ایبٹ آباد کی چنار روڈ کی کچھ حسین یادیں


بہت عرصے بعد ایبٹ آباد کے تاریخی روڈ یعنی چنار روڈ پر فجر کی نماز کے فوراً بعد چہل قدمی کا موقع ملا تو یکایک اس سے جڑی دس پندرہ سالوں کی یادیں ایک دلفریب فلم کی طرح دل و دماغ کے پردے پر رقص کرنے لگیں۔ ایبٹ آباد میں ہر موسم کو دلفریب منظر دینے والا شاید یہ واحد روڈ ہو گا جو گرمیوں میں ٹھنڈی چھاؤں کا، سردی میں چنار کے خشک پتوں کو آگ سینکنے کے لئے صبح سورج نکلنے سے پہلے استعمال کا اور خزاں میں سوکھے پتوں پر چل کر ان کی دلکش آواز کو محسوس کرنے کا ایک ایسا منفرد مزہ دیتا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک بزرگ اکثر اس روڈ کی خوبصورتی کے حوالے سے کہتے تھے کہ اب تو ایک ہی ارمان ہے کہ ایک کھٹ (چارپائی) رسیوں سے دونوں اطراف سے چنار کے درختوں سے لٹکی ہو اور گھنٹوں اس میں لیٹ کر اس کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے روح کو ترو تازہ اور دل کو کوئے اطمینان میں لے جایا جائے۔

میں اس چنار روڈ کی مسحور کن فضاوٴں کا ابتدائے تعلیم سے ہی اسیر ہوں۔ ایک وقت تھا کہ چنار روڈ کے عین درمیان ایک میدان تھا جہاں ہم کرکٹ کھیلتے تھے۔ اس میدان کے سامنے سرے (چشمے ) والی مشہور مسجد ہے جہاں کھیل کے دوران بار بار چشمے کا صاف پانی پینا روزانہ کا معمول تھا جبکہ اس روڈ کی نڑیاں والی طرف ایک اور وسیع میدان تھا جسے منجھ گراؤنڈ (بھینس والا میدان) کہتے تھے مہینے کی ہر آخری تاریخ پر قدرے جلدی چھٹی ہوتی تھی اس لئے اپنے سکول کے دوستوں سے وہاں کرکٹ میچ کھیلنے کا اپنا ایک سرور ہوتا تھا لیکن افسوس اب وہ دونوں میدان ختم ہو گئے ہیں۔

اگر گردونواح کی بات کی جائے تو چنار روڈ کی ایک طرف پر مقامی آبادی تو دوسری طرف پر آرمی گالف کورس ہے۔ ایک وقت تھا کہ گالف کورس کی دیوار نہیں تھی اس لئے چنار روڈ کی اصل خوبصورتی اس پر کھڑے ہو کر چنار کے تناور درختوں کے پس منظر میں گالف کورس کے وسیع سبزہ زار کو دیکھنے سے آشکار ہوتا تھی۔ یہ گالف گراؤنڈ کے ساتھ ایک دلکش نظارہ دیتا تھا جس سے دیکھنے والے کے لیے مزا دوبالا ہو جاتا تھا۔ اب اس سبزہ زار گالف کورس کو اینٹوں کی دیوار سے علیحدہ کر کے گزرنے والوں کی نظروں سے مخفی کر دیا ہے۔ ورنہ اس وقت ہمارے لئے شام کے بعد کانٹے دار رکاوٹ کو عبور کرنا اور اندھیرا چھانے تک گالف گراؤنڈ میں اچھل کود کرنا ایک جنون سے کم نہ تھا کیونکہ شام کے بعد فوجی گارڈز کا پہرہ ختم ہو جاتا تھا۔

یہ شاید ایبٹ آباد کی واحد سڑک ہے جہاں پر تانگہ سواری سے لطف اندوزی کی سہولت موجود تھی۔ تانگے کا سفر سربن چوک سے شروع ہو کر چنار روڈ سے ہوتے ہوئے نڑیاں (دھوبی گھاٹ) پر اختتام پذیر ہو تا تھا۔ چونکہ زیادہ عرصہ گزرنے کے باعث کوچوانوں سے گپ شپ تھی سو تانگے کی باگیں لے کر خود کوچوان بن جاتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اپنے بچوں کو خاص تانگہ سواری کی غرض سے چنار روڈ پر لے گیا تھا سکول کالج کے دوران سالم تانگہ کر کے اپنی شخصیت میں شاہانہ طبیعت کو اجاگر کیا جاتا تھا اور تانگہ کی موجودگی میں سوزوکی میں سفر کرنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اب اس روڈ کی یہ خصوصیت بھی تقریباً ختم ہونے کے قریب قریب ہے۔

