شکریہ کا کلچر
کوئی ایک ماہ قبل ایک بہت عزیز دوست نے میرے ذمے ایک کام لگایا وہ کام ان کا ذاتی نہیں تھا ان کو کسی دوست نے وہ کام کہا تھا۔ اب ہمارے ہاں دوستوں کے کاموں کو ایک سیریس درجہ دیا جاتا ہے تو انہوں نے میرے ذمہ لگا دیا اور بہت تاکید کی ہے کہ گیلانی میاں یہ کام ہوجانا چاہیے میں نے انہیں یقین دہانی کروائی کے آپ بے غم ہو جائیں خیر کام ہو گیا۔ کوئی ایک ماہ کے بعد مجھے فون آیا کہ گیلانی صاحب آپ کا شکریہ آپ نے کام کر دیا اور مجھے کامل یقین ہے کہ آپ نے کام کر دیا ہو گا کیونکہ مجھے دوبارہ اس دوست کا فون نہیں آیا اگر کام نا ہوا ہوتا تو بہت فون آتے نا آنے کا مطلب یہی ہے کہ کام ہو گیا ہو گا لہذا آپ کا شکریہ۔
قارئین اس کو محسوس کیجئے یہ عام سی بات نہیں ہے ویسے اصولی طور پر تو کام ہو جانے پر شکریہ کا فون آجانا چاہیے تھا لیکن ایسا نا ہوا ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے کیا ہم کام ہو جانے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں؟ کرتے ہیں تو خود کو تھپکی دیجئے آپ ایک شاندار انسان ہیں اور اگر نہیں دیتے تو آپ بہت برے نہیں البتہ آپ کو بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ جب آپ کسی شخص کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو اسے اچھا محسوس ہوتا ہے۔
اب میں آپ کو ایک شاندار واقعہ سناتا ہوں جو ملتا جلتا ہے جس سے میں نے بہت سیکھا ہے۔ میری خوش قسمتی رہی ہے کہ میرا معروف اور بڑے لوگوں سے ہمیشہ رابطہ رہا ہے اور کافی حد تک مجھے ان سے عزت ملتی رہی ہے مجھے ایک معروف اداکار سے ایک ویڈیو درکار تھی وہ میرے استاد بھی تھے میں نے ان کو فون کیا انہوں نے کہا پتر کر لیں گے مسئلہ ہی کوئی نہیں اب جس دن میں نے ویڈیو لینی تھی اس روز انہیں فون کیا تو انہوں نے مجھے کہا بیٹا بعد میں بات کرتا ہوں (غالباً وہ کسی ریکارڈنگ میں تھے ) کچھ وقت کے بعد میں نے پھر فون کھڑکا دیا نا اٹھائے جانے پر بار بار کیا تو انہوں نے فون اٹھایا اور کہا کبھی ویسے بھی فون کیا ہے؟ آج کام ہے تو فون پر فون خیر تم آ جاو مجھے اس بات نے ورطہ حیرت میں ڈال دیا وہاں پہنچا استاد مکرم سے معذرت کی اور شکریہ ادا کیا کہ سر اس شفقت بھری ڈانٹ نے مجھے زندگی گزارنے کا ایک بھرپور کلیا سکھایا ہے۔
اس روز سے لوگوں کو کام کے علاوہ بھی سلامتیاں اور دعائیں بھیجنا شروع کیں حال احوال پوچھنا شروع کیا یقین جانیے بہت آسانیاں پیدا ہوئیں کام بھی ہونے لگ گئے ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کیا ہم روز مرہ کی زندگی میں ضرورت کے مطابق شکریہ ادا کرتے نظر آتے ہیں ٰخیر میں یہ خود سے ضرور پوچھتا رہتا ہوں پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈلوانے کے کے بعد لازمی شکریہ ادا کرتا ہوں، کھانا کھا کر ویٹر کا شکریہ ضرور ادا کرتا ہوں، کوئی اپنے سے پہلے مجھے گزرنے دے تو شکریہ ادا کرتا ہوں، دروازے پر بیٹھا گارڈ دروازہ کھول دے یا سلام کر دے تو شکریہ ضرور ادا کرتا ہوں مختصر یہ کہ ہر ملنے والی چھوٹی سی آسانی پر جس سے وہ آسانی ملے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کی مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ آپ کبھی مغربی لوگوں سے ملے ہوں تو آپ کو اندازہ ہو گا وہ کس قدر شکریہ ادا کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے لمحوں پر وہ شکریے پر مبنی جملے ادا کرتے نظر آئیں گے اور آپ کو ایک خوشگوار احساس ہو گا۔



bt khob shah ji, ye aik zindagi ka aik chubhta pehlo hy jis ki taraf ap ny nishandahi ki… ye shukriya ka culture waqai dhund ka shikar ho rha hy