شک اور یقین: ایک دوسرے کا تضاد یا ضرورت؟


یہ کائنات ہو، دنیا ہو کہ انسان، ہر شے تضادات تناقصات اور کشاکش سے بھری ہوئی ہے۔ ہر دعوی اپنے پیچھے انگنت دلائل لیے کھڑا ہے۔ ہر دلیل عقل، جذبہ یا مفادات کا دامن پکڑے نظر آتی ہے اور انسان اپنے اپنے میلان فطری کے زیر اثر اس دلیل کے حامی ہونے کا دم بھرتا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ اکثر ہم اقرار کسی نظریے کا کرتے ہیں مگر عمل کسی دوسرے نظریے پر! مثلاً زبان سے یہ مانتے ہیں کہ خدا بہترین رزق دینے والا ہے مگر رشوت ستانی اور بدعنوانی کے بھی علمبردار ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے، پھر بھی چھپ کر گناہ کرنے سے کوئی چیز ہمیں مانع نہیں ہوتی۔ یہ اقرار انسانی اور کار انسانی میں اتنا کھلا تضاد کیوں؟ خیر یہ ایک الگ بحث ہے کہ

Pragmatism یعنی عملیت پسندی کے فلسفے نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا
کہ انسان جو مانتا ہے، وہی کرتا ہے۔ فکرو عمل میں اتنا تضاد ممکن نہیں۔

انسان متضاد جبلتیں لے کر پیدا ہوا ہے۔ محبت کرتا ہے، نفرت بھی کرتا ہے۔ کام کرنا بھی چاہتا ہے مگر کام چور بھی ہے۔ مشکل پسند اتنا کہ اجرام فلکی پر کمندیں ڈالے، سہل پسند ایسا کہ اٹھ کر پانی پینا دشوار لگے۔ سگمنڈ فرائڈ کی اصطلاحات میں : انسان جینا بھی چاہتا ہے اور مرنا بھی۔ جو بالترتیب نفسیات میں

Thanatos اورEros کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے

یہ خدائی شاہکار جان لینا بھی جانتا ہے اور جان دینا بھی۔ لوٹنا بھی چاہتا ہے اور لٹ جانا بھی۔ ان تمام جبلتوں کے جوڑوں میں کون سی قسم زیادہ پرزور ہے، ہمیں اس پر معاشرے میں یا کتابوں میں رہنمائی مل سکتی ہے۔ لیکن بات جب انسان کے شاکی ہونے، متجسس ہونے، معتقد ہونے کی ہو تو مسئلہ پیچیدہ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان فطری طور پر متشکک واقع ہوا ہے تو اتنی بڑی تعداد میں مذہب کے ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟

اگر اعتقاد اور تیقن کی فطرت پر پیدا ہوا ہے تو بچے اتنے آفاقی و مابعدالطبیعاتی سوالات کیسے کر سکتے ہیں کہ خدا کہاں ہے؟ ہمیں پیدا کس نے کیا؟ بچہ ہر چیز کی کھوج میں کیسے ہوتا ہے؟ ہر شے کو اپنی ننگی آنکھ سے کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ ہمارا جہل مطلق، معاشرہ یا مذہب اس جبلت کو دبا دیتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام اتنی آسانی سے کیسے ممکن ہے؟

آئیے اب شک اور یقین کے معمے یا پہیلی کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ مشہور مثل ہے : ”تعارف الاشیاء بالاضداد“ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ مثلاً دن اور رات، سفید اور کالا۔ کیا شک اور یقین اس قسم کی دو ضدیں ہیں؟ یعنی جیسے دن کے آنے سے رات چلی جاتی ہے، کیا ان دو کی کیفیت بھی ایسی ہے؟ جیسا کہ فارسی کے باکمال شاعر عمر خیام کہتے ہیں،

از منزل کفر تا بہ دین یک نفس است
از عالم شک تا بہ یقین یک نفس است
این یک نفس عزیز را خوش می دار
کز حاصل عمر ما ہمین یک نفس است

ترجمہ: کفر سے دین تک کا فاصلہ ایک لمحے کا ہے۔ شک سے یقین تک کا فاصلہ بھی ایک لمحے کا ہے۔ اس ایک لمحے میں خوش رہنا سیکھو کیونکہ ہماری زندگیوں کا حاصل یہی ایک لمحہ یا سانس ہے۔

کیا تشکیک کی بے چینی و بے قراری اور اعتقاد کا سرور و انبساط بھی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک کے آنے سے دوسری چلی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے نبی ہونے کے باوجود خدا سے یہ کیوں سوال کیا، تو پیدا کیسے کرتا ہے اور مارتا کیسے ہے؟

