بوسنیا کی چشم دید کہانی-52


ہاسٹل کا بڑا گیٹ بند تھا۔ میں کیفے بار سے متصل استقبالیہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اب یہاں کا منظر کچھ اور ہی رنگ لیے ہوئے تھا۔ کیفے بار لڑکے لڑکیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کاؤنٹر کے سامنے لڑکے لڑکیاں کندھے سے کندھا ملائے کچھ اس طرح بیٹھے تھے کہ ٹانڈا لڑکی کو دیکھنے کے لیے کہیں کہیں رہ جانے والے دریچے میں سے جھانکنا پڑا۔ میں بڑی مشکل سے اس کی توجہ حاصل کرنے میں کام یاب ہوا۔ اس نے کاؤنٹر کے پیچھے رکھا ہوا میرا بیگ اٹھایا اور ساتھ ہی ایک چابی میرے حوالے کرتے ہوئے آواز بلند کی

کمرہ نمبر 7 بستر نمبر 4

میں بیگ اور چابی سنبھال کر پچھلے دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا، جس کے ارد گرد ایک پرانی طرز کی دو منزلہ عمارت تھی جس میں بمشکل کوئی دس بارہ کمرے ہوں گے۔ کیفے بار کی طرح صحن میں بھی تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ کچھ کھانے میں مصروف تھے اور کچھ پینے میں۔ میں بچتا بچاتا نشستوں کے بیچ سے جگہ بناتا ہوا کمرے تک پہنچا۔ کمرے میں تین عدد دو منزلہ بستر لگے ہوئے تھے۔ تمام بستر پُر تھے ماسوائے چار نمبر کے جو دوسری منزل کے بستروں میں سے ایک تھا۔

کمرے اور بستروں کی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ تھی۔ میں شام ڈھلتے ہی کچھ ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس کر رہا تھا۔ جلدی سے کپڑے بدلے اور بستر پر دراز ہو گیا۔ لیکن باہر صحن میں جو ہلہ گلہ بپا تھا اس کی وجہ سے نیند کافی دیر سے آئی۔ صبح اٹھا تو طبیعت کا بوجھل پن ابھی تک برقرار تھا۔ ہاسٹل کے کیفے بار میں سوائے پینے کی چیزوں کے اور کچھ دستیاب نہ تھا۔ خوش قسمتی سے اس میں چائے بھی شامل تھی۔ میں نے قریبی سٹور سے بسکٹ کا ایک ڈبہ خریدا اور چائے کے ساتھ نوش جاں کیا۔ ناشتے کے دوران میں نے ان مقامات کی نشان دہی کی جنہیں آج دیکھنا تھا۔ ایفل ٹاور۔ ان ویلیڈیز، شانزا لیزے۔

ایفل ٹاور جو آج نشان پیرس کے طور پر جانا جاتا ہے، 1889 ء میں یہاں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی نمائش کی کشش بڑھانے کے لیے تعمیر کیا گیا۔ کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ عارضی طور پر تعمیر کیا جانے والا یہ ٹاور ہمیشہ کے لیے اس شہر کی پہچان بن جائے گا۔ موپساں کے الفاظ میں یہ ”کھوکھلی موم بتی“ دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے۔

اس کی اونچائی سے دریائے سین کے کناروں سے باہر بہت دور تک پھیلے ہوئے پیرس کا نظارہ کرنے کے لیے سیاح لمبی لمبی قطاروں میں ٹکٹ گھر کی طرف رینگ رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بلندی سے نظر آنے والا پیرس مجھے ویسا دلکش نہ دکھائی دیا جیسا میں نے اسے اس کی کوچہ گردی کر کے پایا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی

ع۔ کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

Invalides (معذور خانہ) ان فوجیوں کی دیکھ بھال کے طور پر تعمیر کی جانے والی ایک عمارت ہے، جو جنگ میں معذور ہو جاتے تھے۔ یہ 1671 ء میں مکمل ہوئی۔ اس کے ایک ہال میں مفتوحہ ریاستوں کے پرچم سجا کر جشن فتح منایا جاتا تھا۔ 1874 ء تک یہاں 1417 پرچم جمع ہو چکے تھے۔ بچے کھچے پرچموں سے یہ ہال آج بھی آراستہ ہے اور اہل نظر یہاں تیسری دنیا کے ممالک کے وہ پرچم بھی دیکھتے ہیں جو بظاہر یہاں نظر نہیں آتے۔

Invalides

کے احاطے ہی میں ایک بڑے سنہری گنبد کے نیچے چوکور عمارت میں فرانس کا وہ سپوت ابدی نیند سو رہا ہے جس کے ذکر کے بغیر یورپ کی رزمیہ تاریخ نقش نا تمام ہے۔

