آگے بڑھو


ناشتے کے بعد تیز قدموں سے سائیٹ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ان صاحب پہ سرسری سی نظر پڑی۔ لگا شاید انٹرویو کے لئے آئے ہوں۔ دفتری کارروائی کے بعد پتا چلا کہ موصوف کمپنی میں بطور نوآموز (ٹرینی) انجینئر تشریف لائے ہیں۔ گویا یونیورسٹی سے تازہ تازہ ہی نکلے تھے کہ غم دوراں نے آ لیا۔ ان کا حلیہ ان کے کام اور ذمہ داریوں کے بارے خیالات کی چغلی کھا گیا۔ اچھا سا پرفیوم ’جیلزدہ بال‘ کلائی میں چمڑے کا دست بند (بریسلٹ) ’پاؤں میں نئے جوتے۔ ان کی پہلی ہی عملی ذمہ داری کسی بھی طرح اس حلیے سے میل نہیں کھاتی تھی۔ ترس سا بھی آیا لیکن کر کچھ نہیں سکتے تھے کہ نئے صاحب نہ ہمارے شعبے میں تھے اور نہ ہی ہمارے زیر اثر۔

دوپہر کے وقفے میں کھانے کی میز پہ ہماری ملاقات نئے صاحب کے بڑے صاحب سے ہو گئی۔ باتوں باتوں میں دانستہ ذکر چھیڑا کہ نئے صاحب کو پہلے ہی دن مشقت میں ڈال دیا۔ آج کا دن صرف ’منہ دکھائی‘ شناسائی ’پذیرائی اور راہنمائی کے لئے رکھ لیتے اور کل سے باقاعدہ کام کا آغاز کراتے۔ تو ان کے بڑے صاحب حسب معمول اپنے مخصوص انداز میں فرمانے لگے کہ یہی وقت ہے پرکھنے کا۔ اس حلیے میں شکر دوپہر بیچنگ پلانٹ پہ سیمنٹ کی بوریاں گننے پہ لگایا ہی اس لئے ہے کہ اگر یہ لڑکا یہ پہیہ (مرحلہ) گزار گیا تو پھر کہیں نہیں جاتا‘ تب ہی اس پہ کام سکھانے کی محنت کی جائے گی اور اگر اس نے بھاگنا ہوا تو کل سے ہی نہیں آئے گا ’یوں استادی گیری کی مشقت سے بھی بچے رہیں گے۔

جیسے بات اور تاب میں محض نکتوں کا ہیر پھیر ہے ’ایسے ہی بڑے صاحب کے نقطے نے دماغ میں موجود ایک اور نکتے سے ٹکر لے لی تھی۔ ایک عزیز از جاں دوست نے حکایت سنائی تھی کہ بغداد کی کسی خانقاہ میں جب بھی کبھی نئے احباب حلقہ ادارت میں شامل ہونے کے لئے آتے تو انہیں باقاعدہ شمولیت سے قبل ایسے ہی چھوٹے چھوٹے مشاغل میں مشغول رکھا جاتا۔ اس سے نہ صرف ان کے نفس کی تکریم کا اندازہ ہو جاتا بلکہ یہ بھی پتا چل جاتا کہ باطنی زنگ کتنا ہے اور یہ کب تک اترے گا اور اس کی کس قسم کے محلول سے دھلائی کرنی پڑے گی تاکہ اندر کا صاف اور شفاف پن باہر دکھائی دینے لگے۔

دنیاداری کی کسی ذمہ داری کا آغاز ہو یا باطنی سفر کی شروعات ’ہر دو صورتوں میں امتحان سے گزارا جائے گا۔ کیا کہہ گئے دانائے راز کہ امتحاں اسی کا لیا جاتا ہے جس کی ترقی مقصود ہو۔ تو امتحاں میں کامیاب ہونے والا ہی اگلی سیڑھی پہ قدم رکھ پاتا ہے اور اسی پہ آگے بڑھنے کے راز آشکار کیے جاتے ہیں۔ جیسے ہر شخص اپنی ذات میں‘ اپنی سوچ میں اور اپنے آپ میں منفرد ہے۔ اسی طرح اناء اور میں کے خاتمے کے لئے بھی ہر کسی کے لئے الگ تربیت ہے۔ ضروری نہیں کہ جو عمل ایک کے لئے فائدہ مند ہو وہ دوسرے کے لئے بھی ہو۔

نفس کو کئی اقسام کی مشق سے نسق کیا جاسکتا ہے۔ سب سے زبردست اور عمل انگیز تربیت اپنے مخالفین کے لئے بھی بے ضرر ہو جانا ہے۔ دوسروں کی طرف سے ملنے والے نفع و نقصان پہ بے پرواہ ہو جانا ہے۔ بقول حضرت باہو:

مرن توں اگے مر گئے باہوؔ ’تاں مطلب نوں پایا ہو

خصوصاً آج کے اس دور میں یہ جملہ لکھنے ’بولنے اور کہنے میں جس قدر آسان اور سہل ہے اس پہ عمل اسی قدر مشکل اور کٹھن ہے۔ لیکن کیمیاء گر کی نگاہ کرم‘ مصمم ارادے کا بھرم اور آگے بڑھنے کا عزم یقیناً اس مشکل مرحلے سے بھی گزار دے گا۔ سو اٹھو ’کوشش کرو اور آگے بڑھو۔ معاف کرنا‘ بھول جانا ’ضد چھوڑ دینا اور سب کے لئے عموماً اور مخالفین کے لئے خصوصاً یہ عمل حاصل جستجو تک جلد پہنچا دے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “آگے بڑھو

  • 19/11/2023 at 11:34 صبح
    Permalink

    رن توں اگے مر گئے باہوؔ ’تاں مطلب نوں پایا ہو
    Hum bahi is kasab ko jheel hukaa.. Jub ka giaya ya telephone directory ha,,, har page ka sub total or phir puri directory ka total plz…\

Comments are closed.