ملک کو معاشی بحران سے نکالنے والی رئیل سٹیٹ مارکیٹ شدید بحران کا شکار
پاکستان میں دیگر شعبوں کی طرح رئیل سٹیٹ کا شعبہ بھی تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ جس شعبے نے ملکی معیشت کو سہارا دینا تھا وہ خود معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ مارکیٹ میں پلاٹوں کے خریدار کم اور فروخت کرنے والے زیادہ ہیں۔ سونے اور ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پراپرٹی کے ریٹ کم ہو رہے ہیں جس کے باعث لوگ اپنا زیادہ سرمایہ سونا اور ڈالر خریدنے میں لگا رہے ہیں۔ تعمیراتی سامان اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ گھر بنانا یا اسے مکمل کرنا اب ہر کسی کے لئے ممکن نہیں رہا۔
نگران حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے کے چکر میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مزید تباہ نہ کرے، دولت ٹیکس سمیت کوئی بھی ٹیکس پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کے لئے جان لیوا ثابت ہو گا۔ رئیل سٹیٹ کے ساتھ تین درجن سے زائد صنعتیں جڑی ہوئی ہیں اور یہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شعبہ ہے۔ کاروبار چلے گا تو زیادہ ریونیو آئے گا۔ حکمرانوں کی عدم دلچسپی کے باعث کاروبار ٹھپ ہے، پراپرٹی کے آفس تیزی سے بند ہو رہے ہیں اور خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے کبھی ٹیکس دینے سے انکار نہیں کیا پھر بھی حکومت کا اس شعبے پر توجہ نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ملائیشیاء یو اے ای ’ترکی اور سعودی عرب سمیت بڑے ممالک نے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ترقی کر کے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ابوظہبی اور سعودی عرب کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ پاکستان کو بھی خوشحالی و ترقی کے لیے ایسے میگا تعمیراتی اہداف اپنانے ہوں گے ۔ نئی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 25 کروڑ سے بڑھ گئی ہے، ایسے حالات میں ایک کروڑ 20 لاکھ مکانوں کی فوری ضرورت ہے 2040 ء میں رہائشی یونٹ کی تعداد اڑھائی کروڑ ممکن ہوگی۔ حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ حکومت 20 یا 25 سالہ پلاننگ پروگرام سامنے لائے۔
اوور سیز پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی محفوظ سرمایہ کاری کے لیے مخمصہ کا شکار رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کی سرکاری سرپرستی ہو تو تارکین وطن قومی خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور یہ ملک چند سالوں میں سنگا پور اور ملائیشیاء سے آگے نکل جائے وفاقی و صوبائی حکومتیں پبلک اور پرائیویٹ سطح کے ہر نئے رہائشی منصوبے میں اوورسیز بلاک بنوائیں پھر دیکھیں کس طرح پاکستان بلندی کی سمت گامزن ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل رئیل اسٹیٹ کنسلٹنس ایسوسی ایشن ( ریکا ) نے ڈی ایچ اے کے پلیٹ فارم سے حکومت کو کچھ تجاویز دیں تھیں ( 1 ) ڈی سی اور ایف بی آر ریٹس کا نظام ختم کیا جائے ( 2 ) ریئلٹرز کی رجسٹریشن کر کے انہیں پابند کیا جائے کہ کوئی بھی رجسٹری نان رجسٹرڈ ریئلٹر کے ذریعے نہ ہو، ڈی این ایف بی پی کو ریئلٹرز کو ہراساں کرنے سے روکا جائے ( 3 ) ریئلٹرز کونسل کے قیام کی منظوری دی جائے ( 4 ) ریئلٹرز کے لئے ڈگری کورسز کا اجراء کیا جائے اور ان کی سوشل سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے ( 5 ) اوپن فائلر کے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ یہ درست ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر قومی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یہ سیکٹر سرکار کے لئے دودھ دینے والی گائے کی مانند ہے اسے جتنا فیڈ کیا جائے گا یہ اتنا زیادہ پیداوار دے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اسے قصائی کی نظر سے نہ دیکھے۔
پاکستان ترقی کی دوڑ میں اب بھی بہت سارے ممالک سے پیچھے ہے۔ جب دنیا اسپیس کو تسخیر کر رہی تھی، ہم پٹواری نظام کے تحت زمینوں کے انتقال کر رہے تھے۔ عالمی سطح پر ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں جدید بنیادوں پر ٹیکنالوجی آئی اور لینڈ ریکارڈز ڈیجیٹل ہونا شروع ہو گئے۔ ڈیٹا فائلوں سے نکل کر کمپیوٹر میں چلا گیا۔ پاکستان میں بہت سارے ایسے چھوٹے بڑے شہر ہیں جہاں پر کبھی بھی سرے سے ماسٹر پلان بنایا ہی نہیں گیا یا پھر دستیاب دستاویزی پالیسی پر آج تک مکمل طور پر عمل درآمد ہی نہیں کیا جا سکا۔
چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں لوگوں نے ہجرت شروع کی تو آبادی کے تناسب اور چھوٹے شہروں کی ضروریات کو سمجھنے کے لئے ماسٹر پلان بنانے کی ضرورت پیش آئی۔ ایک اچھے ماسٹر پلان میں شہر کی مردم شماری کے حساب سے وہاں کے شہریوں کی سماجی و اقتصادی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے جن میں رہائشی، کمرشل علاقے، پارکس اور اندرون شہر کو آپس میں جوڑنے والا سڑکوں کا جال، یہ سب شامل ہیں۔ اسی لئے چھوٹے شہروں کا ماسٹر پلان بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بڑے شہروں کا ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر شہر کی انفرادی مردم شماری بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔
بلاشبہ پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر شہر کی نئی تعمیراتی ضروریات کا اندازہ لگانا مشکل عمل ہے۔ پاکستان کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کے لئے جدید ترین انفراسٹرکچر اور سہولیات کی ضرورت ہے۔ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز جو اس مارکیٹ میں کامیابی کے خواہاں ہیں انہیں مواقع اور چیلنجز دونوں کا سامنا کرنا ہو گا۔


