جمہوریت اور سیاست دان


یوں تو سیاست سے ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں لیکن وطن عزیز کے ایک ذمہ دار شہری ضرور ہیں لہذا ملکی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے کبھی کبھی سیاسی کالمز پڑھ لیا کرتے ہیں۔ ناصر الدین محمود صاحب کی کتاب ”جمہوریت ہی راستہ“ ان کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو رواں سال ہی فضلی سنز سے شایع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کا مقصد محض مصنف سے قرابت داری نہیں بلکہ ان کا سیاسی شعور، بصیرت، سنجیدہ انداز بیان اور سب سے بڑھ کر تہذیب و روایات کی پاسداری کرنا ہے جو دور حاضر کے سیاست دانوں یا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور حامیوں میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔

موجودہ سیاسی فضا میں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور غیر اخلاقی زبان استعمال کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس افراتفری کے ماحول میں ناصر صاحب کا متانت سے بھرپور سنجیدہ لہجہ اس بات پر مائل کرتا ہے کہ ان کے کالمز کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کتاب میں ان کے مختلف کالمز کو اکٹھے پڑھنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے تسلسل قائم رہنے کے ساتھ دلچسپی بھی برقرار رہی۔

ناصر الدین محمود پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون سے نظریاتی طور پر وابستہ ہونے کے ساتھ جماعت کے فعال رہنما ہیں۔ اپنی کتاب ”جمہوریت ہی راستہ“ کو انھوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے اور سال 2008 ء سے تاحال سیاسی حالات و واقعات بیان کیے ہیں جو کالمز کی صورت میں مختلف اخبارات میں شایع ہوتے رہے ہیں۔ ناصر صاحب جمہوریت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور ملک کے تمام تر مسائل کا حل صرف جمہوریت کو قرار دیتے ہیں۔

ملک کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھوں نے پارٹی سربراہ کی جانب سے اپنے کالمز میں چند ممکنہ مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ مثبت انداز فکر اور تعمیری سوچ مصنف کی تحریروں کا خاص وصف ہے۔ ملک میں حقیقی اور مستحکم جمہوریت کے حامی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے ہر کالم میں جمہوری عمل کو پروان چڑھانے پر زور دیتے ہیں اور غیر جمہوری طرز عمل پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

عوام طاقت کا اصل سر چشمہ ہیں لیکن درست سمت میں منزل کی جانب قدم بڑھانے کے لیے عوام کو ایک رہنما درکار ہوتا ہے جو رہنمائی کرتے ہوئے انھیں منزل پر پہنچا سکے۔ مصنف نے ایسے رہنماؤں کو کامیاب قرار دیا ہے جو دانش مندی اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود اپنی سوچ و فکر کے مطابق جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد معاشرے سے اپنی سوچ و فکر کو درست تسلیم کروانے کے لیے سخت گیر رویہ اختیار کرنا یا اپنی پوجا کے لیے مزار دینا نہیں ہے بلکہ طے شدہ اہداف کو حکمت، تدبر اور لچک دار رویے کے ساتھ حاصل کرنے کا نام ہے۔

وطن عزیز کے سیاسی، سماجی و معاشی حالات پر گہری نظر ہونے کے ساتھ عالمی سیاسی منظر نامے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ملکی و عالمی سطح پر معیشت میں بہتری لانے نیز معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات و قومی سلامتی کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ مشکل ترین حالات اور بجٹ 2013 ء کے عنوان سے ناصر صاحب کا ایک کالم 19 جون 2013 ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ سال 2023 ء میں اس کالم کو پڑھ کر ملک کے سنگین معاشی حالات پر تکلیف محسوس کرنا اور دس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی حالات کا بجائے بہتر ہونے کے مزید خرابی کا شکار ہونا اس بات کا غماز ہے کہ وطن عزیز میں اقتدار میں رہنے والی تمام سیاسی جماعتیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اب تک کوئی بہتر قدم نہیں اٹھا سکیں بلکہ حالات پہلے سے زیادہ سنگین ہیں۔

اخلاقی، سماجی، معاشی و معاشرتی ہر حوالے سے پاکستان اور پاکستانی قوم تنزلی کا شکار ہوتی جا رہی ہے وطن عزیز مسائل کے انبار میں گھر گیا ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آ رہی۔ معاشرے میں پھیلی بے حسی، مہنگائی اور مسائل کے انبار نے پاکستانی عوام کو عجیب چڑچڑا اور بد مزاج بنا دیا ہے وہ کسی نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں کہ کوئی مسیحا آ کر انھیں مہنگائی کی چکی میں مزید پسنے سے بچا لے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا دے نیز پاکستان کو معاشی طور پر ترقی کی جانب گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ملک کا حقیقی پارلیمانی جمہوریت بحال کیے بغیر ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ممکن نہیں ہے۔ عہد حاضر میں بھی ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ملک میں حقیقی جمہوریت نافذ کر کے اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کو منتقل کرنے سے ہی ترقی کی جا سکتی ہے۔

مجموعی طور پر ان کے کالمز کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کی ملکی سیاست پر گہری نظر ہونے کے ساتھ تجزیہ نگاری کمال کی ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ کے حامل ہیں۔ ان کی جانب سے مسلم لیگ نون کے لیے دکھائی جانے والی گرم جوشی کو پارٹی وابستگی قرار دیا جا سکتا ہے وگرنہ مثبت اور تعمیری انداز میں صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ان کے سیاسی اور صحافتی قد میں اضافے کا باعث ہے۔ جس دور میں یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے ملکی سیاست میں نہایت تیزی سے بھونچال آیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال پر مصنف کی جانب سے کالمز میں استعمال کی جانے والی زبان کس حد تک مثبت اور تعمیری ہوتی ہے نیز بجٹ 2023 ء کے متعلق ناصر صاحب اپنے خیالات کو کیسے لفظوں میں ڈھالتے ہیں۔ علم سیاسیات کے طلبہ کے لیے مذکورہ کتاب نہایت مفید اور معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں ناصر صاحب کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں

Facebook Comments HS