بارے سکردو تا اسکولی روڈ کا کچھ بیان ہو جائے
سکردو تا اسکولی جیپ روڈ ایک تاریخی اور افسانوی سڑک ہے۔ کے۔ ٹو بیس کیمپ ٹریک کی ابتدا اسی سڑک سے ہوتی ہے۔ اس کا آنکھوں دیکھا تعارف پیش خدمت ہے
سکردو تا شوگر میٹل روڈ ہے۔ شوگر سے آگے اسکولی روڈ مزاج یار کی طرح بات بے بات برہم ہونے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ دریائے برالدو سڑک سے کچھ ہٹ کر بہہ رہا ہو تو اسکولی روڈ ایک شریف النفس اور مہربان ہم سفر معلوم ہوتی ہے۔ جیسے ہی دریا قریب آتا ہے یہ بد چلن سڑک برالدو سے ہم آغوش ہونے کی کوشش میں مصروف ہوجاتی ہے اور جیپ میں پھنسا ہوا مسافر اس ہم آغوشی کے نتیجے میں جنم لینے والے نتائج کا اندازہ کر کے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔
دور بہت ہی دور سڑک سے اور اس سے بھی دور۔ دریائے برالدو چنگھاڑتا ہے۔ کاش یہ دوری آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوتی۔ یہ نا معقول دوری تقریباً نوے درجے کا زاویہ بناتی ہوئی بلا روک ٹوک قسم کی عمودی گہرائی کی صورت میں ہے۔ اس گہرائی کے کنارے پر اسکولی روڈ کئی ہیئر پن لوپ قسم کے موڑ کاٹتی ہے۔ جیپ کو یہ نازک نازک موڑ کاٹنے کے لئے کئی مرتبہ آگے پیچھے ہونا پڑتا ہے۔ اور جب یہ آگے ہوتی ہے تو پتہ نہیں کہاں آگے ہوتی ہے؟
ایک دو مقامات ایسے آتے ہیں کہ بے اختیار ہو کر جیپ سے باہر جھانگ لگانے کو دل کرتا، لیکن چھلانگ لگانے کی جگہ تو دور کی بات ہے، جیپ کے اطراف میں قدم تک دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ عرفان سے معذرت کروں اور رک سیک اٹھا کر جیپ سے اتر جاؤں۔ اسکولی جانا کیا ضروری تھا؟ کیوں نہ واپس جاکر شوگر کے تاریخی قلعے میں قیام کروں۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی سے منسوب مسجد کی زیارت کروں۔ شوگر کا پولو گراؤنڈ دیکھوں اور دیوسائی اسکولی جیپ سفاری کو دیوسائی شوگر جیپ سفاری میں بدل دوں۔ لیکن یہ سوچ مکمل ہونے سے پہلے اسکولی روڈ وسیع لینڈ سکیپ میں داخل ہو کر شرافت اور معصومیت کا لبادہ اوڑھ لیتی تھی۔ میں واپس جانے کا ارادہ ملتوی کر کے۔ رب کا شکر ادا کر بھائی۔ جس نے اسکولی روڈ بچھائی۔ کا ورد کرتے ہوئے اردگرد کے مناظر پر نظر ڈالتا تھا اور اسکولی روڈ کی بے راہروی کو بھول جاتا تھا۔
اسکولی روڈ پر سرسبز ہریالی اور گلابی ”حریانی“ کا حسین امتزاج ہماری جیپ کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا۔ میرے لئے یہ منظر بالکل نیا تھا اور میں پوری طرح اس منفرد منظر کے سحر میں مبتلا ہو چکا تھا۔ دونوں جانب آسمان کو چھو لینے کی کوشش کرنے والی گلابی گلابی چٹانوں کی ڈھلوانی سطح پر فطرت کے سنگتراش نے تجریدی آرٹ کے نمونے کندہ کر دیے تھے۔ ان نمونوں میں سب سے دلچسپ وہ لہریے تھے جو ساحل سمندر کی ریت پر لہروں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بننے والے نشیب و فراز سے مشابہ ہیں اور یہ عجیب و غریب لہریے اس طوفان عظیم کی تصدیق کرتے ہیں جس کے چرچے میں نے پچھلے سال وادیٔ چندہ کے ایک مولوی صاحب کی زبانی سنے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ کئی صدی پہلے سکردو اور وادیٔ روندو کی سرحد پر ایک انتہائی خوفناک لینڈ سلائیڈ نے دریائے سندھ پر مصنوعی بند باندھ دیا تھا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آج کل سکردو ڈیم تعمیر کیے جانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ اس ڈیم کا آئیڈیا غالباً اسی لینڈ سلائیڈ سے لیا گیا ہو گا۔ اس قدرتی بند کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیلاب عظیم نے سکردو سے کارگل تک کے علاقے کو ایک جھیل میں تبدیل کر دیا تھا اور سکردو وغیرہ دنیا کے نقشے سے غائب ہو گئے تھے، بالکل اسی طرح جیسے سکردو ڈیم بننے کی صورت میں غائب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسکولی کے راستے کی چٹانوں کے لہریے اس سیلاب کی باقیات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔
سکردو کارگل جھیل طویل عرصے تک قائم رہی۔ دریائے سندھ نے اپنا راستہ صاف کر لیا تو سرزمین بلتستان دوبارہ نمودار ہوئی اور رفتہ رفتہ آباد بھی ہو گئی۔ میں کیونکہ اس سیلاب کا تفصیلی تذکرہ سن چکا تھا اس لیے ان لہریوں کو دلچسپی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسکولی روڈ کی خواہش ہے کہ اس پر سفر کرنے والے صرف اسے اور اس کے منظور نظر دریائے برالدو کو دیکھیں، ادھر ادھر تاک جھانک کرنے کی کوشش نہ کریں۔ چند منٹ کی ”منہ ماری“ کے بعد بھی میں دوبارہ اسکولی روڈ کی طرف متوجہ نہ ہوا تو اس نے میرا دل دہلانے کے لئے ایک مرتبہ پھر برالدو سے محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔
اسکولی روڈ البتہ بالم جتنی ظالم نہیں ہے۔ ”مار“ اور ”پیار“ کے وقفوں میں انتہائی منصفانہ توازن قائم ر کھنے کے لئے دل دہلنے کے اختتامی مرحلے سے پہلے ایک وسیع اور پرسکون لینڈ سکیپ میں داخل ہو جاتی ہے۔
اسکولی روڈ پر سفر کرنا ایک یادگار تجربہ ہے جس کی سحر انگیزی کا اندازہ اسکولی روڈ پر سفر کیے بغیر ممکن نہیں۔
ایں جہان دیگر است۔ و دلکش است۔ و چشم کشا است۔ و پتا نہیں کیا کیا کشا است۔
اس روڈ پر سفر کرتے ہوئے میں ان لوگوں کی ”حماقت“ پر حیران ہوتا رہا جو جیپ ٹریک بننے سے پہلے یہاں سے گزرتے تھے۔ سنا ہے کسی زمانے میں کے۔ ٹو بیس کیمپ ٹریک سری نگر سے شروع ہوتا تھا اور زوجی لا، برزل پاس اور سکردو سے ہوتا ہوا تین ماہ میں کے۔ ٹو کے برفانی لبادے کو بوسہ دیتا تھا۔ اس وقت کاؤنٹ ابروزی جیسے سر پھرے یہاں تشریف لاتے تھے اور کے۔ ٹو سر کرنے کا نیا راستہ ”ابروزی رج“ دریافت کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ ایک سال بعد !
اس کے علاوہ کاشغر اور یارقند سے آنے والے تاجر حضرات بھی یہی راستہ اختیار کرتے تھے۔ وہ مستاغ پاس عبور کر کے چین سے بلتستان میں داخل ہوتے اور دریائے باشا کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے وادیٔ شوگر سے گزر کر براستہ سکردو کشمیر کی منڈی تک رسائی حاصل کرتے۔ یہ لوگ بھی خریدوفروخت سے فارغ ہو کر چائنا واپس چلے جاتے تھے۔ ایک سال بعد !
ان دنوں اسکولی روڈ بلتستان سے چین جانے کا مختصر ترین راستہ تھا۔


