ہیر کے قتل کی ایف آئی آر
البرٹ کامس کے بہ قول: فکشن وہ جھوٹ ہوتا ہے جس کے سہارے سچ بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ سچ بیان کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا ہی کیوں لیا جاتا ہے؟ اس کا جواب بہت سی جہات سے دیا جا سکتا ہے مگر ازمنہ حال میں قدیم نوآبادیات یا جدید نوآبادیات کے دائرے میں آنے والے معاشروں میں سچ کہنا قریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس عمل کو صرف فکشن اور خاص طور پر ناول میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے جب ادب کے عمرانی پہلو میں ذہنی ارتقا کے مراحل میں شریعت کے بعد شاعری کو اہمیت دی گئی تھی تو اس کے بعد شاعری پر ناول کو یہ کہہ کر فوقیت دی گئی تھی کہ شاعری شریعت کا بدل تھی تو ناول شاعری کا نعم البدل ہے۔
یہ موضوعی بحث ہمارے عہد کے ناولوں پہ صادق آتی نظر آنے لگی ہے۔ میرے سامنے رفعت عباس کا دوسرا ناول ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ہر انسان کے اندر ایک ناول ہوتا ہے، مگر ناول نگار وہ ہوتا ہے جو دوسرا ناول لکھتا ہے۔ یہ ناول ”نیلیاں سلھاں پچھوں“ رفعت عباس کا دوسرا ناول اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر کتھا کرنے کی صلاحیت شاعری سے بڑھ کر ناول میں برآمد ہوئی ہے، اور یوں ناول شاعری کا نعم البدل بن کر سامنے آتا ہے۔
ہمیں یہ ادراک ہو چکا ہے کہ حملہ آور کسی قوم کی تاریخ پہ حملہ کرتے وقت، سب سے پہلے اس قوم کے حافظے پہ ایک خاص مقام پہ روک لگاتا ہے۔ اس کے لیے اسے سب سے پہلے قوم کی زبان میں موجود خاص آوازوں پر روک لگانی پڑتی ہے۔ جیسے ہی وہ مخصوص آوازیں اس قوم کے اولاً گویائی اور ثانیاً سماعت سے نکلتی ہیں تو ان کی زندگی سے ان کے اجداد کی کتھا نکل جاتی ہے۔ اس عمل کو ترکی میں ”د“ اور ”خ“ کو نکال کر اس کی جگہ ”ت“ اور ”ح“ لانے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ”نیلیاں سلھاں پچھوں“ میں رفعت عباس نے بتایا کہ ملتان پہ جبر کے آثار نسلوں میں کس طرح منتقل ہوتے رہے۔ کس طرح ایک عہد کا المیہ دوسرے عہد میں طربیہ کی شکل اختیار کر گیا۔ یعنی ”ڑ“ کی آواز پہ جب حملہ آور قابو نہ پا سکا تو اس نے تمام لوکائی سے اس آواز کو اس طرح چھینا کہ لوکائی اپنی ہی زبان سے عدم شناسائی کا شکار ہونے لگی اور یہی ذہنی حالت تھی جس نے ان بھلے مانسوں کو بچوں کی ہکلاہٹ میں کپڑے کو کپرے، چڑیا کو چریا اور گھڑے کو گھرے کہتا سنا تو وہ اس سے محظوظ ہوئے۔
اس کی وجہ وہ جبر ہے جو دروغ مسلسل سے پھیلایا گیا تھا۔ جس جگہ اس شہر کے مظلوموں کی بے کفن لاشوں کو اجتماعی قبر میں اتارا گیا تو سو سال کے بعد جب اس تدفین کا آخری گواہ بھی نہ بچا تو وہ ”ملتان“ کی قبر نوگزے پیر کی قبر بن گئی اور اس پہ قاتل کا پڑپوتا سجادہ نشین بن بیٹھا۔ یہ سجادگی اس قاتل کے ساتھ آئے ہوئے حاکم، سوداگر اور خدا کی وجہ سے تھی۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ قاتل صرف اس شہر کی زمینوں اور عورتوں کی کوکھوں میں ہی بیجائی نہیں کر رہے تھے بل کہ یہ عمل ذہنوں پر بھی جاری تھا۔
یہ عمل جب ذہنوں پہ کارگر ہو کر بلوغت تک پہنچا تو اس کا پہلا پھل جو اثریاب ہوا؛ وہ جیون کتھا میں اس اثر کو لانے کا نام تھا جس میں مظلوم ہر دکھ کا مداوا صبر سے اور اس کا حافظہ فراموشی سے کرتا ہے۔ نوآبادیاتی فرد حملہ آور کو ہی اپنا سورما مان لیتا ہے اور پھر اس کے پاس اپنے قصے میں کسی ہونے والے قتل کو یاد رکھنے سے زیادہ پریشانی آئندہ ہونے والے قتل سے بچنے کی ہوتی ہے۔ اسی لیے اس شہر میں کسی موت پر پرچانے کے لیے آئے لوگ اسے ”آمد خیر“ کی دعا اسی خدشے کے تحت دیتے ہیں۔
یہ قصہ چلتا ہے مگر اسی شرط پر کہ قصے کا پلاٹ وقت کے بہاؤ میں صرف آگے بڑھنے کا نام ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا اتنا بڑا پاپ ہے کہ ”وہیں پتھر کے ہو جاؤ گے“ کی سزا پہلے ہی سنا دی جاتی ہے۔ اس منتر کا توڑ رفعت عباس آپ کو بتائیں گے کہ ”پچھاں قتل تھیا لاتھا ہا۔“ اس سے پہلے قصے کی شرط کسی قتل کو بھلانے کی خاطر دوسری موت سے گزرنے کی تھی، اور پے در پے اموات میں واقعاتی سنگینی کے احساس کی گم شدگی بھی۔ قصہ میں پیچھے جانے کی اجازت نہیں تھی مگر رفعت عباس نے یہ اہر کیا ہے۔
وہ ماضی میں جانے، اسے برآمد کرنے، اسے سلجھانے اور نئے عمرانی معاہدے کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس عمل میں انھوں نے ماضی کتھا میں ہیر کے قتل کو دیکھا بھی ہے اور اس کی رمزوں کو سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ ناول اس لحاظ سے کتھا نہیں بل کہ ایک پٹیشن ہے جسے قاری نے دست خط کر کے اس قتل سے اپنی بریت کا اظہار بھی کرنا ہے اور اس قتل کی ایف آئی آر درج کرانے میں شریک ہونا ہے۔


