مسلم لیگ نون کی مقبولیت کا ہوا، حقیقت یا مغالطہ


پاکستان میں قومی انتخابات کا بگل بچ چکا، انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد اب سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد فی الوقت میاں صاحب پاکستان کے سیاسی منظرنامے پہ سب سے نمایاں نظر آ رہے ہیں کیونکہ ان کی واپسی جن حالات میں ہوئی انہیں سزایافتہ اور مفرور مجرم ہونے کے باوجود جس طرح ریاستی و سرکاری پروٹوکول میں وطن واپس لایا گیا وہ اشارے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ اور میاں صاحب کی ملک کے ”وسیع تر مفاد“ میں مفاہمت ہو چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت مخالف سیاسی جماعتوں کا اس مفاہمت نما ممکنہ ڈیل پہ اعتراض اور خدشات بالکل درست ہیں کیونکہ اب تک یہی نظر آ رہا ہے کہ میاں صاحب کو انتخابات سے قبل ہی مکمل ریاستی پروٹوکول فراہم کر کے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو باور کرایا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے آئندہ کے وزیراعظم ہیں۔ ان کی عوامی مقبولیت کا خودساختہ ہوا کھڑا کیا گیا ہے یا پھر اس میں کوئی حقیقت ہے۔

میاں نواز شریف ایک سزایافتہ مجرم ہیں، وہ چار ہفتوں کے لیے علاج کی اجازت لے کر سزایافتہ ہونے کے باوجود ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک ڈیل کے تحت پردیس بھیجے گئے اور پھر چار سال تک آزادی سے لندن کی پرتعیش زندگی کے مزے لوٹ کر جب لاہور کے ہوائی اڈے پہ اترے تو حفاظتی ضمانتیں ان کا انتظار کر رہی تھیں عدالت خود چل کر ان کے پاس گئی اور ان سے حفاظتی ضمانتوں کے لیے بائیو میٹرک کروائی۔ یہ سب کچھ چشم فلک نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا، ویسے تو بہت سی انہونی باتیں، انہونے واقعات ہمیں صرف پاکستان میں ہی ہوتے نظر آتے ہیں مگر اس بار بالکل ہی الگ اور منفرد واقعہ رونما ہوا۔

مسلم لیگ نون کو پنجاب خصوصاً سینٹرل پنجاب میں اپنی مقبولیت اور طاقت کا زعم ہے جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے، اور اسی طاقت کی وجہ سے انہوں نے میاں صاحب کے استقبالیہ جلسے کے لیے لاہور کا انتخاب کیا جہاں سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی زیادہ تر نشستیں نون لیگ کے پاس تھیں۔ لاہور کی آبادی بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے جبکہ نون لیگ کو لاہور کے بارہ قومی حلقوں سے کامیابی ملی اور اس نے تیرہ لاکھ ستاسی ہزار کے قریب ووٹ بھی حاصل کیے تھے۔

اسی لاہور شہر میں دنیا نے دیکھا کہ میاں صاحب کا جلسہ کس نوعیت کا تھا، ان کا جلسہ یقیناً ایک بڑا کامیاب پاور شو تھا مگراس جلسے میں پورے ملک سے لوگ لاکر جلسہ کی کامیابی کے لیے کوششیں کی گئیں حالانکہ صرف لاہور کے لوگ ہی میاں صاحب کا استقبال کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے تو کسی دوسرے شہر یا صوبے سے لوگوں کو لانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اس وقت مسلم لیگ نون کو اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے مختلف چیلنجز درپیش ہیں۔ پہلا انہیں میاں صاحب پہ لگی لاڈلے کی چھاپ ان کے اوپر سے ہٹانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پنجاب میں شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود تحریک انصاف کی مسلسل بڑھتی عوامی مقبولیت ان کی مشکلات اور پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے لے کر اب تک مسلم لیگ نون یہ باور کرانے کی سرتوڑ کوششوں میں لگی ہوئی ہے کہ عوام خصوصاً پنجاب کی عوام میں میاں صاحب کی مقبولیت کو آج بھی عروج حاصل ہے اور وہ ملک کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ ریاستی طاقتوں کی جانب سے بھی ان کو ملنے والی سہولیات اور پروٹوکول اس جانب اشارہ کرتے ہیں، لیکن چند دن پہلے لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد تک سفر کے دوران عام پنجابیوں کی آراء جاننے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ مسلم لیگ نون کو میاں صاحب کی مقبولیت کی خوش فہمی ہے یا پھر وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ میاں صاحب کی کرشماتی شخصیت کا کرشمہ اب باقی نہیں رہا۔

