پاکستان کی احمدی برادری الیکشن سے لاتعلق کیوں؟


ملک میں انتخابات 8 فروری کو ہونے جا رہے ہیں، تاریخ کے اعلان کے بعد تمام سیاسی حلقے متحرک ہیں اور عام انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اقلیتی برادری بھی اپنے حقوق اور نمائندگی کے لیے سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن احمدی برادری نے 1977 کے بعد حق رائے دہی استعمال نہیں کیا، احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ کو احمدی برادری بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

احمدی برادری کے ترجمان عامر محمود کا کہنا ہے کہ ووٹ کا حق شہریت کی بنیاد پر ہے۔ جو بھی پاکستان کا شہری ہے اسے پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان میں 1970 میں ہونے والے پہلے عام انتخابات مشترکہ بنیادوں پر تھے یعنی مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں تھی۔ پھر 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قراردیا گیا اس بعد 1977 میں جو انتخاب ہوئے وہ چونکہ مخلوط طرز پر تھے اس لئے احمدیوں نے اس میں بھی ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔

تاہم اس کے بعد 85، 88، 90، 93 اور 98 میں جو انتخابات ہوئے وہ جداگانہ انتخابات تھے جن میں احمدیوں کو غیر مسلم ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا۔ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں سمجھتے اس بنا پر جماعت احمدیہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ لیکن جب 2002 میں مشرف دور میں مخلوط طرز انتخاب کے نظام کو بحال کیا گیا۔ اس میں مسلم، سکھ، ہندو، مسیحی برادری سمیت سب پاکستانیوں کو ایک ہی ووٹر لسٹ میں ڈالا گیا جو مثبت قدم تھا۔

عامر محمود نے کہا کہ مذہبی حلقوں کی جانب سے دباؤ آنے کے بعد پرویز مشرف صاحب نے احمدیوں کے لئے الگ ووٹر لسٹیں بنانے کا حکم جاری کیا۔ یعنی تمام پاکستانیوں کی ایک لسٹ مگر صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ تھی اور اس ووٹر لسٹ کے اوپر لکھا گیا قادیانی مرد یا قادیانی خواتین جو مذہب کی بنیاد پر کی گئی واضح تفریق تھی۔ اس وجہ سے احمدیوں نے انتخابات سے لاتعلقی کا فیصلہ کیا اس کے بعد سے جو انتخابات ہو رہے ہیں وہی صورتحال برقرار ہے۔ عامر محمود کے مطابق پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی قرار دیتا ہے تو پاکستانی احمدیوں کو بھی اسی لسٹ میں ہونا چاہیے جس میں دیگر پاکستانی شامل ہیں تاکہ احمدی بھی انتخابات میں ووٹ کا حق مساوات کے ساتھ استعمال کر سکیں۔

احمدی برادری کے ترجمان عامر محمود نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل پچیس کہتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب شہری برابر ہیں لیکن یہ کیسی برابری ہے جس میں احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ ہے۔ الگ ووٹر لسٹ نے احمدیوں کے لیے مسائل اور خطرات کو بہت بڑھا دیا ہے کیونکہ یہ قانونی تقاضا ہے کہ کسی بھی حلقہ انتخاب کی جو ووٹر لسٹ ہے وہ متعلقہ الیکشن کمیشن کے آفس میں آویزاں کی جاتی ہے تاکہ حلقے کے ووٹرز جان سکیں کہ کوئی ایسا فرد تو نہیں شامل جس کا ووٹ اس حلقے میں شامل نہ ہو۔

لیکن احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ میں نام، ولدیت سمیت گھر کا پتہ موجود ہو گا تو شرپسند عناصر جو احمدیوں کو واجب القتل سمجھتے ہیں اور عوام کو احمدیوں کے خلاف اشتعال دلاتے ہیں وہ احمدیوں کو ہدف بنا کر نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کا مشاہدہ حال ہی میں عید قربان پر ہوا۔

پنجاب میں احمدیوں کے خلاف قربانی کرنے پر مقدمات درج کیے گئے ہیں، پولیس نے جانوروں کو تحویل میں لے لیا انتہا پسند جتھوں نے احمدیوں کے گھروں کا محاصرہ بھی کیا۔ جس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ انہوں نے احمدیوں کے گھروں کی شناخت، ان کے لئے الگ ووٹر لسٹوں سے کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں ایک ووٹر لسٹ بنائی جائے جس میں کوئی تفریق نہیں ہو

