کیا فلسفہ کی موت واقع ہو چکی ہے؟
دنیا کو سمجھنے کے لیے انسان نے سوچنا شروع کیا۔ سوچنے کے اس عمل میں اس پر دنیا کے بھید کھلتے چلے گئے، ایک سوچ کو دوسری سے مربوط کرنے کے لیے انسانی ذہن نے ہمیشہ کوئی تاویل مانگی، اسی تاویل کے مربوط سلسلے کو بعد میں لوگوں نے فلسفہ کا نام دیا۔ جو مربوط تاویل تھی اس کو لوگوں نے منطق یعنی لاجک کہا۔ لاجک کی بنیاد ہمیشہ شک سے شروع ہوتی ہے اور معلوم سچائی پر ختم ہوتی ہے۔ لیکن ہر دور کی معلوم سچائی حتمی نہیں تھی۔
آنے والے دور نے اس میں اضافہ کیا یا اس کو رد کر دیا۔ یہاں فلسفہ اور مذہب کا راستہ جدا ہو گیا۔ اس لیے کہ مذہب میں اضافہ اور رد کا دروازہ موجود ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے سینکڑوں برسوں تک فلسفہ اور مذہب آپس میں برسر پیکار رہے۔ لفظ ”فلسفہ“ یونانی ”فیلو“ اور ”صوفیا“ سے ماخوذ ہے، جس کا تقریباً مطلب ”حکمت سے محبت“ ہے، جسے بعض اوقات ”بصیرت کا دوست“ بھی کہا جاتا ہے۔ پھر جدید دنیا کا آغاز ہوتا ہے اور ان دونوں کی ضد میں ایک نیا علم آتا ہے جسے ہم سائنس کے نام سے جانتے ہیں۔
اس علم نے تصور سے دو قدم آگے بڑھ کر کسی بھی شے کی موجود صورت اور اس کی حیثیت کو موضوع بنایا اور اس کو عملاً ثابت بھی کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس علم کے پیمانے بھی بدلتے رہے۔ نئی دریافتوں نے اس کے گزشتہ بیانیے کو دفن کر دیا۔ یہ سب کچھ ترقی یافتہ دنیا میں ہوتا رہا اور ہو رہا ہے۔ تیسری دنیا کو ان سب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ نہ فلسفہ کو جانتے ہیں اور نہ ہی سائنس کو ۔ وہ توہمات اور اعتقادات کے جھگڑوں سے ابھی تک آگے نہ بڑھ سکے۔
تیسری دنیا کی دانش گاہوں میں سائنس اور فلسفہ کی لاش روز دفنائی جاتی ہے۔ اور ان لاشوں پر کروڑوں طالب علم اور لاکھوں اساتذہ ہفتے میں پانچ دن مسلسل ماتم کرتے ہیں۔ اپنے اس ماتم کو وہ مسلسل اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ فرق ترقی یافتہ اور ترقی پذیروں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جار ہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ سے تھا، قدیم ادوار میں ان خطوں میں بھی کچھ لوگ وقت سے آگے سوچ سکتے تھے۔ بول سکتے تھے اور لکھ بھی سکتے تھے۔ مگر چار سو برسوں سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ان خطوں میں سوچنے والا کیڑا مر گیا ہے۔ اس لیے جو جہاں سے بھی آتا ہے اسے پہلے قبول کیا جاتا ہے، پھر اس کو مار کر اس پر ماتم کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم ان کو چھوڑ کر ان کی بات کرتے ہیں۔ جو مسلسل ارتقا ء کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ تو جناب مغرب میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا فلسفہ کی موت واقع ہو گئی ہے؟ اس بحث کا آغاز اسٹیفن ہاکنگ کے اس دعوے سے ہوا کہ ”فلسفہ مر چکا ہے“ ان کا دعوی ہے کہ صدیوں تک فلسفے نے سائنس کے لیے راستہ دکھایا اور اب فلسفہ ”حقیقت“ کو جاننے کے لیے عملی طور پر غیر ضروری ہے۔
کیا ہم اب بھی فلسفے کے ساتھ سچائی تک پہنچ سکتے ہیں؟ ہمیں اب فلسفے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ہم صرف سائنس کے ذریعے مادے پر اعتماد اور جانچ کر سکتے ہیں ”۔ 2010 میں، پروفیسر ہاکنگ نے اعلان کیا کہ“ فلسفیوں کے بجائے سائنس دان ”ہماری علم کی تلاش میں دریافت کی مشعل کے علمبردار بن گئے ہیں“ ۔ یہ دراصل سائنس اور فلسفے کے درمیان کراس فرٹیلائزیشن کا نتیجہ گردانا گیا۔ جس نے آخر کار فلسفہ کی جان لے لی۔ یہ بحث ایسا نہیں ہے کہ اس صدی کی ہے۔