لالہ موسیٰ میں میاں جی کی ہوٹل پہ دال کھاتے ہوئے ایک پرانے مسلم لیگی کارکن سے کچہری میں اس کی باتوں سے اندازہ لگایا کہ وہ میاں صاحب کی وطن واپسی اور ان کے وزیراعظم بننے کے متعلق کیا رائے رکھتا ہے۔ اس کارکن کا کہنا تھا کہ اس نے ساری زندگی نون لیگ کا پرچم تھامے رکھا کیونکہ وہ میاں صاحب کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا تھا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر پھر اداروں کو اپنی اقتدار سے بے دخلی کا قصوروار قرار دے کر انہوں نے اور مریم نے انتہائی گھٹیا مہم چلائی، پھر ڈیل کر کے دوسری بار وطن چھوڑ کر چلے گئے اور اب ساری زندگی جن کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کے سنگھاسن پہ پہنچے ان ہی قوتوں کے خلاف عوام کے دلوں میں زہر بھر کر اب پھر انہیں کے ساتھ ڈیل کر کے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش بدترین سیاسی بد دیانتی ہے اس لیے وہ اس بار نون لیگ کو ووٹ نہیں دے گا۔ ایسے ہی جذبات اور خیالات کا اظہار لاہور سے اسلام آباد تک کے سفر کے دوران عوام کی اکثریت نے کیا۔

پاکستان میں اقتدار کی کرسی کا فیصلہ پنجاب کے انتخابی نتائج کی بنیاد پہ ہوتا ہے، اور اس وقت پنجاب کی سیاسی صورتحال تحریک انصاف پہ بدترین ریاستی کریک ڈاؤن کی وجہ سے گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ تحریک انصاف اپنے ہی اوپر 9 مئی کے خودکش حملے کے بعد سے مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے۔ عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دینے اور مخالفین پہ بھوکے شیروں کی طرح ٹوٹ پڑنے والے شعلہ بیاں انصافی رہنماؤں کی جانب سے مسلسل اپنی ریڈ لائن کو اپنے ہی پیروں تلے روند کر موسمی پرندوں کی طرح اپنی جگہ اپنا مقام بدلنے کے باوجود حیرت انگیز طور تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ عوام ریاستی اداروں کی جانب سے عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف اقدامات کو ناجائز اور ریاستی جبر کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی عوام کی اکثریت میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات بھڑک اٹھے ہیں اور وہ کھل کر طاقتور ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کو ہدف ملامت و تنقید بنا رہے ہیں۔

مسلم لیگ نون اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد بنانے، بلوچستان کے موسمی پرندوں کی نون لیگ میں شمولیتیں کروانے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ آج بھی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے اور میاں صاحب ہی ملک کے مسائل و مشکلات کا حل ہیں، مگر ان ساری سرگرمیوں سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی مدد و معاونت سے ہی ہو رہا ہے۔ کچھ یاران وطن بتاتے ہیں کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد، لوٹوں کی نون لیگ میں شمولیتیں سب پاور کوریڈورز کے ایما پہ ہو رہا ہے بالکل اسی طرح جیسے لوٹوں کی فوج کو تحریک انصاف میں شامل کروا کر اقتدار کی باگیں ان کے ہاتھوں میں دی گئی تھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار بھی اسی فارمولے کے تحت اقتدار لاڈلے پلس کے حوالے کیا جاتا ہے یا پھر اس بار اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کچھ اور ہی ہے۔

Facebook Comments HS