کراچی سے تعلق رکھنے والے احمدی برادری کے 53 سالہ محسن (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ سیاسی عمل کا حصہ بنوں اور بطور ایک احمدی سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ تاہم بدقسمتی سے ہمارے حقوق ہر لحاظ سے پامال کیے گئے ہیں، زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے جبکہ ہمیں کوئی مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ہمیں برابری کی سطح پر ووٹ کا حق ملے تو ہم یقیناً یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ ہمیں کس کو ووٹ دینا ہے

خرم (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ پاکستان کے انتخابی عمل میں اس وقت دو ووٹر لسٹیں ہیں ایک ووٹر لسٹ میں مسلمان سکھ مسیحی ہندو غرض یہ کہ ہر مذہب کے ماننے والے شامل ہیں جبکہ صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ ہے۔ یہ واضح طور پر مذہب کے نام پر تفریق کی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی ووٹر لسٹ ہو اور ہم اس ووٹر لسٹ کا حصہ ہوں کیونکہ ہم مساوات اور برابری کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد بار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احمدیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات سے آگاہ کیا ہے، کراچی میں احمدیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا جاتا رہا، احمدی عبادت گاہوں پر مسلسل حملے ہوئے اور یہ سب کچھ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔ جس کے باعث احمدیوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہے

محسن (فرضی نام) کے مطابق پاکستان میں اکثر سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت کے لیے احمدیوں کے خلاف نفرت کا کارڈ استعمال کرتی ہیں شاید ان کو یہ لگتا ہے کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلا کر وہ مقبولیت حاصل کر لیں گی۔ تاہم انہیں اندازہ نہیں ہے کہ نفرت سے ہمارے سماج کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن اس ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔

احمدی برادری سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ سارہ (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ زیادہ تر قادیانی اپنی شناخت سے خوفزدہ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم ہو کیونکہ انہیں خطرات لاحق ہیں۔ سارہ (فرضی نام) کے مطابق احمدی برادری دراصل آپس میں جڑے ہوئے ہیں اس لئے مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک ہمارے ساتھ مذہب کے بنا پر تفریق کا سلسلہ جاری رہے گا ہم اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔ تجزیہ نگار اور قانونی ماہر لالا حسن کا کہنا ہے کہ احمدی خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور مسلم امیدواروں کو ختم نبوت کا فارم جمع کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے جس کے باعث وہ ووٹ بھی نہیں ڈالتے۔ لالا حسن کے مطابق احمدی جب اپنا قومی شناختی کارڈ بنواتے ہیں تو خود بخود ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن خطرات کی وجہ سے وہ ووٹ ڈالنے اور الیکشن لڑنے سے گریز کرتے ہیں۔

لالا حسن کا کہنا تھا کہ مذہب کو ریاست سے الگ ہونا چاہیے کیونکہ ریاست سب شہریوں کے لیے ہوتی ہے کہ جبکہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ لالا حسن کا کہنا ہے کہ حکومت تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے، ایک ووٹر لسٹ تیار کرے، ووٹر لسٹ میں مذہب یا فرقے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں مذہب ایک حساس معاملہ ہے، اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

حال ہی میں احمدیوں کی متعدد عبادت گاہوں کو بھی مسمار کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں رہنے احمدی خود کو مزید غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں مسلمانوں سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہندو، سکھ، عیسائی اور پارسیوں کی ووٹر لسٹ ایک ہے لیکن خطرات کے باوجود احمدیوں کو مشترکہ انتخابی فہرستوں میں کیوں نہیں شامل کیا جاتا یہ سوال اب بھی باقی ہے؟

نوٹ : اس اسٹوری کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آن دی ریکارڈ بیان دینے سے معذرت کرلی جبکہ کسی بھی سیاسی شخصیت نے اس حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

(عرض مدیر: الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آن دی ریکارڈ بیان دینے سے معذرت قابل فہم ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ان پر ملک کو بدنام کرنے کا الزام لگایا جائے گا۔ جن سیاسی شخصیات نے سوالات کا جواب نہیں دیا، وہ سیاست دان تو کجا سیاسی کارکن بھی نہیں، محض ووٹوں کے بیوپاری ہیں۔ بیٹی موجودہ ماحول میں پاکستان کے احمدی شہریوں کے لئے مدلل آواز اٹھانا آپ کو سچا پاکستانی شہری ثابت کرتا ہے۔ قائد اعظم کے پاکستان کو آپ جیسی بیٹیاں ہی بازیاب کر سکیں گی۔ سلامت رہیے اور ہر مظلوم طبقے کے لئے آواز اٹھائیے- و-مسعود)

Facebook Comments HS