بہت پہلے مارکس نے اپنی ایک تصنیف میں کہا تھا کہ فلسفہ غیر حقیقت پسندانہ ہے اور زندگی کے زیادہ تر حصوں پر لاگو نہیں ہوتا، جبکہ جدید دور کے کچھ سائنسدان کہتے ہیں کہ فلسفہ بیکار ہے کیونکہ یہ جدید علوم کے مقابلے میں سائنسی نہیں ہے۔ لیکن پروفیسر ہاکنگ کا یہ دعوی بہت بڑا تھا اس لیے اس کا ردعمل بھی آنا تھا۔ تو فلسفہ کے پروفیسر بھی میدان میں آ گئے اور انہوں اس کی رد میں جو سب سے بڑی دلیل دی وہ یہ تھی کہ تین طاقتور ترین سائنسی مفکرین۔
چارلس ڈارون، البرٹ آئن سٹائن اور نوم چومسکی۔ بھی خاص طور پر ”فلسفیانہ طور پر خواندہ“ تھے۔ مگر اب حال یہ ہے کہ ”علم خود گہرائی اور پیچیدہ خیالات سے محروم ہو رہا ہے“ ۔ اور زیادہ تر کام مشینوں کے سپرد ہو رہے ہیں۔ ہاکنگ کا یہ بیان کہ ”فلسفہ مر چکا ہے“ بذات خود ایک فلسفیانہ بیان ہے، تجرباتی نہیں۔ تو یہ بیان دے کر ہاکنگ فلسفہ کر رہے ہیں۔ لہذا جب تک وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے فلسفہ مردہ نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ مسئلہ تسلسل کا ہے۔
ہم فرض کرتے ہیں کہ ذہانت کسی نہ کسی طرح مسلسل جاری ہے۔ کچھ زیادہ ذہین بنا کر ہم انسان تک پہنچ جائیں گے یا انسانی ذہانت سے بھی آگے۔ دریافت متواتر ہے۔ تو ، ذہانت بھی ہونی چاہیے۔ تسلسل کا ظہور ہماری موجودہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کو فٹ کرنے سے آتا ہے۔ دریافت بنیادی طور پر بنیادی زبان کو تبدیل کرتی ہے اور پھر ایک نیا تسلسل تیار ہوتا ہے۔ لہذا، ایک مختصر مدت میں سائنسی ترقی کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر مسلسل نظر آئے گا، تاہم، طویل عرصے میں، وقفہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
پروفیسر ہاکنگ فلسفے کے بارے میں صرف فزکس کی دائرے سے سوچتے ہیں، بشمول جدید فلسفہ، ان کو شاید یہ غلط فہمی تھی جو کہ غیر فلسفیوں کو ہے کہ فلسفہ جمود کا شکار ہے۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ نئے فلسفوں کو پرانے فلسفوں کی اتنی توجہ نہیں ملتی۔ ایسا نہیں ہے کہ پرانے خیالات جیسے جیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں انہیں باہر پھینک دیا جائے، لوگ قدیم فلسفوں کو سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کے لیے اس پیشرفت کو دیکھنا مشکل ہے۔
جبکہ فزکس میں نئے آئیڈیاز اکثر پرانی تھیوریوں کو ضائع کرنے کا باعث بنتے ہیں اور زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں۔ پروفیسر ہاکنگ کی کتاب کے شائع ہونے کے بعد سے اس کے بارے میں بہت چرچا ہے۔ عام طور پر فلسفے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہاکنگ کو غلط سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ ان کی ذہن میں مابعدالطبیعات تھا۔ اس صورت میں، ہاکنگ کی شکایت جیمز لیڈی مین اور ڈان راس کی ”ایوری تھنگ مسٹ گو“ میٹا فزکس نیچرلائزڈ ”سے مختلف نہیں ہے۔
تاہم یہ کتاب مابعدالطبیعات میں ایک کام کی ایک مثال بھی پیش کرتی ہے جو فلسفیوں کے ترجیحی ادراکات پر ’حقیقی موجودہ سائنس‘ پر مبنی ہونا چاہتی ہے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ“ ایوری تھنگ مسٹ گو ”“ دی گرینڈ ڈیزائن ”سے ایک سال پہلے شائع ہوئی تھی۔ مغرب میں یہ بحث بہت پرانی ہے کہ فلسفی ایک ناممکن مشن پر ہوتے ہیں، بہت بکواس کرتے ہیں اور کبھی کوئی جواب نہیں پاتے۔ فلسفی صرف ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہیں، لوگوں تک نہیں پہنچتے، اور کسی چیز کی قدر نہیں کرتے۔