چنار روڈ پر تقریباً تمام درختوں پر مینا کے گھونسلے ہوتے تھے۔ مینا اکثر اپنے گھونسلے چنار کے تنے اور شاخوں کے درمیان خاص قسم کے سوراخ میں بناتے تھے۔ مینا کے بچوں کو گھونسلوں سے نکالنا اور پھر پالنا ہمارا ایک منفرد مشغلہ تھا جس کے لئے گھر کی ڈانٹ کو سنی ان سنی کر دیتے تھے۔ گھونسلے میں مینا کے بچوں کی موجودگی کی صورت میں اس خاص درخت کو یاد رکھنا اور دوستوں سے یہ بات چھپا کر رکھنا بھی ایک کمال سمجھا جاتا تھا۔ کئی مرتبہ کم عمر بچے جو خوراک کی تگ و دو میں گھونسلے سے نیچے گر جاتے تھے انہیں دوبارہ گھونسلے میں واپس رکھنے کو بھی ایک مشن سمجھا جاتا تھا اور اپنے اندر خدا ترسی کی کیفیت کو محسوس کیا جاتا تھا۔

چنار روڈ اور میری سائیکل چلانے کا شوق شاید ایک دوسرے کے لئے بنے تھے۔ میں اپنی پہلی سہراب سائیکل کو روزانہ اسی روڈ پر دوڑایا کرتا تھا۔ سائیکل سے یاد آیا کہ چنار روڈ کی دھوبی گھاٹ والی طرف سائیکلوں کی ایک دکان تھی، جو ایک روپیہ فی گھنٹہ کرائے پر سائیکل دیتے تھے۔ اور ہم نے کرائے کی سائیکل پر ہی سائیکل چلانا سیکھی تھی۔ اپنی ذاتی سائیکل خریدنے کے بعد سائیکل کی مرمت کا سارا کام اسی دکان سے کرواتے تھے۔ چنار روڈ پر سائیکل کی تیلیوں میں موتی ڈال کر اور سائیکل قدرے آہستہ چلا کر ٹائروں کی چھن چھن کی آواز سے روڈ پر موسیقی کا مزہ لینا شاید آج کل کی لگژری گاڑی میں سفر کرنے زیادہ تھا۔ اور چنار روڈ پر سائیکل چلانے کی غرض سے گھر کے تمام کام جن میں خصوصاً جھگیاں بازار سے سودا سلف لانا شامل تھے ان تمام کاموں کو ہنسی خوشی قبول کرنا اور پھر اسے نمٹانا صرف سائیکل چلانے کے شوق کے بعوض ممکن تھا۔

اس روڈ سے جڑی یادیں اگرچہ لکھنے سے ختم نہیں ہوں گی پر ایک سوچ مجھے اس روڈ کی خصوصیات سے مسلسل روشناس کراتی ہیں۔ اس روڈ کی خوبصورتی اور کمال یہاں کے لوگوں کے رہن سہن اور شخصیت سازی میں اپنا ایک منفرد اثر رکھتا تھا جس طرح ایک درخت کی شاخیں دوسرے درخت کی شاخوں سے جڑی ہوتی ہیں اور ایک چھتری کی مانند سایہ مہیا کرتی ہیں اسی طرح اس وقت یہاں کے لوگ بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے اور غمی خوشی میں شریک نظر آتے تھے۔

محلے کے ایک ٹیلی فون نمبر پر تمام محلے کے تمام گھروں کی کالز آتی تھیں۔ گھر میں کار پارکنگ نہ ہونا کوئی مسئلہ نہ تھا کیونکہ پڑوسی کے گھر اور پارکنگ کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں تھی اور صرف اس چنار روڈ کے درختوں میں آپ کو سکون محسوس نہیں ہوتا تھا بلکہ اس روڈ کے اردگرد تمام گھر اور اس میں بسنے والے لوگ آپ کو سکون کا احساس دلاتے تھے یہی وجہ ہے کہ یہاں کچھ خاندانوں کے ساتھ اب بھی قریبی رشتہ داری والا تعلق ہے اور میں ان تمام کیفیات اور احساسات کو چنار کے درختوں کے مابین ربط اور جڑے رہنے سے تشبیہ دیتا ہوں۔

اللہ اس روڈ کی خوبصورتی اور دلکشی کو برقرار رکھے کیونکہ یہ محض ایک روڈ یا چند درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں اس چنار روڈ کی ایک تاریخی اور جذباتی حیثیت ہے۔

Facebook Comments HS