آسان بائیکاٹ


فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کوئی عام زمینی جنگ کی مانند نہیں بلکہ یہ بنیادی طور پر مذہبی پہلو رکھتی ہے۔ مسلمان اور یہودی ہی نہیں عیسائی بھی اس زمین کو بہت مقدس مانتے ہیں مگر وہ ابھی جاری جنگ میں اتنے متحرک نظر نہیں آتے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ اجتماعی طور پر کسی ایک طرف جھکاؤ نہیں رکھتے۔ ایک گروہ یہودیوں کے ساتھ ہے تو ایک مسلمانوں کی حمایت میں بولتا ہے اور ایک گروہ ایسا بھی ہے جو نہ اس پار نہ اس پار۔

خیر یہ تو تین ابراہیمی مذاہب کی بات ہوئی مگر ہندوستان جو ہندو اکثریت کا ملک ہے وہ بھی بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن کر اسرائیل کے مظالم کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جو کہ ماضی میں فلسطین کا ہمدرد بنتا تھا۔ خیر اس کی بھی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ ہندوستان کے آج کل امریکا سے تعلقات بہت پروان چڑھ رہے ہیں اور امریکا اسرائیل کا حامی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہندوستان میں جو حکومت ابھی موجود ہے وہ اسلام دشمنی کی تاریخ رکھتی ہے اور کچھ عرصہ قبل ہی کشمیر پر بری طرح جابرانہ پنجے گاڑ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر چکی ہے۔ تو یہاں بھی اپنی اسلام دشمن ذہنیت کے پیش نظر اسرائیل کے مظالم کو حق بجانب گردانتی پھرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

اب بات ہو جائے مسلم ممالک کی کہ وہ اس صورت حال میں کیا کر رہے ہیں تو جناب جو ممالک اس جنگ کے لپیٹے میں آئے وہ ممالک جنگ کر رہے ہیں جیسے فلسطین اور لبنان وغیرہ، جب کہ طاقت اور وحشت میں اسرائیل کے کوئی مقابل نہیں۔ اور جو ممالک کچھ دور ہیں وہ محض دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں جیسے ایران اور ترکی وغیرہ، کچھ امداد کرتے نظر آتے ہیں جیسے عرب ممالک اور کچھ اپیل کرتے جیسے ہمارا وطن پاکستان۔ ہمارا ملک معاشی قرض اور عالمی دباؤ کے ہوتے اسے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہے۔

پر کیا ہم واقعی کچھ نہیں کر سکتے؟ تو اس کے جواب میں اسرائیل اور یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ سے بہتر کچھ نظر نہیں آتا جو کہ ایک عام شہری بھی کر سکتا ہے اور اس کے ذریعے ہم ان کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہ اگر بڑی عوامی سطح پر ہو جائے تو اس سے اسرائیل کو بڑا معاشی دھچکا لگ سکتا ہے۔ مگر کیا ہم یہ بائیکاٹ کرنا بھی چاہتے ہیں؟ آج کل بائیکاٹ کا کافی چرچا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

خاص کر میکڈونلڈ کی اسرائیلی فوج کو خوراک فراہمی کے عمل کے بعد سے عوام کی ایک بڑی تعداد نے وہاں کا رکھ کرنا چھوڑ دیا جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔ مگر صرف ایک میکڈونلڈ ہی نہیں اسرائیلی اور یہودی مصنوعات ہمارے بازاروں میں بھری پڑی ہیں جن کا بائیکاٹ بھی ضروری ہے۔ یہاں ہماری عوام آسان راہ اختیار کرتی ہے یعنی آسان بائیکاٹ، جس چیز کا آسانی سے متبادل مل جائے لے لو ورنہ جو لیتے تھے وہی لیتے رہو۔ اب کون ڈھونڈنے جائے اور کون مشقت اٹھائے؟ پیپسی اور کوکا کولا کے بغیر کھانا کیسے ہضم کیا جائے؟

ہمارے یہاں کے دکاندار بھی یہودی مصنوعات کی خرید و فروخت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے کیوں کہ ایسا کریں گے اور ان مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں گے تو کاروبار میں فرق آئے گا نہ۔ جب کہ قولی حد تک اسرائیل کے پوری طرح خلاف ہیں پر کیا کریں دھندا ہے۔ یہاں میں امام احمد بن حنبل کا قول ذکر کرنا چاہوں گا کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جو دشمن سے کوئی چیز خریدتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے خرید و فروخت نہ کی جائے جو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کو مضبوط اور طاقتور بنائے۔

اگر ہم اپنے حالات پر نظر ڈالیں تو ہم اپنے معاملات میں اس بات کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟ اور کتنے ظالم کے مددگار بنتے ہیں؟ اس تحریر کا اصل مقصد کسی ملک کی معاشی تباہی نہیں بلکہ اس ظلم کو روکنے میں جس حد تک ممکن ہو اپنا حصہ ڈالنا ہے جو اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر ڈھا رہا ہے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم آسان بائیکاٹ کر کے مطمئن ہو جائے اور ہماری دی ہوئی رقم کسی بے گناہ کی جان لینے میں شامل ہو جائے۔

Facebook Comments HS