چاہیے۔
حکومت نے کسی کو سوشل میڈیا یا ای میل کے مدد سے دھمکی دینے، کسی کی کردار کشی کرنے، کسی کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے یا نفرت انگیز مواد کو پھیلانے کو سائبر کرائم کے درجے میں رکھا ہے اور ان جرائم کی سزا بھی موجود ہے۔ سائبر کرائم میں ملوث افراد کو چھ ماہ سے ساتھ سال تک کی قید اور پچاس ہزار سے کئی لاکھ تک کے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ عوام اس متعلق لاعلم ہیں لہذا سائبر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ افراد خاموشی سے اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگر کسی شہری کو انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جائے، اس کے خلاف نفرت پھیلائی جائے، اس کی کردار کشی کی جائے، اسے دھوکا دیا جائے یا اس سے جعلسازی کی جائے تو اسے اس کی شکایت ایف آئی اے میں درج کرانا ہوگی۔ شہری اپنی شکایت ایف آئی اے کے دفاتر میں تحریر طور پر جمع کرانے کے ساتھ ساتھ ای میل سے بھی درج کر سکتے ہیں اس کے علاوہ متاثرہ افراد یہ شکایت ایف آئی اے سائبر کرائم کی ہیلپ لائن پر کال کر کے بھی درج کرا سکتے ہیں۔
نامکمل شکایات پر عمل نہیں کیا جاتا لہذا شکایت درج کرانے والے کے لئے لازم ہے وہ شکایت درج کراتے وقت تمام پہلووں کو مکمل کرے۔ شکایت درج ہونے کے بعد شکایت کی قانونی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ وہ سائبر کرائم کی شق پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اگلے مرحلے میں شکایات اور ثبوتوں کو مستند اور حقیقی ہونے کی تحقیق مکمل کی جاتی ہے اور ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کی صورت میں ملزم کی شناخت اور محل وقوع کی تلاش کے بعد اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ عام طور پر معلومات مکمل نہ ہونے یا شکایت کنندہ کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے شکایت کی فائل کو بند کر کے کیس ختم کیا جاسکتا ہے۔
یاد رکھیں لکھنا، بولنا اور اظہار رائے کرنا سب کا حق ہے اس کی اجازت سب کو ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن کسی کی کردار کسی کرنا یا کسی کی ذاتی زندگی پر حملہ کرنا اس کے اہم دستاویزات یا تصاویر پبلک کرنا کسی کو بلیک میل کرنا یہ جرم ہے اور جرم کی سزا حکومت کی جانب سے موجود ہے۔ لیکن اس سلسلے میں مدعی کا شکایت درج کرانا اور معلومات اور ثبوت فراہم کرنا انتہائی اہم اور قومی فریضہ بھی ہے۔ لہذا سائبر کرائم کا شکار ہونے والے افراد کو اس سلسلے میں کردار ضرور ادا کرنا چاہیے تاکہ انہیں نقصان پہنچانے والے کو بھی سزا مل سکے اور دوسرے افراد بھی اس سے محفوظ رہیں۔