لغوی طور پر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کا الٹ ہوں مگر معنوی طور پر ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ ایک کا وجود دوسرے کو تقویت بخشتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جس زمانے میں تشکیک کی دھوپ آنکھوں کو چندھیا دے، وہاں یقین اور ایمان کا سایہ اکثر استراحت فراہم کرتا ہے۔ اور جب اندھا دھند تقلید کا زور ہو تو کوئی فلسفی اٹھتا ہے اور اس کے آگے سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ برطانوی ریاضی دان اور فلسفی پروفیسر وائٹ ہیڈ جن کا ذکر علامہ اقبال نے اپنے فلسفیانہ خطبات ”تشکیل جدید الہیات اسلامیہ“ میں جا بجا کیا ہے، کا کہنا ہے کہ جس زمانے میں مذہب کا زور ہوتا ہے اس دور میں عقلیت بھی عروج پر ہوتی ہے۔

ہم اس بات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جب لوگ اپنے ذہنی اعمال خصوصاً اعتقادات، جذبات، ارادے اور احساسات کو عقل کی کسوٹی پر پر رکھتے ہوئے مضطرب ہوتے ہیں تو مذہب بغیر کسی دلیل کے اعتقاد و ایمان کی دنیا میں لے جا کر انبساط و اطمینان بخشتا ہے۔ اب اس بات کو معکوس لیں۔ اور جب انسان اندھے اعتقاد کی کھائی میں گر رہا ہو، فکر و جستجو کا دامن بالکل چھوڑ دے تو تشکیک کی چنگاری یک لحظہ روشن ہو کر دعوت فکر و جستجو دیتی ہے۔

اس بات کو ایک تمثیل سے سمجھتے ہیں۔ اس دنیا میں بے یقینی و شکوک و شبہات کا ایک طوفان ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اس طوفان میں بہہ نا جائے۔ لہذا وہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ”یقین“ کا ایک گھر یا کمرہ بناتا ہے۔ آپ اس کمرے کو یقین سمجھیے اور اس میں لگے روشندان، دروازے اور کھڑکی کو شک کی مانند لیں۔ کیا کوئی گھر یا کمرہ ان تین چیزوں کے علاوہ اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے؟ اسے خارج کی دنیا سے رابطے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح یقین کی عمارت شک کی کھڑکی یا روشندان کے بغیر مشکل ہے، وہ عمارت جلد بوسیدہ ہو جائے گی یہی حال یقینی اور بے یقینی کا ہے۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی خود نوشت کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ مولانا آزاد امام غزالی کے اس قول کو عزیز از جان جانتے تھے : ”شک جستجو کی علت ہے، جستجو سے تحیر پیدا ہوتا ہے اور تحیر وسیلہ یقین ہے۔“ امام غزالی جیسے جید عالم جنہیں حجتہ الاسلام کہا جاتا ہے، نے گیارہ سال تشکیک کی بھٹی میں گزارے تب جا کر کندن ہوئے۔ وہ فرماتے تھے کہ میں کانچ کی کرچیوں کی طرح بٹ گیا تھا۔ ایسا کوئی سوراخ نہ تھا جس میں انہوں نے جھانکا نہ تھا۔

کیا کوئی لکھاری یا آرٹسٹ اپنے کام پر سو فیصد یقین و اطمینان کر لے تو کیا وہ کچھ نیا پیدا کر سکتا ہے؟ یہی بے اطمینانی یا غیر یقینی اس کی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ایندھن ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں کہ اطمینان تخلیق کی موت ہے۔

کیونکہ انتہائی یقین آپ کو پتھرا دیتا ہے اور انتہائی تشکیک آپ کو خاک میں بدل دیتی ہے۔
دور جدید میں دو انسانی رویے متوازی دوڑ رہے ہیں : ایک نفسا نفسی ہے اور دوسرا
انتہاپسندی۔ اول الذکر رویے کے لوگوں کے لیے Other کوئی اہمیت نہیں رکھتا،
بس اپنی ذات میں گم اور اپنی دھن میں مگن۔ جبکہ ثانی الذکر رویے کے لوگوں کے لیے
Other اتنا مسئلہ بن گیا ہے کہ وہ اس پر اپنی رائے بزرو طاقت منوانا چاہتا ہے۔

دونوں رویے انتہائی ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے مضمرات ہیں۔ جرمن نژاد امریکی شاعر چالس بکوسکی نے کیا خوب کہا ہے :

”The problem with the world is that the intellectual people are full of doubts while the stupid ones are full of confidence.“

Facebook Comments HS