کیا میں نے جامعہ کراچی پر مقدمہ نہیں کیا؟


میرا آرٹیکل ”مجھے سروس سے بلیک لسٹ کس نے کیا“ کے عنوان سے پبلش ہوا اس پر لوگوں کا اچھا رسپانس آیا کچھ نے دعائیں دیں، کچھ لوگوں نے جامعہ کراچی پر مقدمہ کرنے کا مشورہ بھی دیا، کچھ نے مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان سب باتوں کے بعد اب اس کیس کی لیگل حیثیت بتانی ضروری ہو گئی۔ دراصل ہوا کیا ہے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب کسی گھرانے کا سربراہ یا کوئی فرد مارا جائے اور وہ گھرانا انصاف کے لیے عدالتوں میں چلا جائے پھر اس گھرانے کا معاشی تحفظ اور جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے

اب وہ گھرانا چونکہ انصاف اور اپنی حق کے لیے لڑ رہا۔ ہے۔ اس لیے اب اس گھرانے کو ہر اس شخص سے لڑنا پڑے گا جو اس کے خلاف ہے، لیکن ایسے گھرانے کو ان لوگوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا پڑے گا جو ان کو انصاف دلانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ سمجھے جیسے کسی گاؤں میں جرگے میں کسی کا مقدمہ چلا جائے تو وہاں دو پارٹیاں بن جاتی ہے ایک اس گھرانے کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف یہی معاملہ عدالتوں میں جانے کے بعد ہوتا ہے لیکن عدالت میں جانے سے آپ کو ریاست سے تحفظ ملتا ہے۔

سب سے پہلی بات میری بلیک لسٹنگ کا معاملہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ میرے والد کی موت کے بعد میری والدہ انصاف کے لیے عدالتوں میں کھڑی ہوئی۔ اس وقت کھڑی ہوئی جب لوگ میرے والد کا معاملہ سن کر اگلی بار اپنے دفتروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی لڑی۔ اس کے لیے انھوں نے وکیل کیے آپ سب کو حیرت ہوگی کہ ہمارے وکیلوں کا پینل تھا جس میں 4 سے 5 وکیل تھے اور سب سے اوپر خواجہ نوید احمد تھے جو آج بھی ہیں۔

خواجہ صاحب سمیت تمام وکلاء کو ہم نے شروع میں ہی فیس ادا کردی کہ کام جلدی ہو گا لیکن وکلاء ہمارا کام کرنے کے بجائے غائب ہو جاتے تھے۔ میرے والد کے قتل کا مقدمہ جس مشکل سے لڑا اور لوگ پکڑوائے وہ ایک الگ کہانی ہے ہمارا پیسہ اور جائیداد ہمارے چچاؤں نے والد کی موت پر دبا لیا، جس کا ایک اور مقدمہ کرنا پڑا وہ مقدمہ آج بھی عدالت میں ہے۔ اب ان مقدمات کو کرنے پر بھی مجھے الگ سے اپنی سروس کا مقدمہ کرنا پڑا ہے تو یقیناً یہ ظلم وکیلوں اور بیوروکریسی کی وجہ سے ہوا۔ اب اگر وکیل یتیم اور بیوہ سے پیسے اور ان کے بڑے بڑے معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر انھیں ہی درندوں کے آگے کر دیں تو اس میں مؤکل کا کیا قصور؟

پاکستان میں ایسا نہیں ہے کہ وٹنس پروٹیکشن کا قانون نہیں ہے یا کسی کے روزگار کو تحفظ دینے کا کوئی قانون نہیں ہے سب ہے، انگریز قانون دے کر گیا ہے اس کے بعد بھی قانون سازی ہوری ہے لیکن قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا منصف سے زیادہ وکیل ظالم ہے۔ جس نے شہادت دینی ہے کہ میرا مؤکل ایسا نہیں ہے وہی پیسہ اور کیس لے کر غائب ہوتا ہے۔

میں اپنا مقدمہ محتسب اعلیٰ سندھ لے کر گئی جس کا آرڈر ہائی کورٹ سندھ نے دیا تھا۔ پھر محتسب اعلیٰ میں کیس چلا پھر وہی سے بلیک لسٹنگ کی رپورٹ ملی، کیس کی انکوائری نیب نے کی ان کے لوگ کرپشن کیس میں پکڑے گئے نیب نے عارف کمال کا سروس کا ڈیٹا مانگا اس کی ڈگریاں مانگی لیکن جامعہ کراچی نے نہیں دی اس لیے اس کی گرفتاری نہیں ہوئی اسی طرح اپنے ملازمین کی دو سرکاری نوکریاں بھی چھپائی جیسے نجیب عالم کر رہا تھا ایک کالج میں اور ایک یونیورسٹی میں اور پچھلے پانچ سال سے چیئرمین ہے ایسے ہی عنایت اللہ ہے اور بھی کئی ملازمین تھے جو یونیورسٹی کے اوقات میں دوسری پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے تھے اور شاید اب بھی پڑھا رہے ہیں۔

