معروف قصہ گو جاوید چودھری بھی پی، ایچ، ڈی ہو گئے

سرکاری اعزازات کی جتنی درگت ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے شاید کہیں اور ایسا نہ ہو، قطع نظر اس بحث کے کہ سرکار جس شخصیت کو اعزاز کے لیے منتخب کرتی ہے وہ اس ”اونر“ کا مستحق بھی ہوتا ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ وقت اور سماج کرتا ہے ریاست نہیں۔ اعزاز مل جانے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہو جاتا یہ تو محض کچھ بڑوں کا کھیل ہوتا ہے جو وہ وقتی مفاد کے لیے رچاتے ہیں۔
جبکہ بڑی شخصیت کا تو کام بولتا ہے اور اسے کسی اعزاز کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور ویسے بھی وطن عزیز میں اعزازات کی سلیکشن کیسے ہوتی ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور کیسی دانشوری اور کہاں کے دانشور؟
بونے سماج میں بونے ہی دانشور کہلاتے ہیں۔
ژاں پال سارتر جنہیں فلسفہ وجودیت کا بانی سمجھا جاتا ہے کو جب 1964 میں ادب کے نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا تو انہوں نے فوراً اس اعزاز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا
” ایک مصنف کو اپنی فکر آ زاد رکھنی چاہیے اور خود کی ذات و فکر کو ادارے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے ”
چونکہ بڑے لوگ اعزازات سے ماورا ہوتے ہیں اور انہیں اپنی فکر پر کسی کی مہر یا تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ تو اپنے اندر کے سچ کو لکھتے ہیں چاہے کسی کو پسند ہو یا نہ ہو وہ اس فکر سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے دو شخصیات کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا، جن میں سر فہرست محمد شفیع شاکر شجاع آبادی ہیں جو سرائیکی وسیب کی پہچان ہیں اور بہت پائے کے شاعر اور مفکر ہیں، جسمانی معذوری کے باوجود اپنے اشعار میں وہ سب سمو دیا جس سے آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں گی۔ انتہائی پسماندگی، غربت، کسمپرسی کے باوجود اور بالکل ہی نچلی سطح سے اوپر اٹھ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا مگر شاکر شجاع آبادی نے کر دکھایا اور ان کی شخصیت کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی معقول وسائل تھے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر سماجی رسائی، جسم بھی ایک طرح سے مفلوج تھا بس ایک دماغ تھا جو اسٹیفن ہاکنگ کی طرح ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا تھا اور کوئی اس فکر کو کاغذ پر اتار دیا کرتا تھا۔
طاقت ور دماغ اور کمزور ہاتھوں کی مدد سے شاکر نے اپنے حصے کی شمع جلا کر انسانی فکر کے اثاثے میں اضافہ کرتے ہوئے اپنا نام تاریخ کے اوراق میں جلی حرف میں لکھوا لیا۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاکر اس آنریری اعزاز سے بہت بلند ہے۔ دوسری شخصیت کا نام جاوید چودھری ہے اب ان کو کس ضمن میں اور کس کیٹگری کے تحت یا خدمات کی بنیاد پر اس اعزاز سے نوازا گیا وہ ناقابل فہم ہے۔ ان کے ٹریک ریکارڈ میں ”زیرو پوائنٹ“ سے زیادہ تو کچھ نہیں ہے اور موصوف قصہ گوئی اور کہانیاں گھڑنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اپنی لفاظی کی صورت میں ایک سماں باندھ دیتے ہیں جو صلاحیت ان کے اندر موجود ہے اس کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
فکشن کا یہی تو کمال ہوتا ہے جو آپ کو وقتی طور پر ایک ایسے خیالی جہاں میں لے جاتا ہے جس کا حقیقت میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنہوں نے چودھری صاحب کو پڑھ رکھا ہے وہ بڑے اچھے سے جانتے ہیں کہ ان کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے الفاظ میں حقائق بہت کم اور مبالغہ آرائی یا پراسراریت پر مبنی چورن یا مصالحہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے اسی آ رٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے جب کسی معتبر ہستی کا دل دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے یا لوٹ مار سے جی اوبھ جاتا ہے تو پھر یہ ”بزرگ“ بننے کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں اس صورت میں پھر وہ انہی سے رابطہ کرتے ہیں اور چوہدری صاحب اپنے قلم کے زور پر اس شخصیت کے گرد ماورائیت و روحانیت کا ایسا جالا بنتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور مطلوبہ ہدف کو ٹوپی سے کبوتر نکالنے والے مداری کی طرح سے مہان قسم کا مہاتما یا بزرگ ثابت کر دیتے ہیں اور یہ ہنر وہ بڑے بڑوں پر آزما بھی چکے ہیں۔
ان کا کمال یہ ہے کہ وہ نکمے سے نکمے بندے کی شخصیت میں سے بھی کوئی نہ کوئی نیک صفت فرشتہ دریافت کر ہی لیتے ہیں۔
اگر تو انہیں یہ اعزازی ڈگری مبالغہ آرائی کے میدان میں ان کی خدمات و صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر دی گئی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس فہرست میں ” قبیلہ نسیم حجازی و ممتاز مفتی و اشفاق و شہاب“ کے پیروکاران بابا یحیی، احمد رفیق اختر، سرفراز شاہ، قاسم علی شاہ اور ساتھ میں ننھے پروفیسر کو بھی شامل کر لیجیے تاکہ روحانی تسلسل بنا رہے۔
لیکن اگر چودھری صاحب کو یہ ڈگری ایک انٹلیکچوئل کے طور پر دی گئی ہے تو یہ زیادتی ہوگی اور اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ان کے ساتھ شاکر شجاع آبادی کو بھی نتھی کیا جا رہا ہے۔