نپولین نے 5 مئی 1821 ء کو سینٹ ہیلنا کے جزیرے میں وفات پائی جہاں وہ 1815 ء سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسے وادی گیرانیو میں ایک چشمے کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ اس کی آخری خواہش تھی کہ اسے دریائے سین کے کنارے دفن کیا جائے۔ وہ 1840 ء تک اس جزیرے میں دفن رہا۔ یہاں تک کہ اس کے جسد خاکی کو Prince Joinville کے حکم پر وہاں سے 15 ستمبر 1840 ء کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ یہاں منتقل کیا گیا۔ وکٹر ہیوگو نے اپنی یادداشتوں میں اس تقریب کی منظر کشی کچھ یوں کی ہے۔

”اچانک تین سمتوں سے توپوں کی گرج فضا میں کچھ اس طرح بلند ہوئی کہ کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔ بینڈ کی دھن پر مارچ کرتا ہوا دستہ تابوت کے ساتھ نمودار ہوا۔ سورج جو ابھی تک بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا یک دم بے نقاب ہو گیا پھر ہر طرف چندھیا دینے والی روشنی پھیل گئی“

پیرس میں زندگی کا جوبن شانزا لیزے ہے۔ کنکارڈ سے شروع ہو کر اٹھان کی طرف مائل دو رویہ شاہراہ یکساں اونچائی اور گھیراؤ لیے ہوئے درختوں کی چھاؤں میں محراب فتح پر جا کر ختم ہوتی ہے جس کے ارد گرد بننے والے دائرے پر مختلف سمتوں سے آئی ہوئی بارہ سڑکوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ اس محراب کی تعمیر کا حکم نپولین نے اپنی ایک سو ساٹھویں فتح پر اپنی فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دیا تھا۔ اس کی تکمیل کو ابھی عرصہ باقی تھا کہ تاریخ کے دھارے کا رخ بدل گیا۔

محراب فتح نے جسے وکٹر ہیوگو نے سنگ شان کہا تھا، فتح کا نشان ہوتے ہوئے شکست کے مناظر بھی دیکھے۔ 1871 ء اور پھر 1940 ء میں جرمن فوج کے دستے اسی محراب سے ہو کر شانزے لیزے پر مارچ کرتے ہوئے شہر پر قابض ہوئے۔ اس محراب کے نیچے فرانس کے سہ رنگی پرچم کے سائے میں 1920 ء میں دشمن کے مقابلے میں کام آنے والے گم نام شہیدوں کی یاد میں پھولوں کے گل دستوں کے درمیان ایک دھیمی سی آگ ہر وقت شعلہ فشاں رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک آگ سرائیوو میں گمنام شہیدوں کے اعزاز میں باش چارشیہ کے باہر ہر وقت روشن رہتی ہے۔

ع۔ صلہ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ

شانزالیزے کے دونوں اطراف ایک تناسب سے تراشیدہ درختوں کی قطاروں سے ادھر وسیع فٹ پاتھوں تک پھیلے ہوئے کیفے بار ہیں جن کی سجاوٹ پہ نفاست رشک کرے۔ مختلف النوع اشیاء سے سجے ہوئے مراکز خریداری ایسے پرکشش ہیں کہ خریداری کا ارادہ نہ رکھنے والے بھی ان کے طواف سے اجتناب نہیں کر سکتے۔ پھر دنیا کے ہر حصہ سے آیا ہوا انسانوں کا ایک ہجوم اس کی رونق میں اضافہ کرتا ہے۔ میری شام اسی جہان طلسم میں گزری۔ محراب فتح کی اوٹ میں ڈوبتے ہوئے سورج کو کیمرے کی پتلی میں محفوظ کرنے کے لیے بے تاب سیاح کنکارڈ کی طرف رواں تھے۔

میں بھی اس قافلے میں شامل ہو گیا۔ ان دنوں یعنی مئی میں سورج 9 بج کر 20 منٹ پر غروب ہوتا تھا۔ ڈھلتا ہوا سورج شفق پر جو لالی بکھیر رہا تھا اس کے پس منظر میں مرمریں محراب فتح کا نکھار دیدنی تھا۔ سیاحوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی اس منظر کو کیمرے میں سمویا جس پر مجھے شیوا کا ان گڑھوں کی تصویریں لینا یاد آیا جو سٹولک سے لوبینا جانے والی سڑک پر پڑ گئے تھے۔ یہ گڑھے سڑک کو مائنز سے پاک کرنے کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے۔

ہم اس سڑک سے ایک آدھ مرتبہ روزانہ ہی گزرتے تھے لیکن ہمیں کبھی یہ خیال نہ آیا تھا کہ ان گڑھوں کی کوئی ایسی اہمیت ہے کہ ان کی تصویر بنائی جائے۔ اگست میں جب فرانسیسی افسران سٹولک میں تعینات ہوئے تو ان میں سے ہر ایک نے ان گڑھوں کی تصاویر بنائیں۔ فرانسیسیوں کی تقلید میں شیوا نے بھی کیمرا سنبھالا اور ان گڑھوں کے ساتھ مشرقیوں کی طرف سے روا رکھے جانے والی بے رخی کا مداوا کیا۔ اردو مافیا کے ہاں اس کی اس حرکت کا ذکر مذاق کے طور پر عرصہ تک کیا جاتا رہا۔

Facebook Comments HS