بہرحال محتسب اعلیٰ سندھ نے کنٹریکٹ ری نیو کرنے کے آرڈر دیے، صرف 6 ماہ کا کنٹریکٹ کیا جو 2016 کا آخری کانٹریکٹ تھا 2017 میں آٹھ آرڈر جاری کیے کہ کانٹریکٹ دوبارہ کریں کیونکہ جامعہ کراچی سمیت پورے پاکستان میں کنٹریکٹ ملازمین کام کر رہے تھے آج بھی کر رہے ہیں ساتھ ساتھ وہ میرے مستقل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے تھے جس کے لیے عارف کمال کی رپورٹ کو رد کرنا ضروری تھا لیکن وی سی صاحب کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تو انھوں نے محتسب اعلیٰ میں یہ بات صاف کہہ دی کہ میں فارینہ کا کام کرنا چاہتا تھا لیکن مجھ پر بہت دباؤ ہے میں کام نہیں کر سکتا اس کے بعد وہ بھی وی سی شپ سے گئے، یقیناً یہ دباؤ عارف کمال اور اس کے ٹولے کا تھا۔

اس کے بعد تو دو وی سی آئے ہیں جو ان ہی کے گروپ کے لوگ ہیں اس لیے 7 سال سے تو عیش میں ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جامعہ کراچی نے محتسب اعلیٰ سمیت کسی بھی ادارے کے احکامات نہیں مانے شعبہ ریاضی نے مجھے جو ہراساں اور بدنام کیا اس کا ذکر، میں پہلے آرٹیکل میں کرچکی ہوں۔ 2016 کے بعد عارف کمال چھپ گیا، انور زیدی اور دیگر کو چھوڑ دیا پھر سٹی کورٹ میں مقدمہ چلا انھوں نے بھی اس کے خلاف فیصلہ دیا کچھ نہیں ہوا پھر ہائی کورٹ میں ان پرسن میں مقدمہ کیا لیکن اتنے ظالم ہے مجھے بلیک لسٹنگ سے پھر بھی نہیں نکالا اس دوران ایسا نہیں ہے کہ کوئی کام عدالتوں نے نہیں کیے آج تک سندھ پبلک سروس کمیشن پر پابندی ہے لیکن پھر بھی بھرتیاں ہوتی ہے وزارتوں کی بنیاد پر ہوتی ہے، کبھی صوبائی حکومت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بھرتیاں کرتی ہے کبھی وفاقی حکومت سے بھرتیاں ہوتی ہیں کام تو سب کا چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کنٹریکٹ ملازمین کو بحال کرنے کے لیے 2 سال پہلے آرڈر جاری کیے اور جس پیریڈ میں ان کا کنٹریکٹ نہیں کیا اس کے بھی ڈیمیج دینا کا آرڈر جاری کیا۔ پورے پاکستان کے ملازمین اپنے کاموں پر واپس گئے انھیں ڈیمیج بھی ملے سوائے میرے۔

جب میرا معاملہ ہوتا ہے تو میرے لیے کوئی آرڈر ہی نہیں کام کرتا تو میں کیا کروں؟ جب میں نے ہر طرف سے دیکھ لیا کہ کچھ بھی کام نہیں ہو رہا اور میرے گھر والوں کی پریشانی اور بھی بڑھ گئی تو پھر میں نے اپنی ماں سے کہا مجھ سے تو معاملہ حل ہی نہیں ہو رہا ہے اور بگڑ رہا ہے لہذا انھوں نے ایڈوکیٹ خواجہ نوید احمد سے بات کی جن کے پاس ہمارے دو مقدمات پہلے ہی سے تھے میرے پکے پکائے کیس پر بھی پیسے دیے، کہا کہ اس کا کام کروا دے 1.5 سال ہو گیا ہے، صرف ارجنٹ کی درخواست لگاتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے جبکہ پرانے آرڈرز کا ڈھیر ہے میں نے کہا بھی کہ میرا کہیں اور کام کروا دے میں چلی جاؤں گی میری بلیک لسٹنگ ختم کرائے۔ جامعہ کے رجسٹرار سے خود بات کر کے آئی کہ رپورٹ ختم کریں اور کسی اور جگہ کام کروا دیں میں چلی جاؤں گی۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد معاملہ یہ ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کرنے کی اتنی ضرورت بھی نہیں رہی ہے کیونکہ مجاز اتھارٹی کے پاس اب یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے پاور استعمال کرتے ہوئے معاملات کو خود حل کر لیں لیکن میں پھر بھی عدالتوں میں جا رہی ہوں۔ اب اگر اس پر بھی لوگ کہے عدالتوں میں جاؤں تو بھئی اس قانون کا فائدہ کیا جو صرف اوپر والوں کو تحفظ دے رہا ہے میں تو گیارہ سال سے عدالتوں میں ہوں یعنی جو کام ریاست کی ذمہ داری تھے وہ تو خود کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس جنگ کو خود لڑنا پڑ رہا ہے، اس کا مقصد ہے قوانین ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جھگڑے پر کھانے کے مزے لگ گئے ہیں اور وہ بھی ذہین اور قابل لڑکیوں سے جھگڑا، اس میں دوگنا فائدہ نظر آتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں Harassment at work place۔