علمی فلسفی بہت زیادہ جوہری، تجزیاتی اور بڑی تصویر کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے موٹے الفاظ میں، پرانے تصور کے مطابق۔ مثال کے طور پر (عظیم) مغربی فلسفیوں کے۔ علم کے شعبوں میں دو طرح کے مسائل ہیں : ضروری، عظیم، آفاقی، اور غیر ضروری، نیم حادثاتی مسائل۔ اور اس کے خلاف ہمارا تصور ہے کہ، کہ علم کے میدان میں“ مسئلہ ”کے معنی میں کوئی بڑا، ضروری مسئلہ نہیں ہے۔ مغرب میں اب فلسفے کے سارے پرانے نظریات بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس لیے کہ وہاں، میٹا اور مصنوعی ذہانت نے وہ سارے بت گرا دیے ہیں جو فلسفیوں نے کھڑے کیے تھے۔ اس لیے کہ فلسفے نے مذہب کی ضد میں ہی اپنا زیادہ زور صرف کیا اور کائنات سے اس کی توجہ ہٹ گئی۔ جبکہ سائنس نے مذہب کو چھوڑ کر کائنات اور مادہ پر توجہ مرکوز رکھی۔ یوں ان میں دوری پیدا ہوتی گئی اور بل آخر مادہ اور وقت سے شغف رکھنے والے سائنس دانوں نے ان فلسفیوں کی ذہنی اختراعات کو عملاً غلط ثابت کر دیا اور کائنات کی گتھی جوں جوں کھل رہی ہے، سائنس کی صداقت اور فلسفے کے تابوت میں کیلیں ٹھونکتی جا رہی ہے۔
کاسمولوجی اور میٹا فزکس۔ جو ’تجرباتی سائنس‘ سے ماورا ہیں۔ ان کو عملاً سمجھنے کے بجائے فلسفیوں نے خود ساختہ کائنات بنائے جسے اب سائنس دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔ دراصل فلسفہ کائنات کے راز جاننے کی کوشش کر نہیں رہی تھی بلکہ وہ مذہب اور مذہبی اعتقادات کا جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ جس میں کائنات کی ہر اس صورت کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جو کسی مذہبی بیان سے سامنے آیا۔ اب حقیقت کھل رہی ہے کہ کائنات تو کچھ اور ہے اور جو بتایا گیا تھا اس سے کہیں زیادہ مختلف اور وسیع ہے۔
اور انسان کے اس قدیمی تصور سے بالکل مماثل نہیں ہے۔ چونکہ سائنس کی ترقی کی رفتار گزشتہ صدی میں تیز رہی ہے مگر میٹا اور مصنوعی ذہانت نے تو اس رفتار کو دس ہزار گنا بڑھا دیا ہے۔ اب جو جینٹیک سائنس ممکن نظر نہیں آ رہی تھی اس پر بھی انسان کی قدرت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ فلسفہ تو اس حد تک سوچ سکتا تھا جو انسان کے اجتماعی لاشعور میں تھا۔ سائنس نے گزشتہ چند برسوں میں جو ترقی کی ہے یا سچائی تک جو رسائی حاصل کی ہے وہ گزشتہ تمام فلسفیانہ مفروضوں کو رد کرتی ہے۔
اور آنے والے چند برسوں میں کیا ہو گا اس کا تصور آج بہت مشکل ہے۔ یہ سب مغرب میں ہو رہا ہے اور وہاں کی اکیڈیمیہ اس کی پیداوار، دریافت و ترویج میں مصروف ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے مسائل اب بھی مزاروں اور پیروں کی کرامات سے حل ہوتے ہیں۔ بلکہ ہمارا تو ملک بھی گزشتہ چند برسوں میں“ عملیات ”اور وظیفوں کے سہارے چل رہا تھا۔ مغرب ترقی کر کے فلسفے سے سائنس اور سائنس سے میٹا اور مصنوعی ذہانت تک پہنچ گیا ہے اور ہم مزار، دربار اور سرکار کے گول چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ہمارے تعلیمی ادارے بھی اب مزار اور دربار بن چکے ہیں۔ جہاں ہر برس لاکھوں ڈگریوں کی پرساد ملتی ہے۔ یہاں فلسفہ، سائنس دونوں مر چکی ہیں۔ البتہ مغرب میں سائنس کا فلسفہ ابھی زندہ ہے۔ قدیم تصورات اور اعتقادات کا فلسفہ مر گیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دفین ابھی باقی ہے۔ ویسے بھی مغرب میں تدفین فوری نہیں ہوتی اس کے کچھ آداب ہیں اور رسومات ہیں۔ جن میں کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ ہمارے جیسے نہیں ہیں کہ جھٹ پیدا کیا اور پٹ دفناً دیا۔