یہ معاملہ اس لیے بھی ختم نہیں ہو رہا کیوں کہ عارف کمال، انور زیدی ابھی بھی جامعہ کراچی کے اندر ان کے گھروں میں رہ رہے ہیں جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ایک سال تک رہنے کی اجازت ہوتی ہے اس کے بعد گھر خالی کرنا ہوتا ہے عارف کمال کی ریٹائرمنٹ کو 7 سال ہوچکے ہیں انور زیدی کی ریٹائرمنٹ کو 6 سال ہوچکے لیکن یہ لوگ آج تک جامعہ کراچی کے اندر مقیم ہے۔ ہراسمنٹ صرف دست درازی نہیں ہوتی بلکہ آپ کے کام کو روکنا آپ کی تنخواہیں روکنا، بدنام کرنا عدالتی حکم یا کسی انکوائری پر دوبارہ جوائننگ دینے کے حکم کو نہ ماننا یہ سب بلیک میلنگ اور ہراسگی میں آتا ہے اور جامعہ کراچی، شعبہ ریاضی کے مرد اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں۔

مجھ سے کوئی یہ کہے کہ آپ ان کو چھوڑ دیں اور اب کہی اور چلی جائے تو یہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ یہ جھوٹی رپورٹ سرکاری سطح پر لکھی گئی ہے میرا وقت میرا مستقبل برباد کیا ہے مجھے اپنا حق اور انصاف دونوں چاہیے۔ میں نے ان کو کچھ وقت کے لیے چھوڑ بھی دیا لیکن انھوں نے میرا اور میرے گھر کا پیچھا کرنا نہیں چھوڑا یہ آج بھی میرے گھر والوں کو تکلیف دے رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے جامعہ کراچی سے کوئی تنظیم چلا رہے ہیں۔

میری برداشت اب ختم ہو گئی ہے اور پورے شہر کی نوکریوں اور ترقیوں کی ذمہ داری میری اور میرے گھرانے کی نہیں ہے ہر شخص اپنا حصہ لینا جانتا ہے اور ہر کسی کا کیس دوسرے سے مختلف ہوتا ہے جیسے سب کا نصیب مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے کلرکوں، مالی چپڑاسی، اور جعلی بھرتیوں میں ملانے کی ضرورت نہیں ہے یہ سروس میرا حق ہے کیونکہ اسی کو بنیاد بنا کر مجھے سالوں سے رگیدا جا رہا ہے۔ وی سی خالد عراقی صاحب جب ایک گارڈ کے لیے تڑپ سکتے ہیں اور اس کو فوراً جامعہ میں ہی 16 گریڈ کی مستقل نوکری دے سکتے ہیں تو میں تو پھر فیکلٹی ممبر ہوں جو گریڈ 18 کے کنٹریکٹ پر کام کرچکی ہوں اور ایم ایس سی فائنل ائر تک کو پڑھا چکی ہوں اس لیے میرا نوٹیفکیشن دینے میں کیا پریشانی ہے اس نوٹیفیکیشن کو 7 سال سے روکے بیٹھے ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر سے لڑکیاں گورنمنٹ کے کالجز میں ڈائریکٹ گریڈ 17 پر مستقل ہوئی ہیں۔ عدالتوں کے اتنے آرڈر ہے کہ اگر قانون پر عملدرآمد ہوتا تو ان کی نسلیں بھی جیل میں ہوتی۔

Facebook Comments HS